ادبدیگر نثری اصناف

گلیشیئر ٹوٹ رہے تھے اور میں خواب کی زمین پر چل رہا تھا

زندہ سچائی، زندہ واقعات اور زندہ لوگوں سے اس کہانی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس کہانی کا مردہ لوگوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

مشرف عالم ذوقی

ہم جاگتے ہوئے بھی نیند میں ہوتے ہیں۔ جیسے نیند میں ہوتے ہیں تو ہم زیادہ جاگتے ہیں۔ جیسے آنکھوں کے آگے دور تک پھیلی ہوئی نہ ختم ہونے والی دھند ہوتی ہے۔ یہ دھند ہمیں گلیشیئر پر تیرتے خواب سے برآمد کرتی ہے۔۔۔ یا گلیشیئر میں تیرتے خواب، دھند سے ہمیں دریافت کرلیتے ہیں۔

 دھند میں سارے ملک ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اور ان کی حقیقت فرضی ہوتی ہے۔ اور یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ کہانی اتنی ہی فرضی ہے جتنا کوئی ملک یا حکمراں۔

فرض کیجئے، اس دن گلیشیئر ٹوٹ رہے تھے اور میں خواب کی زمین پر چل رہا تھا۔مگر اصل واقعہ یوں ہے کہ سورج کی شعاؤں کے کمرے میں داخل ہوتے ہی جب میں بستر سے اٹھا اور پاؤں زمین پر رکھے تو دھم سے آواز ہوئی اور میں اوندھے منہ زمین پر گر پڑا۔مسلسل دوتین بار گرنے کے اس عمل کے بعد میرا حیران ہونا واجب تھا کہ اچانک ایک رات میں ،سات آٹھ گھنٹے کی مختصر بیداری یا نیند کے دوران میرے پاؤں میں کچھ گڑبڑی آگئی تھی۔ اور یہ گڑبڑی کفکا کے میٹامارفوسس کہیں الگ تھی۔یہ یقین کرنا مشکل تھا، مگرآئینہ میں خود کے سراپا کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا شدت سے احساس ہوگیا کہ رات ہی رات میرا ایک پیر، دوسرے سے بڑا،یا دوسراپیر پہلے سے کہیں چھوٹا ہوگیاہے۔ اور اسی لئے جسم کا توازن بگڑ چکا ہے۔ جسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لئے کسی لاٹھی، ڈنڈے، اسٹیک، ہاکی یا دیوار کا سہارا لینا ضروری تھا۔اپنی صبح کی تمام ضروریات سے فارغ ہونے کے لئے مجھے مسلسل سہارے کی ضرورت تھی۔ دوبارہ گرنے کا خوف ایسا تھا کہ میں نے خاموشی سے جسم کو سمیٹا۔ ہاتھوں کو دیوار پر رکھا اور اچک کر بستر پر بیٹھ گیا۔ در اصل میں اس بات کا یقین کرنا چاہتا تھاکہ اب بھی میں کسی خواب میں قید ہوں۔ گلیشیئر پر چل رہا ہوں۔ ۔۔یا گلیشیئر میرے پاؤں کے وزن سے ٹوٹ رہے ہیں۔ اور یہ سارا عمل خواب میں وقوع پزیر ہورہا ہے۔یہ یقین کرنے میں مجھے کافی وقت لگا کہ یہ خواب نہیں ہے، اور اچانک برسوں کی طویل مسافت کے بعد یہ حادثہ میرے ساتھ رونما ہوچکاہے کہ میرا ایک پاؤں دوسرے سے چھوٹا یا دوسرا اچانک پہلے سے بڑا ہوگیا ہے۔

