ادبدیگر نثری اصناف

کیرالا میں اُردو شاعری

کیرالا کی عام بولی ملیالم ہے، یہاں اُردو کسی مادری زبان نہیں ہے۔ پھر بھی اُردو کا ذوق و شوق اور شعر و شاعری کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

کے۔ پی۔ شمس الدین ترورکاڈ

کیرالا میں اُردو زبان کی آمد تقریباً سولہویں صدی میں ہوئی۔ یہاں قبضہ کرنے آئے ہوئے پرتگالیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے کالی کٹ کے راجہ سامودری اپنی فوج کی مدد کے لیے بیجاپور کے عادل شاہی سلطنت سے مدد کی درخواست کی۔ عادل شاہی فوج مدد کے لیے کالی کٹ آئے اور جنگ کے خاتمے کے بعد کئی لوگ کالی کٹ میں ہی بس گئے۔ ان کی مادری زبان اُردو تھی۔ یہیں  سے اُردو کے چند الفاظ ملیالم زبان میں استعمال ہونے لگے۔ کیرالا میں اُردو کی ترقی و ترویج ٹیپو سلطان کے دور میں ہوئی کیرالا کے پیش تر حصّے ٹیپو کے زیر حکومت تھی۔ ان کی فوج اور عہدیدار ان کیرالا کے کئی حصّوں میں پھیل گئے اور یہیں بس گئے تھے ان کی مادری زبان اُردو تھی اس دور سے کیرالا میں اُردو کا چلن عام ہونے لگا اور سینکڑوں اُردو الفاظ ملیالم میں داخل ہوئے۔

اُردو زبان کیرالا میں بول چال کی حد تک ہی اس لیے اس کا ادبی حلقہ اتنا وسیع نہ تھا جتنا کہ دوسری ریاستوں میں ہے۔ کیرالا میں اُردو کو عام کرنے اور اُردو زبان کی تعلیم کے لیے حیدرآباد کے نظام ٹرسٹ مالی امداد اور اساتذہ کرام کو بھی فراہم کیا کرتے تھے۔ اسی دور میں آہستہ آہستہ شعر و شاعری کا ذوق کیرالا میں پیدا ہونے لگا۔

کیرالا کے واحد مسلم شاہی خاندان کے سلطنت ارکّل، جن کی حکومت کنّور میں تھی۔ حیدرآباد کے نظام سے ان کے قریبی مراسم تھے۔ انّیسویں صدی میں ارکّل سلطان کے دربار میں قوّالی اور نعت گوئی کا چلن تھا جس کے لیے حیدرآباد سے شعراء قوّال اور گوئیے آیا کرتے تھے۔ مدراس پریسی ڈینسی میں میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے نوکری کرنے والے حیدرآباد کے ڈاکٹر نواز کلیم ان قوّالوں میں سے تھے جنہیں نظام حیدرآباد ذاتی طور پر قوّالی کے لیے دوسرے صوبوں میں بھیجا کرتے تھے۔ کنّور کے ارکّل سلطان کے سربار میں نواز کلیم اسی طرح قوّالی پیش کرنے آئے اور یہیں بس گئے وہ شاعر بھی تھے۔ ۱۹۳۰؁ء میں تخت نشین ہونے والے ارکّل سلطان عبدالرحمن علی راجہ موسیقی اور شعر و شاعری کے بڑے دلدادہ تھے ان کے دور میں بھی کافی شعراء یہاں آیا کرتے تھے علی راجہ غزل اور قوّالی کے بڑے عاشق تھے۔ نواز کلیم کے فرزند عبدالقادر کلیم ہندوستانی موسیقی سے اچھی طرح واقف تھے ذوقاً شعر و شاعری کرتے تھے۔ ان کا تعلق بھی ارکّل دربار سے تھا۔ ان کے بیٹے چاند پاشاہ حال ہی میں انتقال کر گئے۔ چان پاشاہ کیرالا میں محتاج تعارف نہیں تھے انہوں نے کئی اُردو نغموں کو ہندوستانی موسیقی کے دھن سے سجایا چاند پاشاہ شعر و شاعری سے بھی شغف رکھتے تھے۔ کیرالا میں اُردو کی ترقی و ترویج میں یہاں بسے ہوئے میمن حضرات کا کافی حصہ ہے۔ کوچین اور تلاشیری میں میمن خاندان برسوں سے رہتے آ رہے ہیں۔ میمن حضرات اپنی زبان کے ساتھ اُردو بھی استعمال کرتے ہیں کیرالا کے سیاسی میدان میں بھی نا کا اچھا خاصہ رول رہا ہے۔

