ادبافسانہ

گانجا

آبیناز جان علی

انس کو گانجا لینے کی لت تھی۔ ہفتے میں تین بار شام کے وقت وہ اور اس کے دوست روزہل کی ایک خستہ مکان کی پہلی عمارت میں دیر رات تک گانجا لیتے تھے۔ گانجہ لینے سے انس کو سکون ملتا تھا۔ وہ مستری تھا۔ دن بھر کی تکان دور کرنے کے لئے انس کے حساب سے گانجاسے بہتر کوئی چیز نہیں۔ گانجا کے خماریسے وہ خوش ہوتا تھا اور ہر چیز بھلی معلوم ہوتی تھی۔

ایک روز انس کے مکان کی بغل میں ایک گاڑی آکر رکی۔ جب دروازہ کھلا توہلکی گلابی شلوارقمیض میں ملبوس ایک نہایت پتلی لڑکی نکلی۔ اس کی کمر تک لمبے بال کھلے تھے۔ گوری رنگت والی یہ دوشیزہ جب اپنی خالہ کو دیکھ کر امسکرائی تو انس کے دل میں کسک سی پیدا ہوئی۔ پھر لڑکی نے خالہ کو سلام کیا جیسے صبح کی تازگی میں چڑیاں چہک اٹھیں ۔ بیس سال کے انس کو وہ لڑکی ازحد حسین لگی اور پہلی نظر میں وہ فریفتہ ہوگیا۔

اس لڑکی کی تصویر رات دن انس کو ستانے لگی۔ کام کے وقت بھی اس کا قلب و ذہن پریشان رہتا۔ اس نے اس گلابی لڑکی کے خالہ زاد بھائی کو متعدد منت سماجت کر کے لڑکی کا فون نمبر حاصل کیا۔ لڑکی کا نام شیرین تھا۔ انس نے شیرین کو فون کرنا شروع کیا۔ شروع شروع میں لڑکی نے انس کو قبول نہیں کیا تھا لیکن آخر میں انس نے اسے اپنے پیار کا یقین دلا ہی دیا۔
انس نے پھرشیرین کے گھر شادی کا رشتہ بھیجا۔ مگر جب شیرین کی خالہ کو اس رشتہ کے بارے میں معلوم پڑا تو انہوں نے اپنی بہن کو روکا کیونکہ انس اچھا لڑکا نہیں تھا۔ اس کی صحبت خراب تھی اور وہ گانجا لیتا تھا۔ انس کے خواب کا محل چکنا چور ہو گیا۔ اسی دوران ریویر نوار کے جیل خانے سے فون آیا۔ انس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا اور جنازہ جیل سے ہی اٹھایا جائے گا۔

انس زندگی میں صرف ایک بار اپنے والد سے ملا تھا۔ جب وہ اٹھارہ سال کا تھااس کے اندر اپنے باپ کو جاننے کی خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ وہ پہلی بار اپنے والد سے ملا۔ جیل خانے میں لوگوں کو قید میں دیکھ کر انس کے دل میں ایک ہول سا پیدا ہوا۔ یہ لوگ اپنی آزادی سے محروم تھے۔ جو جرم انہوں نے کئے تھے اس کی سزا کاٹ رہے تھے۔ قید خانے کے درودیوار رات دن انہیں اپنی غلطی کا احساس دلاتے کہ انہوں نے غلط کام کیا تھا۔

انس کے والد کو عمر قید کی سزا ملی تھی۔ انہوں نے شراب کے نشے میں ایک آدمی کے سینے میں چھری بھونکی۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ انس کے والد جیل گئے تھے۔ انہوں نے کئی بار چوری کی تھی۔اس لئے قتل کے جرم میں جج صاحب نے کوئی رعایت نہیں برتی تھی۔