۰۰

نیند میں کچھ لوگوں نے جادوگر کا قتل کردیا۔

کیا میں بھی ان میں سے ایک تھا؟ ایسے سوال اور جواب دونوں دھند کی آغوش میں ہیں۔ جادوگر کا ایک پریشان کن ماضی تھا۔ بچپن میں وہ بوٹ پالش کرتا تھا۔ جادو کے نئے نئے تماشے دیکھ کر اسے بھی جادو گر بننے کا  شوق پیدا ہوا۔ لیکن اس میں اور دوسرے جادوگروں میں فرق تھا۔ جب اسے جادو کے کئی چھوٹے موٹے تماشے دکھانے آگئے تو اپنی محنت سے وہ اس مقام پر پہنچا جہاں اس نے جادو گری میں کمال کی مہارت حاصل کرلی۔اس کے ایک اشارے پر گاؤں کے گاؤں جل جاتے تھے۔اس کے ایک اشارے پر لوگوں کی جیب سے  نوٹ اور سکّے غائب ہوجاتے تھے بلکہ کہتے ہیں کہ ایک دن ایک بینک کے قریب سے اس کا گزر ہوا تو بینک میں بھگدڑ مچ گئی۔ بینک کا سارا کیش غائب تھا۔رجسٹر، فائلیں ہوا میں اڑ رہے تھے اور جل رہے تھے۔ جادوگر کے اس نئے تماشے سے  لوگ اب بھی ناواقف تھے۔بلکہ ایک دن تو اس کے تماشے پر سونے کے شوقین مرد اور زیورات پر جان دینے والی عورتیں حیران رہ گئیں۔ ایک بڑا سا ہال تھا۔ کھچاکھچ لوگ جمع تھے۔ ہال میں اندھیرا تھا۔ اسٹیج پر روشنی کے دائرے میں بڑا سا گول ہیٹ لگائے جادوگر مسکرا رہا تھا۔روشنی کے دائرے میں اس کا ہاتھ چمکا۔۔۔۔تاریکی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے ہوش اڑ گئے۔ یہ اس کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی تھی۔روشنی کے دائرے میں اس کی ہتھیلی سے سرخ خون نکل رہا تھا۔جادوگر کا ایک اسسٹنٹ ایک پلاسٹک کی بالٹی لے آیا۔ شو کو کامیاب بنانے کے لئے جادوگر نے خوف زدہ، پر اسرار آوازوں ، چیخ اور سسکیوں کاسہارا لیا تھا۔ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اس نے قہقہہ لگایااور ہتھیلیوں سے نکلنے والی خون کی دھار سے بالٹی بھرنے لگی۔ پھر بالٹی لبالب بھرگئی۔۔۔۔اور پھر یوں ہوا کہ بالٹی سے اچھل اچھل کر خون اسٹیج پر بہنے لگا۔ اور خون کی دھار صرف اسٹیج تک نہیں رُکی بلکہ اس وقت لوگوں کی چینخ نکل گئی جب ہال میں جمع تمام لوگوں نے محسوس کیا کہ سرخ خون کی  لہریں اسٹیج سے ہوکراب آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ دیکھنے والوں کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ افرا تفری مچ گئی۔ جس کسی کو جہاں کوئی دروازہ نظر آیا، گرتے پڑتے اسی دروازے کی طرف دوڑ لگائی۔جب وہ باہر آئے تو باہر کی کھلی فضا میں بھی جادوگر کے قہقہے ان کا پیچھا کررہے تھے۔ پھر ایک آواز آئی۔ جاتے جاتے اپنی جیبوں کی تلاشی لے لیجئے۔ آپ گھڑیاں پہنتے ہیں تو تو وقت دیکھ لیجئے۔عورتوں کے گلے میں زیور ہوتووہ پہلے اطمینان کرلیں کہ یہ زیور اب بھی موجود ہیں یا نہیں۔ تلاشی لی گئی اور جیساکہ جادوگر نے کہا تھا، کچھ بھی محفوظ نہیں تھا۔سونے اور چاندی کے زیورات گم تھے۔ یہاں تک کہ ہاتھوں کی انگوٹھیاں بھی غائب تھیں۔ جیب میں پڑے ہوئے چھوٹے بڑے روپئے اور سکے غائب تھے۔۔۔۔تماشہ یہ کہ ان سب کی نظروں کے سامنے جادوگر ہال سے باہر آیا۔ اس وقت اس کے بدن پر کافی مہنگا لباس تھا۔ وہ مہنگی گاڑی میں بیٹھا اور اُڑن چھو ہوگیا۔

’یہ کیسا تماشہ ہے؟‘

بہت تھوڑے لوگوں کی ناراضگی کے باوجود سڑک پر اس وقت ایک ہجوم ایسا بھی تھا جو جادوگر کی شان،محبت اورحمایت میں نعرے لگا رہا تھا۔

