ادبسفر نامہ

گرد سفر، گرداب سفر

آدرش کشمش والا

ایک دانا کے بقول سب سے پیاری اور لبھانے والی خوشبو پھولوں کی نہیں بلکہ نئے کرارے نوٹوں کی مہک ہوتی ہے۔
آپ زبان سے چاہے اقرار نہ کریں لیکن کون نہیں چاہتا کہ اس کا جیب کرنسی سے لدا اور کروڑوں کی رقم سے چھلکتا ہو۔
آپ بھی چاہتے ہیں نا۔ ؟؟

 تو ٹھیک ہے بلینیر بننے کے چکر میں رات دن  پہاڑ توڑنے کی حماقت کیوں کریں۔ ؟ کچھ نہیں۔ بس اٹھائیے بیگ اور چلئے میرے ساتھ کروڑپتی بننے۔

چلئے، چلتے ہیں۔ ویتنام۔۔!!

دوستوں کو بتاتا چلوں کہ یہ کوئی  روداد سفر  نہیں۔ بس ادھر ادھر کےمشاہدات کے  بیچ کچھ سر اٹھاتےمناظر سفر ہیں۔ جو دیکھ لیا وہ پیش کیا۔ کوئی ربط تلاش کرنے کی زحمت کریں تو آپ خود ذمہ دار ٹھہریں گے ۔ مناظر کے یہ بکھرے ٹکڑے آپس میں جڑے ریل کی بوگیاں  نہیں بلکہ سڑک پر دوڑتی کاروں کی مانند ہیں جو بظاہر ایک قطار میں چلتی ہیں لیکن موقع دیکھ کر اورٹیک  کے لئیے آزاد بھی ہوتی ہیں۔

طئے شدہ پٹریوں کو صراط مستقیم مان کر اسی پر دوڑنے  کی پابندنہیں ، بلکہ حسب موقع شارٹ کٹ ڈھونڈھ کر ہائی وے کو بائے بائے کہنے کے لئے بھی آزاد ہے۔ بس یہ ڈسکلیمر  ذہن میں رہے اور پھر اسی تناظر میں پڑھئے گا۔

سفر کی گرد بھلی لگے  توآپ بھی اس گرداب میں پھلانگ کر گرد  سفر میں اٹ جانے کے لئیے آزاد ہیں ۔

تو چلئے ، جہان مشرق  سےکچھ گرد سفر سمیٹیں۔

 یعنی ویتنام تا ملیشیا

ظالم ٹانگیں

ویتنام کو کیا مشرق کہیں ، یہ تو مشرق کا بھی مشرق ہے، تھوڑا پیر پھسل جائے تو فلپائین پھلانگتے ہوئے دیار مغرب میں جا گریں یعنی امریکہ کے گوام اڈے میں۔ بلکہ یوں کہئیے کہ مغرب یہاں ٹکٹکی باندھے چلمن سے جھانکتا ہے۔ اور جب موقعہ ملے ٹانگ بھی اڑاتا ہے۔

ویتنام نے ان ظالم ٹانگوں کی ٹھوکروں کا کرب پچھلی صدی میں دو بار جھیلا۔ سو پیروں کو خوب جماکر چلئے.

بات صرف جغرافیہ کی نہیں تہذیبی نجاستوں کی بھی ہے۔ اس لئے پیر جماکر سنبھل کر چلنا یہاں ضروری ہے۔ پھسل جائیں تو چوٹ گہری لگے گی۔

کمپلیمنٹری پنشمنٹ

صبح ہوٹل کی روایات کے مطابق کمپلیمنٹری بریک فاسٹ کا انتظار تھا۔ لیجئے بریک فاسٹ حاضر ہوا۔ دیگر نامعلوم لوازمات کے ساتھ ایک عدد پہلوانی پھل۔ سرخ رنگ( یعنی خطرے کی علامت) کی چھال اور تہہ بہ تہہ کانٹوں میں لپٹا۔ غالبا نامعلوم ناشتہ کا پہلوانی پھل سے دف مارنا مقصود تھا۔ ہم نے رواداری میں اسے پہلوانی پھل لکھا۔ وھاٹس ایپ پر تصویر دیکھ کر ایک کرم فرما نے تو اسے خونی پھل قرار دیا۔

میں نے ویٹر سے پوچھا، اگر یہ کمپلیمنٹ ہے تو پنشمنٹ کسے کہا جاتا ہے۔ انگریزی سے انجان اس معصوم نے اسے بھی اپنے لذیذ ناشتہ کی پذیرائی سمجھی، جھک کر اور مسکرا کر حق تشکر ادا کیا اور چلا گیا۔ زبان کی اجنبیت بھی کبھی رحمت بن جاتی ہے۔ وہ تو چلا ہمیں آزمائش میں ڈال کر۔ اب ہم نے ناشتہ کیسے مکمل کیا، یہ منظر بیدار ذہن  قارئین کی تصوراتی قوت کے لئیے چھوڑدیتے ہیں۔

نرا ڈانگ 

کروڑ پتی بننے کا راز تو بعد میں معلوم ہوگا۔ ہم تو عام سا بزنس ٹور پلان لئیے حیدرآباد سے چل پڑے۔ سنگاپور ہوتے ہوئے بالآخر ویتنام میں قدم رکھا ۔ جیب میں چند ہزار کی کراری  کرنسی تھی۔ ائیر پورٹ پر اسکے عوض جب کروڑہا ڈانگ تھمادئے گئے تو ہمیں اپنی قسمت پر رشک ہوا۔

اُدھر دیس میں نہ جانے کتنے ہموطن کروڑپتی بننے کی تڑپ لئیے شریمان امیتابھ بچن کے فون کے انتظار میں سالہا سال سے چڑچڑے ہوئے جارہے ہیں اور ادھر ہم قدم رکھتے ہی منٹوں میں کروڑپتی بنادئے گٰے۔ واہ رے قسمت۔ !!  اپنی قسمت کے گن گاتے ہم نےجھوم کر سیر حاصل  لنچ مکمل کیا۔ لنچ سے فارغ ہوکر جب بل پر نظر ڈالی تو کروڑ پتی پن کا خوشگوار احساس ہوا میں بھک سے اڑتا دکھائی دیا۔

ہمارے لنچ  کا بل ادا کرنے کے لئیے اتنے ہی نوٹوں کی گنتی کرنی پڑی جتنی کسی چمچماتی کار کو اپنا بنانے کے لئےہندسوں کو جوڑنا پڑتا ہے  ۔ یعنی7 لاکھ 25 ہزار 8 سو ڈانگ۔ اور ہوٹل قیام  کا بل 90لاکھ( صرف( رقم کے آگے only لکھنا بھی ایک کربناک مجبوری ہے جسکا مسلسل اور شدت سے احساس دلاتا ہے یہ "ڈانگ”۔

