ادب

قلم کاروان ،اسلام آباد: لوح و قلم تیرے ہیں

منگل مورخہ27ستمبر2016ء بعد نماز مغرب قلم کاروان کی ادبی نشست دفترالخدمت فاؤنڈیشن اسلام آبادمیںمنعقد ہوئی۔جناب کمانڈر محمود اقبال نے صدارت کی۔تلاوت کے بعد جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے مطالعہ حدیث نبوی ﷺپیش کیا۔پروگرام کے مطابق جناب حبیب الرحمن چترالی کا مضمون بعنوان’’سورۃ براۃ کی روشنی میں ماہ و سال کا حساب‘‘پیش ہوناطے تھا۔
صدر مجلس کی اجازت سے مضمون پیش کیاگیا،تحریر میںقرآن مجید کی سورہ توبہ کی روشنی میں سیرت النبی ﷺ کے آئینے میںحالات حاضرہ کاسیرحاصل تجزیہ پیش کیاگیاتھا۔صاحب تحریر نے بڑے علمی وتحقیقی انداز سے دورنبوی کے حالات کو آج کے حالات پر منطبق کیااور سامعین کو امید کی روشن کرنیں دکھائیں۔صدرمجلس کی اجازت سے شرکاء نے گفتگو شروع کی تو ڈاکٹر مرتضی مغل نے تحریر پر تفصیلی تبصرہ کیا اور صاحب تحریر کے موقف سے اتفاق کیااور کہا ہمارادین امن و سلامتی کادین ہے ،انہوں نے فتح مکہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محسن انسانیت نے قتال کی اجازت کے باوجود امن و سلامتی سے فتح مکہ کا مرحلہ طے کیاانہوں نے علامہ اقبال کے اشعارسے اپنی گفتگوکااختتام کیا۔مصطفی حسین نے کہا کہ مقالہ بہت پر مغزتھااور بڑی دقیق تحقیق سے لکھاگیا۔جناب اسرائیل صافی نے کہا کہ حالات کے تذکرے میں بنگلہ دیش کی بات بھی آئی توانہوں نے کہا ڈھاکہ میں درجن بھرپاکستان کے شیدائیوں کو پھانسی دی جاچکی ہے جس کے خلاف حکومت پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہیے۔ڈاکٹرساجد خاکوانی نے مقالے کی تعریف کی اور کہاکہ اس مقالے کو فوری طور پر شائع ہونا چاہیے تاکہ یہ پیغام امید عام لوگوں تک بھی پہنچ پائے۔حسن شیخ نے کہا کہ امت مسلمہ کے حالات بہت دگرگوں ہیں انہوں نے بھی بنگلہ دیش کے حالات کا رونا روتے ہوئے کہا کہ قلم کاروان میں پیش ہونے والے مقالات کو تجاویز کی شکل میں ایوان ہائے بالا تک پہنچانا چاہیے۔جناب اعجازجعفری نے مقالہ کے اسلوب بیان کو پسند کیا۔جناب سلطان محمود شاہین نے کہا حالات حاضرہ پر لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا پس فاضل مقالہ نگار نے ایک بہت مشکل کام بڑے احسن انداز سے سرانجام دیا ہے جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔
آخرمیں جناب آفتاب حیات نے کلام اقبال سے انتخاب پیش کیااورصدر مجلس جناب کمانڈر(ر)محمود اقبال کو دعوت خطاب دی۔جناب صدرمجلس نے اپنے صدارتی خطبے میں کہاکہ لوگ اسلام اور مسلمانوں پر دہشت گردی کاالزام لگاتے ہیں جب کہ اسلام توایک چور کو بھی برداشت نہیں کرتااور اس کے ہاتھ کاٹ ڈالنے کا حکم دیتاہے،انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان بیدارنہیں ہو گا اس دنیامیں امن قائم نہیں ہوسکتا۔صدارتی خطبے میں کمانڈرصاحب نے کھل کرکہاکہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری دنیاکا مرکز مکہ مکرمہ ہے اور وہیں سے امن و سلامتی کا پھوٹنے والا سوتہ پوری دنیاکو انسانیت کے چشمے سے سیراب کرسکتاہے۔صدارتی خطبے کے بعد اگلے پروگرام کا اعلان کیاگیااور نشست باضابطہ طورپر ختم کردی گئی۔

(کاروائی ہفت روزہ ادبی نشست،منگل 27ستمبر2016)

مجلس مشاورت :
سیدعلی گیلانی حوالہ:
ڈاکٹرساجدخاکوانی تاریخ:27ستمبر2016
پروفیسر آفتاب حیات

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close