کسی نے کہا۔ ہماری جیب کٹ گئی۔

ایک خاتون کی آوازآئی۔ میرے زیورات بہت قیمتی تھے

ہجوم خاصہ ناراض تھا۔ سب قربان کردیجئے جادوگر پر۔ اور بتائے، کیا آپ میں سے کسی نے اس سے قبل جادو کا ایسا کوئی تماشہ دیکھا تھا؟‘

یہ جادوگر کے بھکت تھے۔ اور کسی میں بھی لٹنے اور ٹھگے جانے کے باوجود یہ ہمت نہیں تھی کہ جادوگر کے خلاف ایک لفظ بھی زبان پر لاسکیں۔

دیکھنے والے دم بخورد تھے۔ اچانک ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا۔ وہ کچھ جادوگر کے بارے میں کہنا چاہتا تھا مگر یہ دیکھ کر ہجوم میں خوف سرایت کرگیا کہ جادوگر کے ایک بھکت نے ایک جھٹکے سے اس کی زبان کھینچ لی تھی۔ کٹی ہوئی زبان زمین پر کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ کچھ عورتوں کی چیخ نکل گئی۔ ایک شخص آگے بڑھا۔ میں اسے پہچانتا تھا۔ وہ ایک اخبار میں صحافی کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔اس نے اس حادثہ کو محفوظ کرنے کے لئے  موبائل نکالا تو ایک بھکت نے  اس کا موبائل جھپٹ لیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ اپنے ہاتھوں سے محروم تھا۔

دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے گئے تھے۔

’ کیا یہاں پولس آئے گی؟‘

میرے لئے یہ سوچنا مشکل تھا، کیونکہ اسی لمحہ جادوگر اپنی قیمتی گاڑی پر لوٹ آیا تھا۔وہ شاہانہ شان سے گاڑی سے اترا۔ گاڑی سے اترتے ہی کچھ بھکتوں نے قومی ترانہ چھیڑدیا۔ ہیبت اور خوف میں ڈوبے ہوئے لوگ اپنی جگہ منجمد ہوگئے۔ اب سب مل کر قومی ترانہ گارہے تھے۔۔۔۔

۰۰

میں نے یہ تمام مناظر اپنی آنکھوں سے  دیکھے تھے بلکہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو تماشہ دیکھنے ہال میں جمع ہوئے تھے۔ خون کی بڑی بڑی تیز اور موٹی دھار کو اچھل اچھل کر اپنی طرف بڑھتے ہوئے میں نے بھی دیکھا تھا۔ اور یہ کوئی خواب یا  وہم نہیں تھا، میرے کپڑے اس وقت بھی بھیگے ہوئے تھے اور سرخ تھے۔ میں ان کچھ لوگوں میں سے ایک تھا، جو اس وقت جادوگرسے شدید قسم کی نفرت محسوس کررہے تھے۔ یہ لوگ خوفزدہ تھے اور اس بات سے ڈرے ہوئے بھی کہ جادوگر کہیں بھی ہو، ان کی آنکھوں میں اتری ہوئی نفرت کو محسوس کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جادوگر کا تماشہ اور کھیل کے باوجود جو نقصان ہونا تھا، وہ ہوچکا تھا۔ اس لئے میں ان بہت تھوڑے لوگوں میں سے ایک تھا، جسے یہ خیال آیا تھا کہ جادوگر کا قتل ضروری ہے۔ ورنہ خون کی یہ دھار پھیلتے پھیلتے کہاں تک پھیل جائے گی، کہنا مشکل ہے۔اور یہ سوچ بھی غلط نہیں تھی کہ جادوگر اپنے عزائم سے  اپنے تمام باغیوں کو کنگال بنا سکتا ہے۔ مثال کے لئے، جیسے آج ہی عورتوں کے زیورات گم ہوگئے۔ مردوں کے چاندی کے سکے کھوگئے۔