آج اس نِرے ڈانگ کے پرزوں نے زندگی کا ایک اہم سبق ہمیں عملا سکھادیا کہ دولت و روپیہ محض ایک معروضی حقیقت ہے۔ جو آپ کے لئیے قیمتی ہے ضروری نہیں کہ سب کے لئیے قیمتی ہو۔ اور جو آپ کو قیمتی نظر آئے، ضروری نہیں کہ واقعتاْ وہ قیمتی ہی ہو۔
یہ اصول اس دنیا کے لئیے ایک سچ ہے اور آخرت کے لئیے بڑا سچ۔ جہاں کسی خوش فہم عابدکے لئے اعمال کا ڈھیر بھی ردی قرار دیا جا سکتا ہے۔ خدا ہم سب کو اس پشیمانی سے بچائے۔

کتے کی بکرے سے مما ثلت

ذکر جب غذا کا چھڑگیا ہے تو چلئے کچھ کھل کر بات کرتے ہیں۔ نفیس المزاج احباب سے پیشگی معذرت۔

ویتنامی عوام غذائی بندشوں کو جوتے کی ٹھوکر پر رکھتی ہے۔ ہر اڑتی، دوڑتی، تیرتی اور رینگتی مخلوق میں انھیں پروٹین کا شفاف خزانہ ایسے ہی ٹھنسا  نظر آتا ہے  جیسے شئیرنگ آٹو میں ٹھنسی ٹھنسائی سواریاں جہاں یہ پہچاننا محال ہوتا ہے کہ وہ اسٹنٹ مین کون ہے جو ڈرائیونگ کا حق ادا کررہا ہے۔ یوسفی کے الفاظ میں اگر کہوں تو پرندوں میں پتنگ اور چوپایوں میں چارپائی وہ چیز ہے جس میں تا حال وہ قابل ہضم  پروٹین کی موجودگی   ڈھونڈھ نہیں پائے۔

ہمارے ایک دوست بڑے جذباتی انداز میں ہمیں اس قوم کی شقی القلبی بتارہے تھے کہ بڑے چاؤ اور لاڈسے کتے کو پالا پوسا جاتا ہے اور بلوغ تک پہنچنے سے پہلے اسے چھری دکھا کر معدے میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ یہ منظراس کرب سے سنایا کہ آنکھیں بھی ڈبڈبا رہی تھیں۔ میں نے کہا آپ کا درد قابل قدر لیکن اس ہمدردی کا مستحق کتا ہی کیوں ، بیچارے حلال جانور اس شفقت کے حقدار کیوں نہیں۔ ہم بھی تو یہی کچھ کرتے ہیں۔ مگر بکرے کے ساتھ۔

بات ہمدردی کی نہیں بلکہ پاکیزگئ مزاج کی ہے۔ ان بیچاروں کیلئے ہمدرد دل کی نہیں پاکیزہ مزاجی کی تمنا کرنا چا ہیے۔

آپ کسی فوڈی سے ویتنامی ڈشز کے بارے میں پوچھ لیں لیکن احتیاط سے، پیشگی وارننگ یہ بھی کہ اگر آپ نے  نفیس طبیعت پائ ہو تو اس کھلی گفتگو کے متوقع رسک سے پہلے جیب میں وہ دوائی ضرور رکھ لینا جو قئے کو ابلنے سے روکتی ہے۔ بات جب چلے گی تو معلوم ہوگا کہ چھوٹے کتے کا گوشت لذت میں بے مثل ہوتا ہے، اگر ہڈیوں کا شوربہ بھی شامل ہوجائے تو کیا کہنے۔ سرے پائے کے وہ بھی شوقین ہیں لیکن اصلی نہاری کے ذوق سے محروم۔

ایک سچا ویتنامی وہ جو چھوٹے کتے اور بالغ بلی کے گوشت کا فرق بتاسکے۔

دیسی اناڑی پن

غذائی ذوق ہی نہیں تخلیقی مزاج بھی نرالا ہے۔ ہمارے ہاں زہریلی شراب پی کر مرنے والوں کی خبریں آئے دن جھلکتی ہیں۔ ہمارے زہریلے ساقیوں کو کیا پتہ کہ شراب میں زہرکیوں ، کتنا، اور کیسے ملایا جاتا ہے۔ ان کا اناڑی پن انھیں لے ڈوبتا ہے۔

مئے خواری اور فنکاری کے جلوے ساتھ ساتھ دیکھنا ہو تو ویتنام کی گذر گاہیں کافی ہیں ۔ تخلیق کا عالم یہ کہ پرانی شراب میں زندہ سانپ اس لئے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ دونوں ایکدوسرے کی شدت اور تلخی بڑھائیں۔ یعنی شراب میں زہر اور زہر میں شراب گھلتی رہے۔ اس کے نتیجے میں ڈھلنے والی شراب بیش قیمت اور نشیلاسانپ بیش بہا۔ کچھ باذوق مئے خوار اس لذت کے لئے بچھوبھی  پسند فرماتے ہیں۔ اور حسب ذوق منتخب بھی فرماتے ہیں۔

چاول کیوں غذا نہیں ؟

جب کتے، بچھو اور سانپ پروٹین کا خزانہ قرار پائیں تو بیچارہ چاول کس قطار میں۔ ویتنام چاول کا انبار پیدا کرتا ہے پر دوسروں کے لئیے۔بات سیدھی ہے۔ بھلا وہ غذا ہی کس شمار میں جو نہ اڑتی ہے نہ رینگتی، تیرتی اور نہ دوڑتی۔

مذہب کے معاملے میں لوگ بڑے غیر سنجیدہ ہیں۔ اکثریت مذہب کی ہر شکل کو مسترد کرتی ہے، جو اقلیت مسترد نہیں کرتی انکا مسترد نہ کرنا بھی فضول۔ یہ اسلئیے کہ باطل مذہب کو مسترد نہ بھی کیا جائے تو کیا حاصل؟ حق پرستوں کی تعداد کے لئیے آٹے میں نمک والا محاورہ بھی فٹ نہیں ہوتا۔
تعجب ہوتا ہے کہ دنیا کی کثیر ترین مسلم آبادی والے ممالک کا یہ چھوٹا پڑوس اسلام سے اتنا بیگانہ کیسے رہا۔

کچھووں کی قسمت:

خدا شناسی نہ ہو تو شرک تمبو باندھ کر ذہن میں ڈیرہ جمالیتا ہے، اسی تمبو تلے پھر حماقتوں کی ہنڈیا چڑھتی اور پکتی ہے۔ یہی کچھ ویتنام میں نظر آیا۔ کتے، بلی، سانپ، بچھو سب کچھ ہضم کرجانیوالے یہ عجوبے کچھوے کے سامنے سر بسجود نظر آئے۔ کیوں بھائی کیا کچھوے کا پروٹین، سانپ کے زہر کو بھی مات دیتا ہے؟ پھر یہ غیر معمولی پرہیز کیوں ؟

