ادبافسانہ

 یہ عشق نہیں آساں!

 مارننگ واک روز کا معمول تھا ریٹائر منٹ کے بعدسونی سونی زندگی میں مارننگ واک کی اہمیت بڑھ جا تی ہے، صبح سویر گھر سے نکل کر نیشنل پارک تک پہنچتے پہنچتے ہم ریٹائٹرڈ دوستوں کی تعداد پانچ سات تک ہو جاتی اور یہاں پہنچ کر دو مخصوص بنچوں پر ہم لوگ آمنے سامنے بیٹھ جا تے ــ‘خوش گپیاں ہو تیں،  اور ان خوش گپیوں کے دو ر ان کبھی سیا سی کبھی سماجی اور کبھی معاشرتی حالات پر طرح طرح کے تبصرے ہو تے اور ہر کوئی  اپنے تجربے اور مشاہدے کا  بھر پور ا ظہار کر تا——اس طرح اچھا خاصہ وقت گزر جا تا اور پھر وہی گھر’ جہاں کا سو نا سو نا  ماحول‘ خاموش درو دیوار‘ گم صم بیوی کا چہرہ اور انتظار…صرف انتظار۔ کسی کے فون کا…کسی کے کال بیل کا… کسی کے آنے کا…‘‘

 آج جب میں مار ننگ واک کے لئے، نکلا تو راستے ہی میں فرہاد صاحب مل گئے، ذرا آگے بڑھا تو دیکھا پروفیسر غلام قادر اور جناب شاہد اختر سبک روی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم دونوں بھی لپک کر ان کے ساتھ ہو لئے‘ سلام کلام کے بعد خوش گپیوںکے سا تھ ہم لوگ نیشنل پارک پہنچے، وہاں قبل سے ہی بھائی رضوان کو ثر ڈاکٹر حسین احمد اور جناب عبد القادر مو جود تھے۔

جناب عبد القادر کے ہاتھ میں آج کا تازہ اخبار تھا اور مو ضوع بحث عشق و محبت تھا۔

 میں چونک پڑا اس عمر میں یہ عشق و محبت کی باتیں…؟

مجھے دیکھتے ہی عبدالقادر صاحب کہنے لگے۔

 ’’آئیے آئیے آپ ہی کا انتظار تھا‘‘

میں نے چونکتے ہوئے پوچھا’’یہ عشق و محبت میں مجھے کہاں گھسیٹ رہے ہیں  میرا ان باتوں سے کیا تعلق‘‘۔

’’تعلق‘‘؟عبدالقادر نے میرے ادا کئے لفظ کو سوا لیہ انداز میں دہرا یا اور ایک زبر دست قہقہہ لگا یا اور ان کے اس قہقہ میں میرے سوا سبھوں نے ساتھ دیا۔

 ویسے تو صبح کے وقت ہم لوگ اسی طرح عام طور پر ہر چھوٹی بڑی بات پر ٹھہا کے  لگا نے کے عادی تھے۔ لا فٹر تھیر یپی کا  بھر پور مظاہرہ ہو تا۔ لیکن اس وقت ان لو گوں کا قہقہہ مجھے اچھا نہیں لگا۔  ویسے میں سمجھ گیا، ان کے اس قہقہہ کے پس پشت کیا تھا۔ در اصل میں نے ایک دن نہ جا نے کن جذباتی لمحوں سے معمور ہو کر اپنے عشق کی وہ داستان سُنا دی تھی، جس کی حسین و ا دیوں کو میں اب تک بھول نہیں پا یا اس وادی کا ایک ایک رو مان پر ور منظر میری آنکھوں میں سما یا ہوا ہے۔ لیکن اُس دن تو ان لو گوں  نے میرے عشق کی داستان کو بڑی سنجیدگی اور گہری دلچسپی سے سنی تھی۔ لیکن آج یہ میرے عشق کو اس انداز سے کیوں لے رہے ہیں۔

میرے چہرے پر ناراضگی کے نقوش پڑھ کر عبد القادر صاحب بول پڑے۔

’’ارے بھائی آپ خفا نہ ہوں در اصل آج کے اخبار کے پہلے ہی صفحہ پر ویلینٹائن ڈے کہاں اور کس طرح منا یا گیا، اس کی تفصیل شائع ہوئی ہے کروڑوں روپئے کے تحفے تحائف، پھو لوں کے گلدستے فروخت ہو ئے مختلف شہروں کے ریستوراں میں لا کھوں روپئے کی شراب کا رو مانی جوڑوں نے لطف اٹھا یا اور تو اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں بڑے پیما نے پر لو سیلیبریشن (Love Celebration) منا یا گیا۔ اور…