میں تماشہ گاہ سے نکل کر گھر آیا تو گھر کا ماحول بدلا ہوا تھا۔ ڈرائنگ روم میں  وقت بتانے والی گھڑی بند تھی۔ بلکہ یہ دیوار گھڑی پچھلے تین برس سے بند تھی۔ اور دن تاریخ کے یاد رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اسی دن اسی تاریخ میں جادوگر اپنے نئے تماشوں سے گفتگو کا موضوع بنا تھا۔میں نے یہ بات گھر میں کئی باردہرائی کہ بند گھڑی کو گھر میں رکھنا مناسب نہیں۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان کا چلتا ہوا وقت رک جاتا ہے۔

میں نے پہلی بارباپ کو غصہ میں دیکھا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے۔’ سُنا تم نے۔ دیوار گھڑی کو باہر پھینک آؤ۔‘

’مگر کیوں۔ ‘

جواب ماں نے دیا۔’ کیونکہ وقت ٹھہر گیا ہے۔ کلینڈر سے مہینے غائب ہوگئے۔ اب گھڑیال کے گھنٹوں اور گھڑیوں کی ضرورت نہیں۔ ‘

میری بہن اداس تھی۔ اس نے وجہ بتائی۔ اس نے بڑی محنت سے گولڑ میں سکے اور روپئے جمع کئے تھے۔

’پھر؟‘

’غائب ہوگئے۔‘

ماں نے بتایا۔ وہ آج بینک گئی تھی۔پچھلے کئی برسوں سے وہ بینک کے لاکر میں زیورات جمع کررہی تھی۔‘

یہ بات سارے گھر کو پتہ تھی۔ ماں زیورات گھر میں نہیں رکھتی تھی۔ اس نے لاکر خرید رکھا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح بینک جاتی۔ اپنا لاکر کھولتی۔ اور زیورات جمع کرادیتی۔

میں نے اداسی سے پوچھا۔ پھر کیا ہوا۔

’لاکر خالی تھا۔ وہاں بھیڑ جمع تھی۔ بینک کے سارے لاکر خالی تھے۔ سونے اور چاندی کے تمام زیورات غائب تھے۔‘

باپ نے سیاہ چائے کا آخری گھونٹ  بھرتے ہوئے کہا۔’ اور سُنو۔ یہاں تجوری سے سارے کیش غائب ہیں۔ میں بینک بھی گیا تھا۔لمبی قطار تھی۔جب قطار یاد کرتا ہوا میں اپنا پیسہ نکالنے گیا تو معلوم ہوا، میرا نام بینک کے اکاؤنٹ، رجسٹر، کمپیوٹر، آن لائن ریکارڈ کہیں بھی شامل نہیں ہے۔۔۔۔‘

باپ کی آواز دم توڑتی ہوئی اور کمزور تھی۔ سنا تم نے۔ ہم برباد ہوگئے۔

میں دھّم سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ سارا گھر اس وقت مجھے گھومتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔یہ سب یقیناً جادوگر کا کیا دھرا تھا۔ مگر تعجب یہ کہ گھر میں بھی کوئی جادوگر کا نام لینے کے لئے تیار نہیں تھا۔

میں نے دیکھا، باپ خاصہ اداس تھے۔ ان کے چہرے پر اچانک جھرّیوں کا جال پھیل گیا تھا۔ وہ اٹک اٹک کر بول رہے تھے۔ ان کا لب ولہجہ بھاری اورزندگی سے بے زار تھا۔

میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔ آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ کیش اورگہنے غائب ہوگئے تو کیا ہوا، سنگاپور،نارتھ کوریا، گھانا، فجی،فیلپائن۔۔۔۔یہ دنیا گھومتے گھومتے کیش لیس تہذیب میں داخل ہوگئی ہے۔

میں نے باپ کو اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ دہاڑتے ہوئے اٹھے اور میز پر پڑا ہوا پیپر ویٹ میری طرف اچھال دیا۔’ کیش لیس تہذیب کے لئے کیش تو ہونا چاہئے نا۔۔۔۔‘