سمجھ نہیں آیا کہ کس کی دعا اور کونسی قسمت تھی جو کچھووں کوذبح ہونے سے بچالے گئ۔

پتہ چلا کہ نہ دعا، نہ قسمت بلکہ عمر کا کرشمہ ہے۔ لمبی عمر والے جانور کو نہ ماریں توطول العمرہ کی دعا ؤں کی حاجت نہیں رہتی ۔ اسے آپ وہم کہیں یا عقیدہ۔ ذہن میں یہ سوال کلبلایا کہ  ہمارے ملک  میں بھی کسی نے کچھووں کے قتل کا پاپ نہیں کیا پھر یہاں اوسط عمریں اتنی متاثر کیوں ہیں۔ یہ سوچ کر چپ رہا کہ شائد یہ تقدس صرف ویتنامی کچھووں کے لئیے ہی خاص ہو ، ویسے ہی جیسے ماتائیں صرف بھارتی گاؤ ہی ہوتی ہیں۔

پتہ نہیں انھیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ کتوں کی عمر چھوٹی ہوتی ہے، بیچارہ کوئی کتا یہاں کب اپنی طبعی عمر تک پہنچا جو اسکی سچی عمر کا پتہ چلے۔ بلاوجہ کتے کٹے جارہے ہیں۔

بجے چھوٹے – پیر بڑے

قدرت نے ویتنامی بچوں کو بڑے مضبوط پیر دئیے ہیں۔ عمر کے اس دور میں جب ہمارے ہاں لڑکے لڑکیاں ممی، پپا کے لاڈلے بنے بمشکل کالج جانے کا احسان والدین پر فرماتے ہیں ، وہ بھی اپنی شرائط پر کہ بائیک کا ماڈل اور موبائیل کا برینڈ  برخوردار خود طئے فرمائیں گے۔

وہیں ویتنامی نو عمر لڑکے لڑکیاں ہر جگہ خود اپنے پیروں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسکول / کالج کے بعد مالس وغیرہ میں پارٹ ٹائم جاب کے بغیر انکی زندگی ادھوری ہے۔

ڈانگ کی محبت ان معصوموں سے بہت کچھ کروالیتی ہے۔ مادہ پرستی عام ہوتو روپیہ سر چڑھ کردھرنا دے بیٹھتا ہے۔ پھر  اترنے کا نام نہیں لیتا تاوقتیکہ پھسل کر گر نہ جائے  ۔ انور مسعود فرماتے ہیں کہ ” جنکی ڈانگ بولتی ہو ، انھیں خود بولنے کی ضرورت نہیں۔ ” کیا پتہ کی بات کہی۔ سچ ہے جیب سے  کرنسی دکھا کرانٹرنیشنل  بینکرس   اور مونیٹری فنڈس کیسے نسل در نسل ہم غریب قوموں   کو انگلیوں  کے خاموش اشاروں پر نچاتے چلے آرہے ہیں ۔ اور ہم بھی بدمست ناچ میں پٹتے  پٹاتے نسلیں  لٹا رہے ہیں۔

معلوم ہوا کہ ہماری کم فہمی  نےکچھ اور ہی  پاٹھ پڑھادیا۔  ایک پنجابی رفیق نے تصحیح فرمائی کہ جو ڈانگ ویتنام میں کرنسی کہلاتا ہے وہی پنجاب پہنچ کر لٹھ بھائیوں کا ڈنڈا بن جاتا ہے۔

ڈانگ خواہ جو بھی ہو،   بات پھر بھی صاف ہے۔ وہ قارون  کی للچائی رال ہو یا فرعون کا غضب سے ابلتا کف۔ یہ سب ڈانگ کے کرشمے ہیں۔

بات دور نکل گئی۔ ہم عرض کررہے تھے چھوٹے بچوں کے بڑے بڑے پیر وں کی داستان۔ یہاں مضبوط پیروں میں کیر یر کی لڑکھڑاہٹ تو نظر نہ آئ لیکن اخلاقی لڑکھڑاہٹ کے بارے میں نہ پوچھیں تو بہتر۔یہ محنت کش قوم ہے۔ کاش انکی محنتوں میں فکری عنصر بھی شامل ہوتا۔

وڈکا سے پہلے بسم اللہ

زندگی کے مقصد سے بیگانگی گر عام ہو تو زندگی کے شب و روز بس کچھ آداب , اطوار اور رسومات کا بنڈل بن کر رہ جاتےہیں۔ یہ بات جتنی خدابیزار معاشرے کے لئیے سچ ہے اتنی ہی خدا پرست سماج کے لئیےبھی۔

سابق سوویت ریپبلک کی مسلم جمہوریاؤں کے بارے میں سنا تھا کہ لوگ ووڈکا(روسی شراب) پینے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھ لیتے ہیں۔

جب کسی بنیادی قدر کا حقیقی پس منظر اور اصل اسپرٹ دھندلا جاتی ہیں تو وہ قدر نہیں رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی حا ل ہمارے سماج کا بھی ہے۔ ڈھول تاشوں کی تھاپ پر واہیات ناچ ناچتے ہمارے نوجوانوں کی بارات اذان کی آواز سنکر 5 منٹ وقفہ ضرور لے لیتی ہے۔ ویتنام میں آداب و اطوار کی جڑیں کہاں پیوست ہیں ، یہ کھوج تو ہم نہ لگا سکے لیکن یہ حیرتناک منظر ضرور دیکھا کہ خواہ آب ہو یا شراب، کبھی ٹھہر کر نہ پی جائیگی۔ اسٹریٹ فوڈ منع نہیں لیکن سلیقہ سے بیٹھ کرہضم فرمائیں ۔ سر عام بحث تکرار کا کلچر نہیں۔ بلکہ عزت کے بدلے عزت( Give respect, Get respect) کے فارمولہ پر عام سماجی سمجھوتہ ہے۔

ہماری پٹائی

آج ہمارے پلان میں شاپنگ شامل ہے۔

ہاؤ – چی – مینھا میں قیام کاآج تیسرا دن تھا شہر کانام اب بھی ہمیں ڈھنگ سے  یاد نہ ہوسکا۔ ایک مقامی کرم فرما نے ہماری معلومات میں یہ دھماکہ خیز اضافہ کیا کہ شہر کا اصل نام تو سائیگون ہے لیکن تلفظ میں سہولت کے لئے ہاؤ – چی- مینھا کہا جا تا ہے۔ ایسی بے مثل سہولت تو ہم نے زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھی اور سنی۔ ہم نے پوچھا کہ اس سہولت کے مقابل اگرہم  مشقت کو ہی اپنائیں تو کسی سزا کے مستحق تو نہیں ٹھہریں گے۔ کہنے لگے یہاں حکومتی سزا کے لئے کسی غیرمعمولی کرتوت کی کوئ ضرورت نہیں۔ حکومت جس پر مہربان ہوتی ہے اسے حسب مراتب و حسب سہولت سزاؤں سے نوازتی ہے اور کبھی کبھی تمام مشقتوں سے آ نا فانا آزاد بھی کردیتی ہے۔

آپ اپنے رسک پر حسب سہولت جو چاہے کہیں۔ لیجئے Tongue twisting آفت سے چھٹکارہ ملا۔ اب ہمارے لئے یہ ایک نیا شہر تھا۔ سائیگون۔ ۔!

