ادبغزل

کہیں بھی جلتا مکان اپنا گھر لگے ہے مجھے

احمد علی برقیؔ اعظمی

نہیں ہے غیروں سے اپنوں سے ڈر لگے ہے مجھے

یہ عہدِ نو کا بشر جانور لگے ہے مجھے

ہمیشہ خوف کے سائے میں جی رہا ہوں میں

‘‘ کہیں بھی جلتا مکان اپنا گھر لگے ہے مجھے’’

امیر شہر کا دعوی ہے یہ ہیں سب خوش حال

غریب شہر مگر دَر بدر لگے ہے مجھے

یقین کس پہ کروں سب ہوں جیسے دشمنِ جاں

جو چارہ گر تھا وہی فتنہ گر لگے ہے مجھے

غزل کی دُھن میں وہ کرتا ہے مرثیہ خوانی

جسے بھی دیکھیے وہ نوحہ گر لگے ہے مجھے

چمن میں غنچہ و گل ہیں خزاں کے زیر اثر

یہ نخل دِل بھی میرا بے ثمر لگے ہے مجھے

عروج جب سے ہوا ہے میرا زوال پذیر

 کبھی ادھر تھا جو برقی ؔاُدھر لگے ہے مجھے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

2 تبصرے

  1. ناشرِ علم و ادب ہے یہ مضامیں ڈاٹ کام
    اپنے رشحاتِ قلم سے کیوں نہ ہو یہ نیک نام

    تجزئے ہوں اس کے اربابِ نظر میں معتبر
    ہو صحافت کے جہاں میں قابلِ صد احترام

    ملک و ملت کے مسائل کا بھی ہے یہ ترجماں
    اس لئے اربابِ دانش میں ہے برقی نیک نام
    احمد علی برقی اعظمی

    1. قابلِ صد احترام استاذ احمد علی برقی اعظمی صاحب۔ مضامین ڈاٹ کام پر آپ کے گراں قدر کلام کے لیے ادارہ ممنون ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close