بیسویں صدی میں تلاشیری مسلم سیاسی میدان کا گہوارہ تھا۔ اس وقت کے مشہور سیاسی اور سماجی کارکن حاجی عبدالستار اسحق سیٹھ اُردو کی ترقی اور ترویج کے لیے کافی محنت کیے۔ اسی دوران ملابار کے سیاسی حالات کے جائزہ لینے  ۱۹۳۰ ؁ء میں لاہور سے شائع ہونے والے  ’زمیندار‘  اخبار کے مالک و مدیر مولانا ظفر علی خان کیرالا کا دورہ کیے تھے کالی کٹ تلاشیری کا دورہ کرکے اپنے اخبار میں ایک طویل نظم لکھے تھے جس کے چند اشعار درج ذیل ہیں :

گر عرب کے نقش پاکی شوخیوں کی ہے تلاش

وندھیا چل کو الانگ اور نربدا کے پار چل

نارجیلستان میں نخلستانِ بطحیٰ کا سماں

دیکھنا ہے گر ان آنکھوں سے تو ملابار چل

مسلم لیگ کے نامور رہنما ستار سیٹھ اور ان کے رفقاء  ۵؍ ستمبر   ۱۹۳۱ ؁ء کو تلاشیری میں ’انجمن اصلاح اللسان‘  کے نام سے ایک انجمن قائم کیے یہاں اُردو کی تعلیم دی جاتی تھی ابراہیم سلیمان سیٹھ، موسیٰ ناصحؔ، اسحق فقیرؔ جیسے شخصیات اس انجمن سے وابستہ تھے۔

ابراہیم سلیمان سیٹھ اس دور میں کافی نظمیں اور غزلیں لکھیں کئی ایک اُردو اخباروں میں شائع بھی ہوئیں وہ اپنا تخلص کوثرؔ کرتے تھے۔

موسیٰ ناصح اپنی شاعری اور فصیح زبان سے کافی مشہور ہوئے انہوں نے کئی غزلیں، تہنیت نامے وغیرہ لکھے مگر افسوس کہ ان کا کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا اور نہ کسی نے ان کے کلام کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے نظم ’تہنیت‘  سے چند اشعار پیش ہیں ـ:

مبارک ہو یہ شادی خانہ آبادی مبارک ہو

یہ رنگین عہد و پیمان وفاداری مبارک ہو

یہ جشن نوعروسی یہ خوشی یہ محفل آرائی

یہ تقریب طرب یہ بزم زیبائی مبارک ہو

انجمن اصلاح اللسان کے سکریٹری محمد اسحق اُردو کو عام کرنے کافی دوڑ دھوپ کیے۔ انہیں کی کاوشوں سے برسوں پہلے آل کیرالا اُردو کنونشن بھی منعقد کیا گیا تھا۔ محمد اسحق وقتاً فوقتاً شعر و شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ وہ اپنا تخلص فقیرؔ کرتے تھے۔

اپریل  ۱۹۳۸ ؁ء میں انجمن اصلاح اللسان کے زیر نگرانی ایک اُردو رسالہ  ’نارجیلستان‘  کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس کے مالک عبدالکریم سیٹھ اُردو کے اچھے شاعر تھے۔ کئی غزلیں انہوں نے لکھیں اور رسالوں میں بھی شائع ہوئیں۔ وہ اپنا تخلص اخترؔ رکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں :

مدتوں سے بڑھ رہا تھا دردِ الفت آپ کا

بڑھتے بڑھتے میرے دل کا یہ بھی ارماں ہوگیا

جل اٹھے داغِ جگر اخترؔ نو سوزِ عشق سے

ذرّہ ذرّہ میرے دل کا مہر تاباں ہوگیا

’نارجیلستان‘  کے شائع ہونے سے کئی شعراء کو اس میں لکھنے کا موقع ملا۔ اس کے مدیر سید ہارون بھی شاعر تھے۔ اس دور کے ایک اور شاعر جانی سیٹھ جو کہ کوچین میں رہتے تھے۔ وہ اپنا تخلص شوقؔ رکھا کرتے تھے۔ جانی سیٹھ کی پوتی زُلیخا حُسین کیرالا کے واحد ناول نگار ہیں جو ستائیس ناول لکھ کر شہرت کی بلند پر پہنچیں۔ جانی سیٹھ سیماب اکبر آبادی کے شاگرد بھی تھے۔ ۱۹۳۸ ؁ء میں سیماب اکبر آبادی کیرالا کا دورہ کرکے یہاں اُردو کی ترقی دیکھ کر بول اٹھے:

وسعتیں مل جائیں گی اُردو کو اس میدان میں

باثمر ہوگی یہ کوشش نارجیلستان میں

تلاشیری میں میمن حضرات کی تعمیر کردہ علی حاجی مسجد کافی مشہور اور پرانی ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں یہاں طاہر محمد موسیٰ عرف بچو سیٹھ کی یادگار اور مغفرت کے لیے ایک کنواں کھودا گیا۔ آج بھی یہ کنواں موجود ہے۔ اس پر بھی اُردو میں شعر کندہ ہے:

دعا پر مرحوم بخش کی مانگیں

یہ بانی کی سب سے گذارش یہی ہے

ہمیں بخشے حق سال مائل اس کا

کیا یاد تو خوبتر بن گئی ہے

تلاشیری میں ستار سیٹھ کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران کئی نامور شخصیت جیسے نواب صدیق، لیاقت علی خان، یوسف ہارون، بہادر یار جنگ، مولانا ظفر علی خاں، مولوی عبدالحق، جمال محمد وغیرہ کالی کٹ اور تلاشیری کا دورہ کیا کرتے تھے۔ میزبانی ستار سیٹھ کے بنگلے پر ہی ہوتی تھی۔ عشائیہ کے بعد مشاعرہ کا انعقاد بھی ہوا کرتا تھا۔ ان مشاعروں میں کیرالا اور بیرونی ریاست کے شعراء بھی ہوا کرتے تھے۔ ریاست کیرالا میں مشاعروں کی شروعات یہیں سے ہوئی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس زمانے میں تلاشیری میں ایک شاعرہ بھی رہا کرتی تھی۔ عائشہ نام اور تخلص حیاؔ، شادی کے بعد اہل خاندان کے ساتھ تروننتاپورم چلی گئیں۔

عائشہ حیاؔ کی قریبی سہیلی محمودہ کو عائشہ کی قربت کی وجہ سے شعر و شاعری کا ذوق پیدا ہوا۔ لاہور سے شائع ہونے والے  ’تہذیب النساء‘  اور دوسری کئی  رسالوں میں انگریزی نظموں کا ترجمہ کرکے شائع کرواتی تھیں۔  ۸۴؍ سالہ محمودہ ابراہیم سلیمان سیٹھ صاحب کی خالہ زاد بہن ہیں۔ فی الوقت میسور میں مقیم ہیں۔

ایک زمانے میں تروننتاپورم میں اُردو کا بول بالا تھا۔ وہاں کے راجہ اور آرکاٹ نوابوں کے درمیان قریبی تعلقات تھے۔ گمنامی کے اندھیروں میں کھونے والے تروننتاپورم کے شعراء میں صرف عبدالحمید کے متعلق چند حقائق ملتے ہیں۔ عبدالحمید اپنا تخلص قریشؔ کرتے تھے۔ نعتیہ شاعری میں قریشؔ کا اپنا ایک الگ مقام تھا۔ ان کے اشعار ہیں :

امت نبی ﷺ کا درجہ ہے دین بے دین وہ کیا جانے

حقیقت میں گھر ہے اس کا دوزخ کو وہ کیا جانے

قریش کے دل میں ہر دم نبی ﷺ کا ایمان ہے

دامن نبی ﷺ کا جو پکڑ لے بیڑا اس کا پار ہے

قریشؔ نے کئی مرثیہ بھی لکھے ہیں۔ وہ اپنے نعت کا مجموعہ شائع کرنا چاہتے تھے۔ اپنی آرزو پوری کیے بغیر  ۱۹۶۸؁ء میں انتقال کرگئے۔