سائیگون میں شاپنگ ایک چنگیزی جنگ ہے۔ بازار میں داخل ہوتے ہی سیلز مین ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے آپ امبانی کا خزانہ لٹانے سیدھے سائیگون تشریف لے آئے ہوں۔ احتیاطا میں نے سیلز مین لکھا، ورنہ صنف نازک ہی ہر جا آپ پر ٹوٹ پڑنے اور آپ کی جیب کاٹنے پر معمور نظر آئیں گی. آپ لاکھ کہیں کہ زکام زدہ ہوں مجھے ناک پونچھنے کی دستی کے علاوہ کچھ اور نہیں خریدنا ہے۔ وہ دستی کے نام پر کپڑوں کے ڈھیر آپ کے سامنے پھینکتی چلی جائیں گی۔

ہم نے ایک دکان سے 20 لاکھ ڈانگ کا ایک پہناوا خرید کر جان چھڑائ۔ دو ملین ڈانگ گنتے اور ادا کرتے ہماری انگلیاں کانپ رہی تھیں لیکن کاؤنٹر پر بیٹھی محترمہ نے دو ملین کو دو کوڑی کی طرح بڑی بے نیازی سے لے کر غلہ میں پھینکا۔ اور عجیب نظروں سے ہمیں للکارنے لگی جیسے کہہ رہی ہوں جیب میں 20 لاکھ کی کوڑی ڈالے چلے آئے شاپنگ کرنے۔ پھر ہماری شاپر بیگ کو کھینچ اسکی پڑتال بھی کرڈٍالی اور ہنس کر پیٹھ پر ایک دھپہ بھی جڑدیا۔

اس غیر متوقع مار سے ہم سٹپٹا گئے۔ لیکن محترمہ کی ہنسی سے اندازہ ہوا کہ غیر ملکی خریداروں کے لئے مخصوص اعزازی سوغات ہے یہ دھپہ۔

دو ملین ڈانگ کا ڈریس بغل میں دبائے چپکے سے ہم یہ سونچتے نکل آئے۔

"مار” کیا کم ہے محبت کا یہی یاد رہے۔

گل پوش لنچ

ہوٹل واپس پہنچ کر طبیعت بھوک سے نڈھال ہورہی تھی۔ مینو دیکھا۔ پورا مینو سہولت بخش اصطلاحات سے بھرا ہواتھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک ٹنگ ٹوسٹنگ ڈشز۔ ہمیں کیا پتہ کس کے پیچھے کیا "راز” چھپا ہےاحتیاط ضروری تھی۔ بڑی مشکل سے سی فوڈ کی فہرست تک پہنچے اور آنکھ بند کر کے کسی آئیٹم پر انگلی رکھ دی اور وہی آرڈر دے دیا۔

بھوک کا تقاضہ اور چار ملین قیمت کے عوض واجبی امید تھی کہ شاندارتندوری روٹیوں کے ساتھ سی فوڈ کا مزا لیں گے۔ ادھر ویٹر نے ویتنامی مسکراہٹ کے ساتھ سجی سجائی تھال تھمادی۔   گلاب کی پتیوں سے ڈھنکی،  میرینیٹیڈ سالم مچھلیاں۔ !!

کرارےکرنسی نوٹوں کی مہک ہمیں بھی عزیز ہے پر بوئے گل پر مقدم نہیں۔ اور بوئے گل عزیز تر ہے پر مشقاب پر سجی نہیں۔

 پھولوں کے اس ناروا استعمال کو دیکھ کر عجیب اندیشے منڈلانے لگے۔ اگر غذا کو گلاب سے مہکایا جانا ضروری ہے تو ان مقامات جلوت وخلوت کے لئے نجانے کونسی خوشبو استعمال کی جاتی ہوگی جنکے لئیے پھولوں کی مہک کی افادیت پر اتفاق عالم ہے۔ ممکن ہے وہاں باربی کیو دہکائی جاتی ہوگی۔

اس اعتراض پر ایک عزیز نے یہ کہہ کر چپ کرادیا کہ اس دکھنی دولہے کے بارے میں کیا خیال ہے جو  مرفہ کی دھمال پر اسٹیج پر   نئے شرابی کی مانند جھومتے لڑھکتے یوں  دھمکتا ہے کہ پودینہ کے بوجھ سے ہلکان ہوکر ڈھلکا جارہا ہے۔ ویسے حکیم جہانگیر جنگ کا فرمان ہے کہ   پودینہ کی مسلسل خوشبو معدے کے کام کاج کو بیرونی گھس پیٹ  کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ نیز اچانک اٹھنے والے متوقع یا غیر متوقع سر درد کے  تیر بہدف  خاتمے کی کرشماتی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ذہین قارئین ان ‘جنگی ‘نسخوں اور دولہوں کی گردن میں پودینہ کے بوجھ کے باہم ربط و تعلق   کی معقول و نامعقول تشریح کے لئیے آزاد ہیں۔ ہمیں ان دور کی کوڑیوں کی گنجلک توجیہات   سے فی الحال معاف رکھیں۔

سچ یہ ہے کہ  دکھنی دولہوں کی روزانہ ایجاد ہونیوالی نت نئ حرکتوں کی توجیہ اتنی ہی مشکل ہے جتنی ویتنامی ڈشز کی۔ نہ انھیں اپنی ڈشز عجوبہ لگتی ہیں نہ ہمیں اپنے سہرہ بردار دولہے۔ بات ختم۔ ۔!!

سچ پوچھئے تو اس آزمائشی لنچ کو دیکھ کر ہمارے ہوش اڑ گئے۔ دھرتی کی پیٹھ پر خدا جانے وہ کون مرد نازک رہا ہوگا جس کا پیٹ پھول کی پتیوں سے بھرجاتا ہے،  اور جس نے اس ڈش کا انو کھا تصوردیا۔ (اس ایجاد کا سہرا مرد نازک کے سر باندھنا اسلئیے واجبی ہے کہ ویتنام میں ہوٹلوں میں پکوان کی "مشقت” مردوں نے خود اٹھائ ہوئ ہے اور باہر کے دیگر "سہولت بخش ” کام صنف نازک کے حوالے ہیں )

پہلوانی ناشتہ اور من مانی لنچ!  غضب کی ترتیب تھی۔ میر کارواں (دو رکنی)  نے نادان ویٹر کی کلاس لینی چاہی لیکن مجھے پتہ تھا آپ کی ڈانٹ ڈپٹ بھی اس مرد ناداں کے لئے عین پذیرائی ٹھہرتی۔ میں نے کہا آپ کی تربیت  یہاں کام آنے سے رہی۔ بھلائی اسی میں ہے کہ فی الحال چالیس لاکھ  ڈانگ کی مچھلی کو پھول کی پتیوں سے چاک کیا جائے اور اسکے بعد نئے آزمائشی لنچ کی تلاش کی جائے۔ پھر ہم نے یہ گنگناتے ہوئے لنچ مکمل کیا۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے "مچھلی” کا جگر