۰۰

یہی وہ لمحہ تھا پیپر ویٹ اچھل کر میرے سرپر لگا۔ سر سے ٹکرانے کے بعد، زمین پر گرنے سے آواز ہوئی۔ اور اس آواز سے میں بیدار ہوا تھا۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے دیکھا کہ سورج کی شعائیں میرے کمرے میں داخل ہوچکی ہیں اور بستر سے اٹھنے کی کوشش میں ، میں نے محسوس کیا تھا کہ میرا ایک پیر دوسرے پیر سے چھوٹا ہوگیا ہے۔میں نے دوبارہ اٹھنے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ اس وقت تک ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگ چکا ہوتا ہے۔ اور باپ کو یہ بات بالکل بھی پسند نہیں کہ ناشتہ کے لئے بار بار آوازدی جائے۔۔ دوبار آواز آچکی تھی۔ خود کو بحال کرتے ہوئے میں نے جواب دیا تھا۔ بس پانچ منٹ میں آرہا ہوں۔ ۔۔۔لیکن سوال تھا کہ  اس طرح لڑکھڑاتے ہوئے میں گھر والوں کا سامناکیسے کروں گا۔میں نے پانچ منٹ فریش ہونے میں لگایا۔ اس درمیان ایسا کئی بار ہوا جب میں گرتے گرتے بچا۔دیوار، دروازے کا سہارا لیتے ہوئے میں اپنا جوتا تلاش کررہا تھا۔جوتے میں کپڑے کی ایک موٹی تہہ چڑھانے کے بعدمیں نے پیر ڈالے تو یہ سوچ کر خوش ہوا کہ جسم کا توازن قائم ہوچکا ہے۔ ہاں جوتے کے تلّے میں کپڑے کی موٹی تہہ ہونے کی وجہ سے  مجھے چلنے میں تھوڑی پریشانی ہورہی تھی۔ مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اس پریشانی کو اس وقت قبول کرلوں۔

میں ناشتہ کی میز پر آیا تو گھر والے ناشتہ شروع کرچکے تھے۔ میں نے باپ کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر گہری اداسی پسری ہوئی تھی۔ ایک لمحہ کے لئے  انہوں نے میری طرف دیکھا۔ پھر پوچھا

’تم نے اخبار دیکھا؟‘

’نہیں۔ ‘

’ کل کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

’کس جرم میں۔ ‘

باپ نے ایک نوالہ روٹی کا توڑا۔ منہ میں رکھا۔’ کچھ باغی نیند میں جادوگر کو قتل کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔۔‘

’ نیند میں ؟‘

باپ میری طرف دیکھ کر ہنسے۔۔۔۔۔’ کیا تم اسے چھوٹی بات سمجھتے ہو، ان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔ ’ قتل، قتل ہے۔اصلیت میں کیا جائے یا نیند میں۔ ‘

۰۰

میرے لئے یہ تمام مکالمے بوجھل تھے۔ یہ تمام تفصیلات تھکا دینے والی تھیں۔ اب میں ایک نئے سفر پر نکلنے والا تھا۔ مجھے ان خوفناک، خوفزدہ، سہمے ہوئے ماحول سے خود کو باہر نکالنا تھالیکن کیا یہ ممکن تھا۔ ممکن نہیں تھا۔لیکن مجھے ممکن بنانا تھا۔ چہرے سے سنجیدگی کی گردہٹانی تھی۔اور اس کی جگہ رومانیت کے تصور کو دینا تھا۔میرے سامنے للی تھی۔اسے ہمیشہ اس بات کی شکایت تھی کہ میں کبھی وقت پر نہیں آتا۔ وہ ہمیشہ میرے ہاتھوں کو تھام کر کہتی تھی۔کیسے محبوب ہو کہ ہمیشہ تاخیر ہوجاتی ہے۔مجھے ہی انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس نے دھمکی بھی دی تھی کہ آئندہ تاخیر ہوئی تو وہ بریک اپ کرلے گی۔محبت کے لمحوں میں محبت کے سوا کوئی بھی دوسری بات للی کو گوارہ نہیں تھی۔اور وہ اس بات پر خوش ہوتی تھی کہ میں محبت کرنا جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ محبوبہ پر رومانی باتوں سے کیسے جادو کیا جاسکتا ہے۔