کیرالا میں سب سے بڑے مشاعرہ کا انعقاد  ۷؍ نومبر  ۱۹۴۳ ؁ء کو کالی کٹ میں ہوا تھا۔ یہاں ایک اُردو کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کے صدارتی خطبے کے لیے دہلی سے بابائے اُردو مولوی عبدالحق تشریف لائے تھے۔ اسی کانفرنس میں  ’انجمن ترقی اُردو‘  ملابار شاخ قائم کی گئی۔ کانفرنس کے احتتام کے بعد حمایت اسلام ہال میں مشاعرے کا پروگرام ہوا تھا۔ جس میں بابائے اُردو مولوی عبدالحق کے علاوہ اس محمڈن کالج کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالحق، محویؔ، اسرارؔ اور شبرؔ جیسے شعراء کے ساتھ ساتھ بنگلور اور میسور کے شاعروں کا ایک جھرمٹ بھی تھا۔ کیرالا کے جواں شاعر سید محمد سرورؔ بھی شریکِ محفل تھے۔ ایس۔ ایم۔ سرورؔ نے دونوں عبدالحق کے استقبال میں چند اشعار پیش کیے:

ہند کے ہر فرد کو باہم ملانے کے لیے

گلشنِ اُردو کے محسن باغباں آہی گئے

دونوں حق محوی و اسرارؔ اور شبرؔ آئے ہیں

یعنی اُردو کے یہ سب روحِ رواں آہی گئے ہیں

مشاعرے میں  مولوی عبدالحق صاحب کو ہی لوگوں نے میرِ مشاعرہ بنایا اور تبرکاً ان سے شعر بھی پڑھوایا:

گوپیر ہیں پہ دل سے ہمیشہ جواں رہے

گل کی طرح شگفتہ رہے ہم جہاں رہے

دو دن بعد ۹؍ نومبر کو مولوی عبد الحق صاحب چند رفیقوں کے ساتھ ملاپرم پہنچے۔

 یہاں کے سرکاری مسلم ہائی اسکول میں ستّر طلبہ اختیاری مضمون کے طور پر اُردو اختیار کیا گیا تھا۔ مولوی عبدالحق کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک ماپلا بچے نے اُردو میں نظم پڑھی:

ہے شہد سے بھی میٹھی اُردو زباں ہماری

سچ پوچھے تو یہ ہے تسکین جاں ہماری

دل کا سُرور ہے یہ آنکھوں کا نور ہے یہ

اُردو زباں کے ہم ہیں اُردو زباں ہماری

اسی ملاپرم کے سرکاری مسلم اسکول میں  ۱۹۴۴ ؁ء میں سرورؔ صاحب بطور اُردو معلم نوکری کرنے لگے۔ ایس۔ ایم۔ سرورؔ کیرالا کے واحد شاعر ہیں،  جنہوں نے  ’ارمغانِ کیرالا‘  اور  ’نوائے سرور‘  کے نام سے دو شعری مجموعہ شائع کیے۔ سرورؔ کی شاعری سے سارے ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ عالم اُردو میں کیرالا کا نام روشن ہونے لگا کیوں کہ  ۱۹۴۷ ؁ء کی تقسیم ہند کے سانحے کے بعد جس طرح دوسری ریاستوں میں اُردو پر مصیبتیں ٹوٹ پڑیں اسی طرح کیرالا میں بھی اُردو کو تنگ نظری کا شکار ہونا پڑا۔ ایسے دور میں سرورؔ اپنی شاعری سے اُردو دنیا کو کیرالا کی طرف متوجہ کردیا۔ سرورؔ کہتے ہیں :

ہند کی انگشتری کا ہے نگینہ کیرالا

ہے کئی اشیائے نادر کا خزینہ کیرالا

تم کہو کشمیر کو فردوس بر روئے زمین

میں کہوں ہے کیرالا فردوس سے بڑھ کر کہیں

مولانا ابوالحسن ندوی سرورؔ کے ’ارمغانِ کیرالا‘  کا مطالعہ کرنے کے بعد کہتے ہیں :  ’’زبان بھی خوب ہے اور نظم پر قدرت بھی۔ آپ نے طبیعت بھی موزوں پائی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اقبالؒ کو زیادہ سے زیادہ پیش نظر رکھیں ‘‘