مرد ناداں   پر  کلام  نرم  و نازک   بے   اثر

ڈالر کے سر پرڈانگ کا ناچ

 قدم قدم پر کئ لاکھ ڈانگ ادا کرتے کرتے طبیعت ڈانگ زدہ ہوگئ۔ سچ یہ ہے کہ یہاں  کوئ دو چار دن ٹھہر لے تو اسے پہلے دو منٹ کروڑپتی پن کی اکڑ  آسمان میں اڑاتی ہے پھر فورا دو کوڑی پن کا احساس زمین پرلا پٹکتا ہے۔ آفس میں ایک ساتھی نے اس آپ بیتی   پرہمدردی  ظاہر کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل کیفیت قرار دے کر ہمیں دلاسا دیا۔ ہمارے بائنری احباب کو پوری دنیا بس ایک اور صفرکی چوٹیوں  اور کھائییوں   میں الجھے   ڈیجیٹل طوفان میں غوطے کھاتی  نظرآتی ہے۔  پوچھنے لگے ایسی سیماب صفت ڈیجیٹل  کیفیت کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا اردو میں ایسی کوئی کیفیت ہی نہیں ہوتی۔ یہ شاہی زبان ہے  یہاں جو ہوتا ہے بس انالاگ موڈ میں۔  اسی لئیے تو کہا جاتا ہے کہ۔

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی  ہے  اردو  زباں  آتے  آتے

ہمارےلاغر  روپئے نے مودی جی کی چھپر پھاڑ کرم فرمائیوں کے باوجود اپنی عزت و ناموس تاحال بمشکل سنبھال رکھی ہے۔ پتہ نہیں وہ کونسا عقلمند حکمران تھا جس نے ڈانگ کی عزت سربازار تاراج کر اسے یوں رسوا کردیا۔ میں سمجھ سکتا ہوں ان کے بینکوں کے ڈیٹا بیس کا کیا حشر ہوتا ہوگا۔ مجھے تویہ سوچ کر ہی صدمہ ہوتا ہے کہ ان بینکوں کے ڈیٹا بیس میں کام کا ڈیٹا تو کم،  بس بے شمار صفر(zeroes)  کے بھنگڑا ناچ کے جلوے ہی زیادہ رہتے ہونگے۔

عوام کی کمر توڑنے کے لئے ایک نااہل حکمران ہی کافی ہوتا ہے۔ کسی حکمراں کو  ہارورڈ کے اکنامسٹس کا قد اگراپنے   سینہ کی چوڑائی سے کمتر نظر آئے   تو قوم کو خیر منانی چاہیئے۔ یہ وہ نازک مرحلہ ہوتا ہے جسکے بعد عقل پر لگا کرملکوں ملکوں  اڑتی ہے اور  وہی کرنے پر اکساتی ہے جو  رات میں خواب میں دکھائ دے اور علی الصبح دماغ میں کھنک اٹھے۔

حکمراں اگر مخلص اور عقلمند ہو تو رسوائے زمانہ ڈانگ کو ڈالر کے سر پر  بٹھا کر نچوا سکتاہے۔  بظاہر یہ الف لیلی کی کہانی محسوس ہو لیکن یہ منظر ہماری نسل نے اسی دھرتی پر دیکھا۔ آج سےبیس ، پچیس سال قبل ترکی کا لیرا ایسے ہی دھول چاٹتے لوٹیں ماررہا تھا۔ یہ ترکی کا ہائپر انفلیشن کا دور تھا۔ 38 فیصد انفلیشن کی شرح کے ساتھ ترکی دنیا کی انتہائ غیر مستحکم معیشت تھی۔  ترک حکمران آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے احسانوں تلے ہاتھ جوڑے ، سر جھکائے پڑے رہتے۔ اس وقت ایک ڈالر کے بدلے آپ کو دس ہزار لیرا ڈھونا پڑتا تھا،۔ چائے خانوں میں چائے سے پرہیز  بوجہ صحت نہیں بوجہ وقت ضروری تھا۔ اس لئے  کہ آپ ایک منٹ میں چائے تو پی سکتے تھے لیکن   لاکھوں لیرا گن کرادا کرنے میں وقت ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ خودہی  کپ بھر چائےابال لیں۔

طیب اردغان نے اقتدار سنبھالتے ہی اس صورتحال کو قومی شرم قرار دیا۔ اور اصلاحات کا وہ سلسلہ شروع کیا کہ آج ترکی دنیا کی مستحکم ترین معیشت اوراسکا لیرا،  ڈالر کے مقابل کم وبیش 1:2 کا نرخ رکھتا ہے۔ اس بندہ خدا نے آدم خور آئ ایم ایف اور لہو نوش ورلڈ بینک کے احسانوں کو اتار پھینک کر سود کی آخری قسط بھی انکے منہ پر دے ماری اور انھیں اس وارننگ کے ساتھ لکشمن ریکھا سے پرے ڈھکیل آیا کہ قریب آنے کی حماقت نہ کرنا۔

بل ادا کرتے کرتے میں نے کیشئر سے پوچھا کہ دوست آخر کب آپ کا ڈانگ،  ڈالر کے سر پر چڑھ کر ناچے گا۔ ڈالر کا سر سن کر اس نے اپنا سر اٹھا یا،  ایک عدد معروف ویتنامی مسکراہٹ داغ دی اور دوبارہ سر جھکا کر صفر شماری میں مدہوش ہوگیا۔

 ماڈلنگ اور فوٹو سیشن

ہمارے فزیکل کوچ (اعزازی)شارق سر نے چن چن کر ہمارے لئے وہ ورزشیں منتخب کررکھیں ہیں جنھیں روبعمل دیکھ کر ہمارے معصوم بچے بلک بلک کر روپڑیں کہ بےگناہ ابو کے ساتھ یہ کیسا ظلم ہورہا ہے۔  ویتنام روانگی سے پہلے یہ خوش فہمی تھی کہ چند دن دوستانہ ظلم سے نجات نصیب ہوگی۔ لیکن خدا بھلا کرے،  موصوف ُوہ ٹرینر ہیں جو اپنی کسرت بھلے ہی بھول جائیں ہماری تربیت سے غافل نہیں ہوتے۔

سر شام میسیج موصول ہوا کہ بھائ ورزش میں ناغہ تو نہیں ہوا۔ میں نے سوچی سمجھی  ڈپلومیسی  کا سہارا لیا کہ ،  ناغہ کا تاحال قصداْ کوئی ارادہ  نہیں ، لیکن حالات بتلارہے ہیں کہ ناغہ سے فرار بھی ممکن  نہیں ۔ بھلا آپ کی منفرد الجہت ورزشوں کا سیٹ اب یہاں کدھر نصیب ہوگا۔ اس لئے سوچ رہا ہوں کہ چھوڑئے کچھ دن۔ آپ بھی انجوائے کیجئے میں بھی کچھ دن آزاد فضا میں جی لیتا ہوں۔