للی سے ملنے سے قبل پہلا مسئلہ یہ تھا کہ مجھے اپنے حلیہ کو درست کرنا تھا۔ للی کو اچھے لباس پسند تھے۔ چھینک، کھانسی،زکام، لنگرانااسے بالکل پسند نہیں۔ ناشتہ سے فارغ ہونے  کے بعد میں نے اپنے کمرے تک آنے کے لئے سیڑھیوں کا سہارا لیا تو ایک بار پھر چونک گیا۔ بائیں پیرکے جوتے کے تلے میں رکھا کپڑا نکل گیا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ کپڑا للی کے سامنے بھی نکل سکتا تھا۔ اسلئے للی کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنے پاؤں کے لئے کچھ بہتر انتظام کرنے تھے۔ اس بہتر انتظام کے لئے ضروری تھا کہ میں سڑک کے اس پار فٹ پاتھ پر جو موچی بیٹھتا ہے، اس سے مشورہ کروں۔

مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس وقت موچی کے جوتا بنانے والی جگہ کے پاس ایک لمبی قطار تھی۔ میں نے ایسی کوئی قطار اس سے قبل موچی کے پاس کبھی نہیں دیکھی تھی۔ قطار میں کھڑے لوگوں کے پاس ایک ہی موضوع تھا،یہ لوگ ان باغیوں کو کوس رہے تھے جو نیندمیں جادوگر کا قتل کرنا چاہتے تھے۔۔ دھول، گرد،بدبو کا سامنا کرتے ہوئے ایک گھنٹے کے بعد میرا نمبر آیا۔ اس سے قبل کہ میں چھوٹے بڑے پیر کے بارے میں بتاؤں ، موچی نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔

وہ زور سے ہنسا۔ ’ آج امید سے کہیں زیادہ کسٹمر آئے ہیں۔ دیکھئے، آپ کے پیچھے بھی لمبی قطار ہے۔‘

’ ہاں۔ ‘

’ سب کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ گھبرائیں نہیں۔ ‘

’پھر آپ کیا کریں گے۔‘

’میں جوتے کے تلّے میں چمڑے کی موٹی تہہ بیٹھا دوں گا۔پھر آپ کو چلنے میں پریشانی نہیں ہوگی۔‘

۰۰

کافی ہاؤس جب میں للی کے پاس پہنچا تو وہ جانے کی تیاری کررہی تھی۔میرے کافی منانے کے باوجود بھی وہ ایک منٹ ٹھہرنے کو راضی نہیں تھی۔مگر یہ کرشمہ تھا کہ موسم کا حال سنانے پر وہ دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔

’ ہاں بہت  برا موسم ہے۔‘

’ امید سے کہیں زیادہ بُرا۔‘

للی نے دو کافی کا آرڈر دیتے ہوئے غور سے میری طرف دیکھا۔ ’اچھا  سُنو۔ جب تم میری طرف آرہے تھے، اگر میں غلط نہیں ہوں تو تم تھوڑا سا لنگڑارہے تھے۔۔۔۔‘

’ موسم بہت بُرا ہے۔‘ میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔

’ہاں بُرا ہے۔ مگر تم لنگڑا رہے تھے۔‘

’ خنکی بڑھ گئی ہے۔‘

’ہاں بڑھ گئی ہے۔مگر تم لنگڑارہے تھے۔‘

’میری بات چھوڑو للی۔ دیکھو کافی آگئی۔ کافی پیئو۔ بتاؤ کافی کیسی ہے۔۔۔۔للی نے کافی کا پہلا گھونٹ لیا۔ اس کے لہجے میں ناراضگی تھی۔ کافی اچھی ہے۔مگر تم۔۔۔۔‘

اس کی بات سے پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں زور سے چیخا۔’ ٹھگنی عورت۔ ہاں میں لنگڑا رہا تھا۔ آج سبھی لنگرارہے ہیں۔ تم بھی بہت جلد لنگڑاکر چلو گی۔اورذرامجھ پر اعتراض کرنے سے قبل اپنے دانتوں کا جائزہ لو۔ دانت پیلے پڑچکے ہیں۔ اور ہاں میرا خیال ہے کہ تمہیں اینمیا ہے۔ تمہارے جسم میں خون کا قطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ تم جب بولتی ہو تو بدبو کا  ریلا اٹھتا ہے۔‘