علامہ اقبالؒ پر شاعری کرتے ہوئے سرور کہتے ہیں :

شرابِ عرفاں بھری ہے جس میں وہی مقدس ہے جام تیرا

سب اس کو پی کر ہوئے ہیں بے خود سبھی کے لب پر ہے بام تیرا

تجھے بھی حاصل ہوں زندگی میں شرابِ اطہر کے چند قطرے

خدا سے ہر دم یہی دعا ہے بر آئے سرورؔ مرام تیرا

علامہ اقبالؒ کے فرزند جاوید اقبال سرورؔ کو خط لکھ کر ان کے شعری مجموعے کی ستائش کی تھی۔ اترپردیش اُردو اکیڈمی سرورؔ کو عزت بخشتے ہوئے ایوارڈ اور سند سے بھی نوازا ہے۔ سرورؔ کے شعری مجموعے کی مطالعے کے بعد محوی صدیقی، ارشد صدیقی، ساغر مہدی، سلیمان اختر جاوید، پروفیسر محمد کمال الدین، عبدالماجد دریابادی، ڈاکٹر صفدر آہ، مخمور سعیدی، شمیم حنفی جیسے شخصیتوں نے کافی ستائش کی ہے۔ شارب ردولوی تو کہتے ہیں کہ  ’’سرورؔ کی حیثیت شاعر اور مترجم سے زیادہ بڑی ہے۔ میری نگاہ میں وہ کیرالا کے بابائے اُردو ہیں ‘‘

سرورؔ کا تعلق ضلع ملاپرم سے تھا۔ اسی ضلع کے مشہور گاؤں ترور میں سیّد نورالدین ایک شاعر گزرے ہیں۔ نورالدین کاروباری آدمی تھے۔ نورالدین بڑے ہی عشقیہ انداز میں شعر کہا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنا تخلص بے چین ؔکیرلوی رکھا تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں انہوں نے نظمیں، غزلیں وغیرہ لکھیں۔ بدقسمتی کہے کہ ایک حادثے کے دوران اپنا تمام کلام کھو بیٹھے۔ اُردو کی مخالف کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر بے چینؔ کیرلوی کہتے ہیں :

مٹانے والوں سے کہہ دو کہ مٹ گئے لاکھوں

زبان اُردو مٹانا کوئی مذاق نہیں

۸؍  ستمبر  ۱۹۹۱ ؁ء میں کیرالا کے محبانِ اُردو نے مل کر انجمن ترقی اُردو (ہند) کیرالا شاخ قائم کی۔ جناب عبدالصمد صمدانی صاحب کو صدرکی حیثیت سے چن لیا گیا۔ اس جلسے کے افتتاحی پروگرام میں کل ہند انجمن ترقی اُردو (ہند) کے جنرل سکریٹری خلیق انجم یہاں تشریف لائے تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس جلسے میں بھی مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے سرورؔ صاحب ہی نے اپنے اشعار پڑھے تھے:

دیکھ آئے ہو جہاں بھر کے نظارے تم یہاں

کیرالا کا سا نظارا تم نے دیکھا ہے کہاں

چھپ گئے ہیں آسماں پر کیوں ستارے کیا خبر

ہیں یہاں اس انجمن میں چند انجم جلوہ گر

داد خواہی کی تمنا ایک دن بر آئے گی

کاوشیں تیری یہ سرورؔ رائیگاں نہ جائے گی

کیرالا کی موجودہ شاعروں میں مقبول ترین شاعر جناب این۔ محی الدین کُٹی اس طویل نظم کی تضمین لکھ کر اپنی شاعری کا فن عام لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ محی الدین کُٹی اپنا تخلص محرومؔ کرتے ہیں۔ ان کی تضمین میں سے چند اشعار ذیل میں عرض ہیں :