کہنے لگے میری محبتوں بھری محنتوں پر گھڑوں پانی بہانے چلے ویتنام۔ اچھاتھایہیں ٹولی چوکی میں پڑے رہتے۔ ذرا یہ تو بتاؤ کہ کسی ڈھنگ کی ہوٹل میں ٹھہرے ہو یا روڈ سائیڈ کسی ڈھابے کی کھٹیا (چارپائی ) پر لوٹیں ماررہے ہو۔ سچ بتانا،  اگر ڈھنگ کی ہوٹل میسر ہے تو کیا اس ہوٹل میں کوئی سلیقہ کا جم نصیب نہیں ؟

  یا خدا – ان گرجتے تیوروں کے ساتھ  عزت داؤں پر لگ گئ۔ حکم عدولی کا راست مطلب یہ تھا کہ ہم ویتنام کی کسی بزنس ہوٹل میں نہیں بلکہ سڑک کنارے،  دھول کھاتے،  آسمان تلےچارپائ پر پڑے تارے گن رہے ہیں۔ جسکے آس پاس سجے تندور سے کباب سگاں کے بھپکے اڑ اڑ کر ہمیں نڈھال کئے جارہے ہیں۔

خدانخواستہ یہ افواہ ادھر دیس بدیس پھیل جائے تو۔ ۔ ؟ سوچ کر ہی کپکپی طاری ہوگئ۔

فوری روم سے نکل کر ریسپشن کی اور دوڑ لگائ،  جم کا لوکیشن نوٹ کیا۔  پہنچ کر تیزی سے جو ہاتھ لگا بس وہیں سے ورزش شروع کردی۔ ایک مقامی رستم کے ہاتھ میں موبائل تھمایا۔ اس گذارش کے ساتھ کہ ہر وہ منظر قید کرلینا جس میں ہمارا بہتا پسینہ،  پھولتی سانسیں اور کھنچتی باہیں صاف نظر آئیں۔  اس بندہ خدا نے مختلف زاویوں سے اچھل اچھل کر ہماری تصویر کشی شروع کردی۔ کسرتی دھن میں ہمیں پتہ ہی نہ چلا کہ ایک جم غفیر دائرہ بناکر ہمیں تکے جارہا ہے۔ معلوم ہوا کہ کہ کسی نے من کی اڑادی دی اور یہ بیچارے انڈین ماڈل کا فوٹو سیشن دیکھنے جمع ہوئے ہیں۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر چھٹکارہ مانگا۔ موبائل لےکر فوراْ شارق سر کو اپنے جملہ کارناموں کا بین ثبوت بھیج دیا اس دعوی کے ساتھ کہ

مرے ہاتھوں کی ‘پھرتی’  خود ثبوت اس بات کا دے ہے

کہ جو کہہ دے ہے  دیوانہ وہ کرکے بھی  دکھادے ہے

 اور اطمینان سے اوڑھ لپیٹ کر سوگیا۔

 ہمارے بھیانک جرائم

مارکیٹ میں ہم ایک عدد ملٹی ملین پہناوا خرید کر جملہ حفاظتی تدبیروں کے ساتھ بغل میں دبائے بری الذمہ ہوچکے تھے۔ لیکن میر کارواں اپنی  انتھک تلاش جاری رکھے ہوئے تھے ۔ انھیں ایک ہی نوعیت کے دو پہناوے مطلوب تھے اور سیل کاؤنٹر پر معمور خواتین انھیں ورائٹی کے نام پر کئ ملین ڈانگ فرق کے الگ الگ ڈریسس کی طرف جبراْ مس گائیڈ کئے جارہی تھیں۔ اب وہ کیسے بتاتے کہ مجھے ورائٹی کی نہیں سمیلاریٹی اور اکویلیٹی کی تلاش ہے کہ یہی مساوات بین البیگمات کا تقاضہ ہے۔ ایسا کوئ انکشاف بھی ایک نئی مصیبت کو دعوت دینا تھا۔ اب ہمارے مشورہ پر انھوں نے طئے کرلیا کہ سیلز گرلس کے جملہ ہجوم کو بُتان سود وزیاں مان کر کان نہیں دھریں گے۔ اور پھر یہی کیا اور یوں آنا فاناْ نجات بالخیر پائی۔

ویتنام میں حکومت نے یہ طئے کررکھا ہے اور مان لیا ہے کہ کسی جوڑے کا تیسرا بچہ اس دھرتی پر سانس لینے کے قطعاْ لائق نہیں۔  عجیب فطرت شکن قانون ہے۔ زمین پر آنکھ کھولنے والی بیشتر مخلوقات جب  ہاضمہ کے قابل ٹھہرتی ہیں تو سمجھ نہیں آتا انھیں کونسا غذائی قحط درپیش ہے، جو اس مستقبل شکن قانون کو تھوپ رکھا ہے۔

ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ہردلعزیز صدر مملکت ( 97 فیصد ووٹ پانے والے ، ترونگ-تیان-سنگ ) کا اپنے تیسرے،  چوتھے،  پانچویں اور چھٹے بھائی / بہن کے ساتھ کیا رویہ اور کیسا تعلق ہے۔ عام انسانی رواج کی مانندبرادرانہ تعلق یا قانونی احترام سے عاجز، بن بلائے مہمان سا محکمانہ تعلق.

میں نے ایک ویتنامی سے پوچھا کہ بھائی تم نے یہ کیسے طئے کرلیا کہ پہلے دو ہی عاقل کل ہیں۔ ممکن ہے دو بدھوؤں کے پیہم نزول کے بعد تیسرا "ویتنام رتن "کی جملہ صفات کے ساتھ دھرتی پر آنا چاہتا/ چاہتی  ہو جو ان دو ہی نہیں دیگر سیکڑوں ہموطنوں کے بدھوپن کا تریاقی علاج ساتھ لارہا ہو۔ آپ نے

اس معصوم کو ریڈ سگنل دکھا کر خود پر ہی ظلم کیا۔  سیدھی بات اس بیچارے کے سمجھ نہ آسکی،  یوں دیکھنے لگا جیسے افلاطون کا فلسفہ جھاڑدیا گیا ہو۔ اس منظر کو دیکھ کر یہ یقین مزید پختہ ہوا کہ تیسرا کیوں ضروری ہے۔ ( ایک حکومتی دانشور کا فرمان ہے کہ تریاق کی امید میں زہر کھاتے جانا عقلمندی نہیں۔ ہمیں اس دانشور تک رسائی نہ مل سکی ورنہ اس موضوع پر ایک کھلے مناظرہ کے دل مچل رہا تھا)