میں کچھ اور بھی کہتا، لیکن اچانک دیکھا،للی اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی۔ وہ کافی غصے میں تھی۔ میں نے اسے تیز تیز پاؤں پٹکتے ہوئے کافی ہاؤس کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ میں حیران تھا۔ یہ اچانک مجھے کیا ہوگیا تھا۔ محبت کے ان حسین لمحوں میں یہ کون تھا، جو میرے اندر آگیا تھا۔ میری روح کی چھال میں۔ میرے جسم کی کینچلی میں۔ میرے منہ کی بدبو میں۔ کیا یہ الفاظ میرے تھے؟ للی تو میرے محبت بھرے مکالموں کی دیوانی تھی۔۔۔ پھر میری جگہ یہ کون تھا۔۔؟‘

۰۰

ہم جاگتے ہوئے بھی نیند میں ہوتے ہیں۔ جیسے نیند میں ہوتے ہیں توزیادہ جاگتے ہیں۔ ۔۔جیسے آنکھوں کے آگے دور تک پھیلی ہوئی،نہ ختم ہونے والی دھند ہوتی ہے۔یہ دھند ہمیں گلیشیئرس میں تیرتے خوابوں سے برآمد کرتی ہے۔۔۔

اچانک کچھ لوگوں کے چیخنے کی صدا آئی۔

’ باہر بھاگو۔ بھیانک طوفان ہے۔‘

میں اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں تھا۔ لیکن ابھی تو موسم میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ میں نے نظریں اٹھاکر دیکھا۔ آسمان اچانک زرد اور سیاہ ہوگیا تھا۔ تیز ہوا گرج کے ساتھ موسم کے بدل جانے کی اطلاع دے رہی تھی۔ کافی ہاؤس خالی ہوگیا۔میں لڑکھڑاتے ہوئے گرتا پڑتا کافی ہاؤس سے باہر آیا۔ تیز طوفان کی وجہ سے  اچانک سڑکوں پر گاڑیاں رُک گئی تھیں۔ ہوا کی شدّت اتنی زیادہ تھی کہ کچھ لوگ سڑک پر گرے ہوئے نظر آئے۔ میں نے غبار سے بچنے کے لئے دیوار کا سہارا لیا۔ وہاں بابا سیمنٹ کا ایک بورڈ پڑا تھا۔ میں نے بورڈ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ سڑک پر شور اور ہنگامہ برپا تھا۔اس ہنگامے میں ٹھہرٹھہر کر جادوگر کانام بھی لیا جارہا تھا۔ٹھیک اسی وقت دو پولیس والوں کو  وردی میں ، میں نے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا۔ ان سے بچنے کے لئے ایک ہی راستہ تھا کہ میں خود کو بابا سیمنٹ کے بورڈ کے پیچھے چھپا لوں ، میں نے ایسا ہی کیا اور طوفان کے رُکنے کا انتظار کیا۔۔۔۔ لیکن جلدہی مجھے اس بات کا احساس ہوگیاکہ یہ طوفان جلد رُکنے والا نہیں ہے۔بھیانک طوفان ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ طوفان کا اثر کب ختم ہوگا۔

سڑکوں پر افراتفری کا ماحول تھا۔ جسے دیکھو بھاگا جارہا ہے۔میں نے کچھ چھوٹی گاڑیوں کو ہوا میں تیرتے  اورف اڑتے ہوئے دیکھا۔یہاں سے چلنے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی تو جوتا پاؤں سے نکل گیا۔ میں نے ہوا میں اپنے جوتوں کو اُڑتے  ہوئے دیکھا۔لنگڑاتے ہوئے میں جوتوں کو پکڑنے کے لئے دوڑا۔جوتے اُڑتے ہوئے سامنے والے پٹرول پمپ کی دیواروں سے ٹکرائے تھے۔ مگر پٹرول پمپ کی دیوار تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔گاڑیاں ؍ موٹر سائیکل اب بھی تیز طوفانی ہوا میں اچھل اچھل کر ادھر اُدھر گر رہے تھے۔ان کے گرنے سے دھماکہ ہوتا۔ کچھ گاڑیاں ایسی بھی تھیں ، جو ایک دھماکہ کے ساتھ گرتیں اور پھر ان گاڑیوں سے شعلے اٹھتے ہوئے نظر آتے۔۔۔۔گرتے پڑتے، توازن کو قائم رکھتے ہوئے، میں کسی طرح پٹرول پمپ تک آچکا تھا۔مگر یہاں جوتے نہیں تھے۔ جوتے غائب تھے۔ پٹرول پمپ سے بینک تک جانے والی قطار بھی طوفانی ہوا کا شکار ہوگئی تھی۔ اندھیرے کے باوجودپٹرول پمپ کے اندر بنے کمرے میں مجھے روشنی نظر آرہی تھی۔دھند اور دھیرے دھیرے پھیلتے اندھیرے کے باوجود میں اندر بنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کچھ لوگوں کودیکھ سکتا تھا۔وہ سب ٹائی اور سوٹ میں تھے۔۔۔۔انہیں طوفانی ہوا، جھکڑ، آسمانی آفت کی ذرا بھی پرواہ نہیں تھی۔میں اچانک چونک گیا۔ایک بار پھر وہ دونوں پولیس والے میری طرف بڑھ رہے تھے۔ اب ان پولیس والوں سے بچنا ضروری ہوگیا تھا۔

