ادبغزل

کہا میں نے مری آنکھوں میں پانی ہے

جواب آیا محبت کی نشانی ہے

افتخار راغبؔ

کہا میں نے مری آنکھوں میں پانی ہے

جواب آیا محبت کی نشانی ہے

کہا میں نے لگی دل کی بجھانی ہے

جواب آیا یہ آتش جاودانی ہے

کہا میں نے کھِلیں گے کب وفا کے پھول

جواب آیا ابھی موسم خزانی ہے

کہا میں نے کہ ہر لمحہ سسکتا ہوں

جواب آیا کہ الفت تو نبھانی ہے

کہا میں نے ستم اتنا نہیں اچھّا

جواب آیا محبت آزمانی ہے

کہا میں نے متاعِ زیست یعنی توٗ

جواب آیا یہاں ہر چیز فانی ہے

کہا میں نے کہ اِتنے کیوں گریزاں ہو

جواب آیا تمھاری مہربانی ہے

کہا میں نے کہ دیکھ اِن سرخ آنکھوں میں

جواب آیا محبت آسمانی ہے

کہا میں نے خموشی مار ڈالے گی

جواب اُن کا مکمل بے زبانی ہے

کہا میں نے مری غزلوں کی جاں ہو تم

جواب آیا تمھاری خوش گمانی ہے

کہا میں نے محبت محورِ ہستی

جواب آیا بلائے ناگہانی ہے

کہا میں نے سناؤ حالِ دل راغبؔ

جواب آیا بہت لمبی کہانی ہے

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close