اس قانون کے مطابق ہم تو سخت مجرم ٹھہرے ہی لیکن ہمارے   قائد و ہمسفر  کا "جرم” تو ہمسایوں کو بھی لرزہ براندام کرنے اور انھیں اشتہاری مجرم بنانے کے لئے کافی تھا۔

 نسبت ہوئی گناہوں کی از بس مری طرف

بے  جرم   اس  نے  مجھ  کو   گنہگار کردیا

ویتنامی قوم پر ہمارا احسان

 کلائینٹ کی جانب سے  ام الخبائث (شراب) کی پیشکش کو ہم نے سختی سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ دوستانہ مشورہ بھی دے ڈالا کہ اب وقت آگیا ہے کہ آپ اور آپ کی قوم بھی اس لت سے جان چھڑالے۔ آنافانا انکے آفس میں یہ خبر پھیل گئ کہ وہ مہمان آئے ہیں جو شراب کو نہیں جچتے اور نہ شراب جنھیں جچتی ہے۔ ہم جنھیں سانپ بچھو ہضم کرنیوالے عجوبے سمجھ رہے تھے آج وہ ہمیں مریخ سے آئی مخلوق سمجھ کر گھور رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے تو  دبی زبان سے یہ پوچھ لیا کہ شراب کے بغیر معدہ کی کارکردگی میں کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟  کچھ تو ایسے بیباک نکلے کہ بغیر شراب دیگر کارکردگیوں کے احوال جاننا چاہتے تھے۔

ہم نے کہا بھائیو پہلے اس غلاظت سے باہر نکلو پھر پتہ چلے گا کہ اس ام الخبائث نے تمھارے پرفارمنس کی کہاں کہاں مت مار رکھی ہے۔

پہلا جھٹکا تو ہمیں تب لگا تھا جب ہوٹل کے روم میں داخل ہوتے ہی شاندار انٹیرئیر کے بیچ سجی سجائی میز پر شراب کی مختلف النوع بوتلیں مہمان کی منتظر دکھائ دیں۔ میں نے پہلی فرصت میں انھیں اٹھاکر شو ریک میں پٹخ دیا کہ نظروں سے دور کرنے کا فوری اور آسان نسخہ یہی تھا۔

ہمارے امیر سفر  کے تقوی کا یہ عالم کہ انھیں شو ریک میں بھی ان بوتلوں کی موجودگی کھٹکتی۔ فرماتے کہ اس سے جوتوں کی توہین ہوتی ہے۔ اگلے ہی دن ان بوتلوں کو انکے اصل مقام تک پہنچادیا گیا  یعنی ڈسٹ بین کی نذر۔ ہاؤز کیپنگ اسٹاف کے لئے شراب کی سیل بند قیمتی بوتلوں کا کچرے کے ڈھیر سے بیچارگی سے جھانکنا تاریخی صدمہ کا سبب ہوا۔

ان کی نظروں سے یہ حسرت بے تاب جھلکتی نہیں بلکہ ابلتی دیکھی کہ آپ نہ سہی،  ہم پر ہی کرم فرمادیتے۔ ہم انھیں کیسے سمجھائیں کہ اللہ کے بندو، اپنی گاڑھی کمائی کے عوض آپ لوگ درد سر ہی نہیں درد جگر بھی خریدتے ہو۔ انھیں کیا پتہ کہ ڈسٹ بین کا یہ مثالی استعمال ہمارے لئے ایک اچیومنٹ سے کم نہ تھا کہ ہم نے اس قوم کو کم ازکم پانچ بوتلوں سے چھٹکارہ دلایا۔

مجاز سے کسی خیر خواہ نے پوچھا تھا کہ کیوں صاحب! آپ کے والدین آپ کی رندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے ؟”

”جی نہیں۔ ” مجازؔ بولے۔

”کیوں۔ ۔؟”

”لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے لیکن خوش قسمتی سے میرے والدین سعادت مند ہیں۔ ”

ویتنامیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انکے بزرگ ہی نہیں واعظین و ناصحین بھی نرے ‘سعادتمند’ ہیں جو باہمی تعاون کے جذبہ سے سرشار مل جل کر جام لنڈھاتے ہیں۔ ہمیں خوشی تھی کہ آج ہم نے انھیں حقیقی خیرخواہی اور سچی  ‘سعادتمندی ‘سے روشناس کروادیا۔

مرد گھنٹے

ویتنام کا دورہ جب سر پرآن پڑا توتواریخ کو لے کر بڑی الجھن تھی۔ ایک طرف سٹی کانفرنس سے ایک دن محرومی بڑی کھٹک رہی تھی وہیں پری کانفرنس اسائنمنٹ  اور فیلڈ ورک کے اپنے تقاضے۔

دل تو چاہ رہاتھا کہ سمندر پار کلائنٹ سے کہہ دوں فی الحال طبیعت متلارہی ہے اور ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ اس حالت میں ویتنام جیسے کسی ملک کا سفر آنتوں کی صحت کے لئے آزمائشی جوکھم ہوسکتا ہے۔ لیکن ای میل رمائنڈرس کا سلسلہ ایسے تھا کہ مانو وصولی قرض کی دہائ دے جارہی ہو۔ ہمارے ایک عزیز جو چین النسل اقوام کے ساتھ کام کا ذاتی تجربہ رکھتے ہیں بہت پہلے وارننگ دے چکے تھے کہ خوب سوچ سمجھ کر قدم بڑھانا کہ یہ وہ گلی ڈنڈے کا میدان ہے جہاں کمزور کھلاڑی کے لئے  کھیل ، کھیل نہیں وبال جان بن جاتا ہے۔اور ٹیڑھی گلیوں کے لہراتے  پلٹ وار،  دن میں تارے ہی نہیں رات میں سورج بھی دکھا سکتے ہیں۔ انٹر پرینیورشپ کے شوق تلے ہم نے ان اندیشوں کو پروفیشنل رقابت سے آلودہ وسوسہ مان کر ویسے ہی نظر انداز کرنا شروع کیا، جیسے مودی جی اپنے منسٹرس کو فرماتے ہیں۔ ہمارے بہی خواہوں نے بھی دورہ ویتنام کے حوالے سے ہماری بیتابی کوتاڑ لیا تھا کہ۔ ۔

ناصحا  مت  کر نصیحت  دل   میرا  گھبرائے   ہے

میں اسے سمجھوں ہوں دشمن،  جو مجھے سمجھائے ہے

 مزید کسی نصیحت کا جوکھم مول لینے سے وہ بھی کترانے لگے کہ دوستی کی سلامتی بھی متاع عزیز تھی۔