ارے چھوڑئے جناب، آج کی کنزیو مر سو سائٹی۔( Consumer Society) میں پیار محبت کے پاک رشتوں کو بھی Cash کرا یا جا رہا ہے۔ یہ مہنگے تحفے تحائف‘ شراب کے نشے میں دھینگامشتی۔ کیا یہی اظہار عشق ہے، ارے یہ عشق نہیں‘ آوارگی ہے‘‘ پر فیسر رضوان کو ثر نے عبدالقادر کی بات کا ٹتے ہو ئے اپنی دانشورانہ رائے دی۔

’’آپ صحیح فر ما  رہے ہیں رضوان کو ثر صاحب‘ عشق کیا ہے یہ عشق کر نے والا ہی بتا سکتا ہے۔ دل میں اُتھتے ہوئے  سوز کا نام ہے عشق۔ ڈاکٹر حسین احمد نے بھی اپنے  رومانی ہو نے کا ثبوت دیا اور سوالیہ انداز میں مجھے دیکھنے لگے۔

 میں یادوں کے گہرے سمندر میں ڈوب  ابھر رہا تھا، سبھوں نے میری جانب اس انداز سے دیکھا کہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ عشق کے متعلق میری کیا رائے ہے۔

میں نے انہیں ما یوس نہیں کیا، اور بتا یا کہ عشق ایک احساس، ایک جز بے کا نام ہے اس کی کو ئی شکل و صورت نہیں اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، معشوق کے چہرے کی تاز گی اور شادابی کو دیکھنا ہے، تو کھلے ہوئے خوبصورت پھو لوں کو دیکھو، اس کی آواز کو سننا ہو تو گر تے جھر نے کی متر نم آواز کو سنو، اس کی انگڑا ئیوں میں جو مد ہو شی ہو تی ہے، اس کی ادائوں میں جور دلفریبی ہو تی ہے، اس کی مخمور نگاہوں میں جو سحر ہو تا ہے، اس کی آمد کے انتظار میں جو اضطراب ہو تا ہے اور اس کے آتے ہی با غوں میں باد صبا کا احسا س ہو تا ہے۔ پوری ففا ایک خاص خوشبو سے مہک اٹھتی ہے، اس کے صندلی جسم کی خوشبو ہوائوں میں بکھر جا تی ہے‘ دو د ھیا چاندنی میں نہایا اس کا پیکر۔ جس لمحہ شر ما تے ہو ئے، گبھرا تے ہو ئے سامنے آکر کھڑا ہو جا تا ہے، ان لمحوں کو اپنی آنکھوں میں ‘اپنے دل و  دماغ میں قید کر نے کو جی چاہتا ہے اور…

 ’’ارے جناب آپ تو نثر میں شاعری کر نے لگے، عشق کی کیفیات اور معشوقہ کی پر کیف تفصیلات نے تو ہم لو گوں کو جوانی کی یاد دلا دی‘‘

 شاہد اختر صاحب نے میرے اظہار بیاں سے متاثر ہو تے ہوئے کہا۔

یہ جوانی اور بڑھا پا کہاں سے آگیا، عشق کی محسوسات کے لئے اورعشق کے لئے عمر کی بھی قید نہیں، ہاں سماج نے اسے ضرور عمر کی قید و بند میں جکڑ دیا ہے، عشق کی انجانی لذتوں کو کبھی بھی کسی بھی لمحہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت میں آپ لو گوں سے مخاطب ہوں اور وہ خیالوں کی دہلیز سے اتر کر میرے دل و دماغ میں اپنی دلفریب ادائوں کے ساتھ سماگئی ہے۔ میرے شانوں پر رکھے اس کے پیار بھرے ہاتھ کا لمس، روح پر دست صبا ہو جیسے اور یہ باتیں صرف محسوس کر نے  کی ہیں اور احساس کے لئے حسّاس ہو نا ضروری ہے۔ جوانی یا بڑھا پے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔  صرف ایک شعر آپ لوگ مظہر امام کا سن لیں، بس میری بات آپ لوگوں کی سمجھ میں آجائیگی ‘مظہر امام نے کہا ہے۔

