ادبغزل

یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی

احمد نثارؔ

جو حال دل کا سنایا تو ہم دیوانے لگے

ہمارے بول سبھی آپ کو فسانے لگے

کھلی فضا میں چہکنے کا ڈھنگ بھول گئے

قفس میں کون پرندے یہ گنگنانے لگے

چمن کی سیر کہاں ، اور کہاں نصیب مِرا

ہیں سارے اُلّو یہاں اپنا گھر بسانے لگے

تمہارے عشق کا جذبہ بھی کھوکھلا نکلا

بس اک قدم ہی چلے اور لڑکھڑانے لگے

چہکتے مرغ چمن، اپنا کام کر ہی گئے

چمن کے پیڑ سبھی بانسری بجانے لگے

یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی

محبتوں کے ترانے کہاں سنانے لگے

نہ کوششیں ہیں یہاں اور نا ہی جنبشِ دل

یہ کیوں چراغ امیدوں کے ہیں بجھانے لگے

وہاں تو کویل و بلبل کاکام ہی نہ رہا

جہاں پہ زاغ و چچوندر ہوں گیت گانے لگے

میں میہمان رہا چند دن قیام مِرا

مجھے کیوں بارہا تم آئنہ دکھانے لگے

یہ کربِ زیست نہیں ہے تو اور کیا ہے نثارؔ

نئے ہیں زخم مگر حادثے پرانے لگے

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Back to top button
Close