لڑکھڑاتے ہوئے تیزی کے ساتھ میں نے  وہاں سے بھی بھاگنا شروع کیا۔مجھے یقین نہیں تھا کہ اس بُرے موسم میں ، مجھے گھر پہنچنے میں کامیابی ملے گی۔۔سڑکوں کا برا حال تھا۔ کمزور اور کچے گھر طوفان میں گر گئے تھے۔سڑکوں پر جابجا ٹوٹے ہوئے گھروں کا ملبہ پڑا تھا۔ یقیناً ان میں انسان بھی دبے ہوں گے۔سڑک پر اب بھی چیخ پکار کا عالم تھا۔میں جب گھر میں داخل ہوا تو یقین کرنا مشکل تھا کہ میں اس خوفناک طوفان سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا ہوں۔ ۔۔۔۔ گھر والوں کو میری آمد سے زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔

’ طوفان تیز ہے۔ دروازہ بند کردو۔‘

باپ کا لہجہ سرد تھا۔

میں نے دروازہ بند کیا۔ طوفان کا شور اس قدر زیادہ تھا کہ کان کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔

باپ نے دوبارہ کہا۔طوفان کے تھمنے کے آثار نہیں ہیں۔

’ہاں۔ ‘

’ کافی تباہی ہوئی ہے۔ آگے بھی ہوگی۔‘

باپ پریشانی کے عالم میں کمرے میں ٹہلنا شروع کردیتے تھے۔اس وقت بھی وہ  ٹہل رہے تھے۔۔۔۔وہ اچانک میری طرف مڑے۔

’ کیا جادوگر کی کوئی خبر ملی۔؟

’ نہیں۔ ‘

’  مجھے بھی نہیں ملی۔‘ انہوں نے ٹہلنا جاری رکھا۔ پھر میری طرف دیکھا۔‘ ہاں تمہیں بتانا بھول گیا۔ تمہاری تلاش میں دو پولیس والے آئے تھے۔‘

’پولیس والے۔۔۔۔‘

’ہاں۔ ‘وہ تمہارے پاؤں کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔۔۔‘ میں اپنی جگہ پر تیزی سے اچھلا۔مگر کیوں۔ ۔۔۔

’ تفتیش چل رہی ہے۔ کچھ باغی اور بھی ہیں جو نیند میں جادوگر کو قتل کرنا چاہتے تھے۔رات ہی رات ایسے باغیوں کے پیر چھوٹے بڑے ہوگئے۔‘ ’وہ ہنس رہے تھے۔ کیا یہ ممکن ہے؟‘

ٹھیک اسی وقت پڑوس کے گھر سے تیز آواز آئی۔ وہاں ٹین کی چھت تیز ہوامیں اڑگئی تھی۔۔۔۔

’ طوفان تیز ہے۔‘

ہاں۔ مجھے احساس ہوا۔ باپ ٹہلتے ہوئے رک گئے ہیں۔ ان کی آنکھیں غور سے میرے ننگے پاؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ وہ کچھ بولے نہیں ، مگر ایسا احساس ہوا،جیسے وہ  پوچھنا چاہتے تھے کہ میرا جوتا کہاں ہے؟وہ شک سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔

اسی درمیان دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی۔

باپ کی آواز میں تلخی آگئی تھی۔’ لگتا ہے وہ پھر سے آگئے ہیں۔ ‘

مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close