کاوشیں تیری اے سرورؔ رائیگاں نہ جائیں گی

کوششیں تیری سنحنور جاوداں رہ جائیں گی

تو اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

کارواں در کارواں پھر سے یہاں نکلائیں گی

دل میں یہ چاہت ہے محرومؔ حق ادا کر جائیں گے

شاگردی کا ہے یہ حق ہم کیا ادا کر پائیں گے

محی الدین کُٹی کی نظمیں اخبارات میں شائع ہوا کرتی ہیں۔ کیرالا کی درسی کتابوں میں بھی ان کی لکھی ہوئی نظمیں ہیں۔ محی الدین کُٹی اور حمید کاراشیری مل کے بچوں کے لیے نظموں کا مجموعہ  ’پیاری پیاری نظمیں ‘  شائع کیے ہیں۔ دو حصّوں پر مشتمل اس مجموعہ کے ایک حصّہ میں منتخب شدہ نظمیں اور دوسرے حصّے میں دونوں شعراء کے تخلیق شدہ نظمیں ہیں۔ حمید کاراشیری بچوں کے لیے نظمیں لکھتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں کالی کٹ سے کے۔ ٹی۔ عبدالرشید نے بچوں کے لیے منتخب شدہ نظموں کا مجموعہ  ’پھلواری‘  کے نام سے شائع کیا ہے۔ کیرالا کے دوسرے موجودہ شعراء میں عبدالرحمن کنیل، عبد الرحمن آوازؔ جیسے شاعر بھی ہیں۔ عبدالرحمن آوازؔ شاعری سے زیادہ نغمگری میں اپنا فن دکھائے ہیں۔ ان کی دو نظمیں ’جوانی‘  اور  ’سمندر ‘  کافی مشہور ہے۔ عبدالرحمن کنیل کی تازہ ترین نظم  ’سُنامی‘ کے چند اشعار پیش ہیں :

ہائے سونامی زور سے آئی

پھن لہرا کے سامنے آئی

موجیں سخت ہولناک آئیں

لہرے تنگ الم ناک آئیں

نگل لیا ان معصوموں کو

روند دیا ان مجبوروں کو

عبدالرحمن آوازؔ کے تازہ کلام سے چند اشعار ملاحظہ فرمایئے:

چند لاکھوں کی چمک میں تم بھول گئے تمام

اپنے خاندان کے شہیدوں کو کر دیا بد نام

قاتل کو مسیحا کہنا آسان کام نہیں

قول کا پاس ہو تم ملنا ضرور ہے انعام

جواں شاعروں میں شاعری کے میدان میں عمر کے لحاظ سے اُردو کے کم سن شاعر فیصل زعیم اپنی شاعری کا کمال دکھا رہے ہیں۔ جنہوں نے اب تک تین قلمی شعری مجموعہ  ’طفل بہار‘  طلوعی حرکت، شعلہ شائع کیے ہیں۔ دہلی کے غالب اکیڈمی اور بنگلور کے شعراء سے اپنی شاعری کی اصلاح کراتے ہیں،  فیصل کے چند اشعار پیش ہے:

کیسا گناہ گار ہو جاتا ہوں میں

خدا سے جو فرض ہے بھول جاتا ہوں میں

دید کے ذریعے دل پہ بٹھا دیا میں نے اسے

تھا مرا قاتل جو نہ سمجھ سکا ہوں میں

کیرالا اُردو ٹیچرس ایسوسیشن کے ترجمان سہ ماہی رسالہ  ’اُردو بلیٹن‘  کیرالا کے شعراء کو لکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ شوقیہ طور پر شاعری کرنے والوں کا کلام بھی ہمیشہ اس میں شائع کیا جاتا ہے۔ عبدالرحمن کنیل اور فیصل زعیمؔ کی کئی نظمیں اور غزلیں  ’اُردو بلیٹن‘  میں شائع ہو چکی ہیں۔

ذوق و شوق یا برائے دلی تسکین شعر و شاعری کرنے والوں میں فاروق کالج (کالی کٹ) کے سابق صدر شعبہء اُردو جناب قدرت اللہ صاحب تخلص ثاقبؔ، سر سیّد کالج (تلی پرمبا) کے صدر شعبہء اُردو یعقوب شریف صاحب تخلص نادرؔ اور تلاشیری برنن کالج کے سابق صدر شعبہء اُردو میر احمد علی تخلص خورشیدؔ وغیرہ مشہور ہیں۔ کبھی کبھارنا چیز بھی اس میدان میں طبع آزمائی کی کوشش کیا کرتا ہے۔ ثاقبؔ، نادرؔ اور خاکسار کا چند اشعار بالترتیب پیش ہے:

غم کا خوگر کر دیا بڑھ بڑھ کے دردِ دل مجھے

اب نہیں ہے راہ کی مشکل کوئی مشکل مجھے

میں قتیلِ خنجر حسن تمنا تھا مگر

اب نگاہ نازنے ثاقبؔ کیا گھائل کیا مجھے

آہ اس جہاں سے تم رحلت کر گئے

اہلِ و عیال سے تم فرقت کر گئے

اس فانی زندگی سے تم عجلت کر گئے

اک نئی زندگی سے تم محبت کر گئے

آئے تھے بھری محفل میں مہمان بن کے

نکلے ہیں یہاں سے ذلیل وہ خوار بن کے

میز بانی ہوتی ہے اوروں کی خواہش سے

چمکنے کی کوشش نہ کر یہاں شمس بن کے

کیرالا کے عام لوگوں میں شعر و شاعری کو خصوصاً علامہ اقبالؒؔ کے اشعار کو عام کرنے میں صدر انجمن ترقی اُردو (ہند) کیرالا جناب عبدالصمد صمدانی کا اہم رول رہا ہے۔ علامہ اقبالؒؔ کے شیدائی جناب عبدالصمد صمدانی صاحب اپنے سیاسی، مذہبی، ادبی، اصلاحی تقریروں میں علامہ اقبالؒؔ کے اشعار حسب موقع استعمال کیا کرتے ہیں۔ جس سے اُردو اور اقبالؒ سے ناواقف لوگوں میں بھی اقبالؒؔ سے روشناس ہونے اور اُردو زبان سیکھنے کا شوق عام لوگوں میں پیدا ہوا۔  ۱۹۹۳ ؁ء  میں صمدانی صاحب کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب کیا گیا تو محبانِ اُردو میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صمدانی صاحب نے پارلیمنٹ پہنچ کر اُردو میں حلف اٹھایا۔ حلف برداری کے بعد انہوں نے علامہ اقبالؒؔ کا فنونِ لطیفہ پڑھا:

اہلِ نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن

جو شئے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

بے شک اُردو شعری ادب میں ریاست کیرالا کا بھی حصہ رہا ہے لیکن اتنی وسیع تاریخ نہیں ہے، جتنی کہ دوسری ریاستوں کی ہے۔ کیرالا کی عام بولی ملیالم ہے، یہاں اُردو کسی مادری زبان نہیں ہے۔ پھر بھی اُردو کا ذوق و شوق اور شعر و شاعری کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ کیرالا میں اُردو کی تشہیر کو دیکھ کر جلالؔ کڑپوی نے برسوں پہلے کہا تھا:

اُردو کی کیرالا میں تشہیر ہو رہی ہے

قصر ادب کی گویا تعمیر ہو رہی ہے

پروان گان اُردو میں محو شعلہ نوشی

سوزِ سخن کی پھر سے تدبیر ہو رہی ہے

تم خون دل ملا دو اس میں جلال اپنا

اُردو کی جب دکن میں تعمیر ہو رہی ہے

کیرالا میں اُردو شاعری کے تعلق سے اور بھی کئی شعراء ہیں جن کا ذکر یہاں نہیں ہوا ہے۔ بہت سے ایسے شاعر بھی ہیں جن سے ہم ناواقف ہیں۔ کئی ایسے شاعر بھی ہیں۔ جو برائے نام شاعری کرتے ہیں۔ ایسے شعراء کی فہرست بھی یہاں کامل نہیں ہے۔ بہرحال آخر میں ایس۔ ایم۔ سرورؔ صاحب کے اشعار کے ساتھ اس مضمون کا اختتام کرتے ہیں :

ہر کوئی اس مرغ زارِ پر فضا کا جاں نثار

مور رقصاں شاد قمری اور کوئل نغمہ بار

جو کوئی آتا ہے سرورؔ کیرالا میں ایک بار

وہ بھلا سکتا نہیں اس کی فضائے خوشگوار

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close