میرے سب خواب تاروں کی طرح ٹوٹے،  مگر اس کا

گلوں کی اوس میں بھیگا ہوا پیکر نہیں بدلا

 شعر سن کر سبھی خاموش ہو گئے ‘نہ جانے وہ شعر کی معنویت میں ڈوب گئے یا اپنے اپنے عشق کی قندیلیں روشن کر نے لگے۔

 دیر تک خاموشی چھائی رہی۔  پھر اچانک خاموشی کو توڑ تے ہو ئے شاہد اختر گو یا   ہو ئے۔

 ’’ ٹھیک ہے جناب، ، مگر یہ ویلینٹائن ڈے کیا ہیَ اورکیوں ہے؟

ویلینٹائن ڈے جو لوگ منا رہے ہیں وہ اس کی حقیقت سے واقف ہیں اور نہ ہی  اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ رومن راجہ کلاڈیس کی یہ سمجھ تھی کہ چونکہ شادی کر نے سے  مر دوں کی طاقت، جسم‘ عقل اور قوت فیصلہ میں کمی آجا تی ہے، اس لئے اس کا حکم تھا کہ شادی کسی کو نہیں کر نا ہے۔ لیکن سینٹ ویلنٹائن نے اس حکم کے بر خلاف ہزاروں فوجیوں کی شادی کرادی‘ اس حکم عدولی کی پاداش میں14؍ فروری کو راجہ نے اسے پھانسی کی سزا دے دی۔ اس لئے اس کو یاد گار کے طور پر منا یا جا نے لگا۔ بعد میں اُسے (Love Celebration) لو سیلیبریشن کا نام دے دیا گیا اور مغربی تہذیب کی بھونڈی نقالی ہمارے نوجوان کر رہے ہیں۔ پیار و محبت ایک احساس ہے، دو جسم کا ملن پیارنہیں، Love Celebration کے لئے ہمارے یہاں تو مثالیںبھری پڑی ہیں، مجنوں فرہاد‘ قیس اور سب سے بڑھکر پوری دنیا کیلئے ہمارے یہاں محبت کی عظیم نشانی’ تاج محل ‘ہے۔‘‘

 میری ان باتوں کو سننے کے بعد ایک بار پھر خاموشی طاری ہو گئی‘ بات کو آگے بڑھا نے کا سراڈھونڈ نے لگے لوگ۔ لیکن اچانک  غلام قادر کھڑے ہو گئے۔ اب چلا جا ئے، کا فی دیر ہو گئی ہے۔

 ان کے اٹھتے ہی سبھی لوگ اُٹھ کھڑے ہو ئے ‘ہم لوگ دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگے،  سبھوں کے دل و دماغ میں طرح طرح کے خیالات ڈوب ابھر

رہے تھے، پھر ہم لوگ سڑک کے اس موڑ پر آگئے‘ جہاں سے ہم لوگوں کے راستے بدل جا تے ہیں‘ اچانک غلام قادر کی نظر آویزاں ایک بڑے سائن بورڑ پر پڑتی ہے۔ وہ اسے پڑھنے لگے‘ انھیں رک کر سائن بورڈ پڑھتے دیکھ کر، ہم لو گوں کی نگاہیں بھی اسی طرف اٹھ گئیں۔ بو رڈ پر لکھا تھا۔

 مور یہ کلنک۔ اَن چاہے گر بھ(حمل) سے چھٹکارا

 راز کو راز رکھنے کا وعدہ، آج ہی ملیں

اس عبارت کو سبھوں نے پڑھا اور پڑھنے کے بعد عبدالقادر نے بر جستہ کہا۔  ’’یہی ہے عشق کا ماحصل‘‘ اور یہ کہتے ہوئے سبھوں نے زور دار قہقہہ لگا یا۔

ان لوگوں کا یہ قہقہہ سن کر مجھے ایسا لگا جیسے ان لوگوں نے میرے عشق کو سر بازار ننگا کر دیا۔ میں گبھرا گیا، تیز ہوتی دھوپ میرے بدن میں نو کیلے کانٹے کی طرح چبھنے لگی ا ور ایسا لگا جیسے میں کسی صحرا کے بیچ و بیچ کھڑا ہوں اور چاروں سمت سے ہوائوں کے مر غولے اٹھ رہے ہوں۔

 میں تیز قدموں سے گھر واپسی کے لئے مڑ گیا!!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close