جب انس کے والد کو اس کے سامنے لایا گیا تو اس مضمحل شخص کو دیکھ کر اولاً انس ہکا بکا ہوا تھا۔ زندگی میں پہلی بار انس اس انسان سے مل رہا تھا جس نے اسے زندگی عطا کی تھی۔ انس نے پایا کہ اس کا نقش اور قد اس کے والد کی طرح تھا۔ سفید بالوں والا بوڑھا آہستگی سے اس کے سامنے بڑھا۔ انس اس کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ بوڑھے قیدی نے اپنے بیٹے کو پہچانا ہی نہیں ۔ انس نے اپنا تعارف کرایا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا طوفان اٹھا۔ باپ نے بیٹے کو گلے لگایا اور کچھ دیر تک باتیں ہوئیں ۔

انس اپنی والدہ کے ساتھ ننہال میں رہتا تھا۔ اس کی والدہ نے اپنے سسرال والوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھا۔ یہاں تک کہ انس کو اپنی ماں کا ہی خاندانی نام ملا۔ انس اپنی ماں کے رشتے داروں کے ساتھ ہی پلا بڑھا۔

انس نے اپنے والد سے کچھ لمحوں تک بات کی تھی۔ باپ نے اس کی نوکری کے بارے میں پوچھا تھا اور مستقبل کے لئے دعائیں بھی دی تھیں ۔ جاتے جاتے اس کے باپ نے اسے یہ نصیحت بھی دی تھی:

"بیٹا میں نے زندگی میں بہت غلط کام کئے ہیں ۔ میں نے ہمیشہ اپنی منمانی کی تھی۔ تمہاری ماں کی بھی عزت نہیں کی تھی۔ جیل میں اٹھارہ سال گزارنے کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ تم ایک ذمہ دار شخص بننا۔ غلط کاموں سے دور رہنا۔”

باپ کی میت کو کاندھا دیتے ہوئے انس کو اپنے والد کی باتیں یاد آرہی تھیں ۔ اس کی بغل میں اس کا چچاتھا۔ چچا کو وہ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ اس کے دو چچا زاد بھائی تھے اور ایک پھوپھی زاد بہن بھی تھی جس کی شادی لافلورا میں ہوئی تھی۔ یہ سب انس کے سگے رشتے دار تھے۔ وہ انس سے خلوص سے ملے تھے اور آئندہ آنے کی دعوت بھی دی تھی۔ انس نے سوچا کہ عمر بھر ان لوگوں نے اس کی خیریت نہیں پوچھی۔ اب کیوں وہ اس سے رشتہ رکھنا چاہتے تھے؟

شام کو گھر آکر انس گانجا لینے لگا۔ پھر بھی اس کے ذہن کو سکون نہیں آیا۔ زندگی بھر اس کے گھر والوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ اس کے باپ نے اسے اپنی پہچان تک نہیں دی۔ شیرین اس کی زندگی میں ہوا کے ایک روح افزا جھونکے کی طرح آئی اور وہ بھی چلی گئی۔ زندگی نے اس سے ہمیشہ سب کچھ چھینا تھا۔ پھر اس کے باپ کی نصیحت اس کے ذہن میں چکر کرنے لگی۔

اس نے اپنے ہاتھ میں سلگتے ہوئے گانجہ کو دیکھا۔ زندگی میں پہلی بار اس نے اس کش کو مشکوک نظروں سے دیکھا۔ اس کی ماں کہتی تھی کہ اس کا باپ بھی گانجا پیتا تھا۔ ایک بار پولیس نے اسے پکڑا بھی تھا جس کی وجہ سے اس نے جیل میں سزا کاٹی تھی۔
اس گانجا کی وجہ سے شیرین اس کی نہیں ہو پائی۔ انس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کے ضمیر سے ندا آئی کہ اگر اس نے گانجہ نہیں روکا تو اس کی زندگی نیست و نابود ہوجائے گی۔ وہ اس طرح اپنی زندگی کو دھوئیں میں نہیں اڑا سکتا اور اس نے گانجا کو پھینک دیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close