اس داستان بیتابی کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اپنے اسائنمنٹس اور ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیا تھا اور بس ویتنام کے سپنوں میں کھو گئے تھے۔ سچ یہ ہے کہ پرواز سے قبل لمحہ آخر تک اپنی تحریکی ذمہ داریوں کے علاوہ کسی شئے کا ہوش نہ تھا۔ گھر گھر جاکر دستک دیتے اور کانفرنس میں شرکت کی دعوت۔ یہ اور بات ہے کہ جب کوئ کانفرنس کے پہلے دن ساتھ چلنے کی بات کرتا تو عار کے مارے گفتگو کا رخ احوال موسم اور خیریت متعلقین کی طرف موڑنے میں عافیت محسوس ہوتی۔ اس رات ہم دیر گئے تک پروگرام سے متعلق اس پی پی ٹی کی تیاری میں جٹے تھے جوخداجانے کیسے ہماری to do لسٹ میں گھس پیٹھ کا درجہ پانے میں کامیاب ہوگئ تھی۔ ویتنام پہنچ کر بھی ہمیں اسی پرزینٹیشن کی فکر لاحق تھی جسے علامہ شارق اندوری تاریخ انسانی کی سب سے بڑی پی پی ٹی قرار دیتے ہیں۔ میں نے وجہ اعزاز پوچھی تو فرمانے لگے معلوم انسانی تاریخ میں کوئ ایسی پی پی ٹی نہ بنی جس نے ایسی ٹھوک مقدار میں بڑی ہنرمند شخصیات کے man hours ہضم کرلئیے۔ پاس بیٹھے احباب کی تفہیم کے لئیے مشین ٹرانسلیشن کے ماہر ہمارے ایک رفیق نے ترجمانی فرمائ کہ اس پرزینٹیشن  نے کئ ‘مرد گھنٹے’ ہضم کرلئیے۔ اس فی البدیہہ لغت شکن ٹرانسلیشن کا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ احباب نے دماغی تھکن کا بہانہ بناکر چٹ پٹ گھروں کی راہ لی اور ہم نے کچھ ضروری تیاری جٹاکر ایسی دوڑ لگائ کہ چیک ان سے نامراد لوٹنے سے بچنے میں بالآخر بال بال کامیاب ہوگئے۔

میرا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی سے نابلد مشین ٹرانسلیشن کے ماہرین جس رخ پر اس بے لگام اردو گھوڑے کو دوڑارہے ہیں عنقریب یہ بے ہنگم گھوڑا ویسی ہی سہولت بہم بچے کھچے عاشقان زبان وادب کو پہنچائے گا جیسی سہولت ہو -چی-منھا نے سائگون باسیوں کو پہنچائ۔

مئے خانہ سے کارخانہ

ہم نے اس پرپیچ کتھا کی شروعات میں ہی جاں بخشی کی نیت سے یہ ڈسکلیمر جڑ دیا تھا کہ ہماری بے لگام گاڑی قارئین کے شکایتی چالانوں کو روندتے ہوئے اوورٹیک کرنے میں  آزاد رہے گی۔ نیت بھی خالص اوور ٹیک کی تھی لیکن پتہ ہی نہیں چلا کب رورس گئیر پڑا اور ہمیں کہیں دور حیدراباد لا پٹخ دیا۔

فرمان یوسفی ہے کہ ہوائ جہاز،  بندوق کی گولی اور پٹھان کی چال میں ریورس گیر کا کوئ تصور نہیں۔  ہمارے نام سے ذہین قارئین نے خوب سمجھ لیا ہوگا کہ ہم پٹھانی چال چلن سے سو فیصد محروم ہیں۔  شجاعت بھائی  کا خیال ہے کہ ہمارے شب وروز (بالخصوص تحریکی)  میں رورس گیر کا بڑا دخل ہے۔ کبھی خدمت خلق میں جٹ گئے تو پروفیشنل فورمس نے للکارا۔ وہاں قدم بڑھا ہی رہے تھے کہ ملٹی میڈیا کی دہائی  کا رورس گیر۔ کبھی پی آر ، کبھی فائنانس،  کبھی دعوت،  کبھی آئی ٹی  ہر ڈپارٹمنٹ موم کی ناک مان کر موڑ لیتا ہے  اورہماری گاڑی بس ریورس گیر میں ہی چلے چلتی ہے۔

قصہ مختصر،  آئیے پھر سے سائیگون چلے چلتے ہیں جہاں سے اب ہمارا چل چلاؤ ہے۔ کچھ دیر میں ہمیں ایک بڑے مئے خانے سے رہائی نصیب ہوگی۔ اور ملیشیا کا دیدار نصیب ہوگا۔

کوئی منزل نہ ملی پاؤں  جو گھر سے نکلا

پھر سفر پیش تھا جب گرد سفر سے نکلا

سائیگون کے انوکھے تجربہ کے بعد ملیشیا کے متعلق انہونا تجسس تھا۔ میرکارواں ( دو رکنی)  نے ہمارے تجسس پر ڈرم بھر پانی انڈیل دیا۔ فرمانے لگے کہ زیادہ امید نہ باندھنا۔ فرق بس یہ ہے کہ یہ مئے خانہ ہے اور وہ کارخانہ۔ ملیشیا میں ہمارے ایک مقامی دوست نے مزید تصحیح فرمائی کہ وہ بڑے مئے خانہ میں چھوٹا کارخانہ ہے اور یہ بڑے کارخانے میں چھوٹا مئے خانہ۔

ملیشیا میں ہماری مصروفیت کسی کلائنٹ کے طئے شدہ شیڈول کی حد بندیو ں سے آزاد تھی۔ یعنی ہم بزنس کے مصنوعی چونچلوں سے رہائی پاکر یار دوستوں کی معیت میں ٹی شرٹ،  پاجامہ اور چپل ڈالے  مٹر گشتی کرنے کی بین الاقوامی اجازت پاچکے تھے۔

سائیگون کے پرلطف ماحول نے بہت کچھ لکھوایا۔ چٹکلے بھی دئیے اور پیامات عبرت بھی۔ شا ئد یہ ویتنام کے ماحول کا کرشمہ اور احباب کی پر لطف کرم فرمائی تھی کہ قلم کی سیاہی میں  مٹھاس،  کھٹاس ، بھڑاس سب کچھ بِندھاس شامل ہوتی چلی گئ۔

کھٹی میٹھی آمیزش تو بھلی لیکن اطمینان اس بات کا ہے کہ اس کھلے میخانے میں  ہمارے ساتھ ہمارا قلم بھی الکحل کے دیوانہ پن سے محفوظ رہا ورنہ کئ سفر ناموں میں ہم نے اچھے بھلے مسافر کو بکتے اور بہکتے دیکھا۔

ملیشیا ، ویتنام سے مختلف ہے۔ ترقی کے کرشمے اور فکری مماثلت کے جلووں نے یہاں ہمارے چٹکلہ پن پر سنجیدگی کی باریک چادر تان دی۔

ممکن ہے ملیشیا کا منظر نامہ آپ کو قدرے مختلف اور ہماری تحریر کا رنگ بھی کچھ جدا گانہ لگے۔ اسے بھی ہضم کرجانا۔

 اس اضافی ڈسکلیمر کے ساتھ چلئے اب چلتے ہیں ..ملایا دیس یعنی ملائشیا۔۔ !

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close