چچا غالب اور دورِ نو

شیما نظیر

تصور کیجئے کہ صدیوں پہلے گذرے چچا غالب اچانک زندہ جاوید ہوکر آدھمکتے ہین
وہ بھی حیدرآباد دکن میں
اب ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا
ملاحظہ ہو:-
ایک گلی سے گذرتے ہوئے
کچھ لڑکوں کو کھیلتے دیکھا تو پوچھ بیٹھے
سنو بیٹے چارمینار کا راستہ کونسا ہے
بچوں نے پہلے آپس میں گفتگو کی
پھر ایک لڑکا
ہاں چچا” یہ اکیسویں صدی میں 70′ سیونٹیس کے ہیرو بن کے کاں نکلے
چارمینا نئی معلوم
بن ناکے سے شٰئرنگ آٹو پکڑو سیدھا چارمینار کے دواخانے کی پیچھے کی گیٹ کن چھوڑتا دیکھو
اور سنو پندرہ روپیئے لیتا آٹو کیئں زیادہ دیدینگے ویسے بھی تم چچا غالب دکھریں
خیر یہ ساممے بن ناکا ہے دیکھو
چل بھئی بال ڈال
گیم خراب کردیئے چچا آکے
سیدھا نکلو چچا
غالب حیران کن انداز میں ان لڑ کوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ گئے
اب چچا غالب آٹو کے انتظار مین
ایک آٹو قریب آکر رکتا ہے
چلریں چچا
غالب پریشان
کہاں فوراً سوال داغا
آٹو والے نےمتعجب انداز میں
میکو کیا معلوم کاں جانے ٹہرے چارمینا تک جاتا آٹو چل ریں تو بیٹھو
چچا نے سوچا کہ شائد اسی آٹو کی بات کررہے تھے بچچے انھوں نے کہا
بھئی کہاں بیٹھوں آٹو میں تو جگہ ہی نہی ہے
آٹو والا
اجی چچا پہلی بار حیدرآباد آئے سرکا دکھرا
چچا میرے بازو سیٹ پہ بیٹھو یہ پیچھے ڈنڈے کو گھٹ پکرلو
انھوں نے فوراً
دوسرا سوال داغا کیا پندرہ روپے لوگے
آٹو والا اوہو کاں سے تو بھی بھاگ کے آئے چچا تمھارے کن پیسے نئی ہے تو پھگٹ چھوڑدیتوں بیٹھو
پھر بڑبراتے ہوئے کہتا ہے
"دیکھے گھر میں دماغی مریضان ہے تو روڈ پہ کیکو چھوڑتے ہونگے لوگاں گھروں میں رکھنا نئی ایسے لوگوں کو”
چچا نے ہوچھا کچھ کہا آپ نے
آٹو والے نے نہی چچا آپ بیٹھو آرام سے
چارمینا پہنچ کر انھوں نے  ایک شخص سے اردو مسکن کا راستہ پوچھا
السلام علیکم
وہ شخص
پلٹ کر عجیب نظرون سے دیکھتا ہے واسلام جی بولیئے
مرزا خوش ہوگئے کہ یہ شائد کچھ پڑھا لکھا لگ رہا ہے ویسی دکھنی زبان استعمال نہ کی اسنے
انھوں نے پوچھا
ایک بات بتائیے مجھے یہاں آئے دو دن ہوگئے اور میں جب بھی بات کرتا ہوں جس کسی سے تو سب ہو نکو اسطرح کی بات کررہے ہیں
آپ واحد وہ شخص ہیں جنھوں نے عمدہ گفتگو کی ہے کیا یہاں سب اسی طرح گفتگو کرتے ہیں
وہ شخص تھوڑا اور سنبھل کر
” بات دراصل ایسی ھیکہ حیدرآباد میں جو پڑھے لکھے ہین وہ اسی طرح بات کرتے ہیں اور جاہل لوگ "ہو نکو” اسطرح کی باتیں کرتے ہیں”
غالب خوش ہوکر
اچھا تو آپ پڑھے لکھے ہیں
وہ شخص ” ہو”
پھر تھوڑی خجالت کے بعد آپکو جانا کہاں ہے چچا
بھئ ایک مشاعرہ اردو مسکن میں ہے جسمیں شرکت کرنا چاہتا ہوں مگر پتا نہی معلوم!!!
اچھا اردو مسکن وہ خلوت میں ہے
چلیئے چھوڑ دیتا ہوں
چچا
نہی نہی خلوت میں نہی جانا اتنے سالوں سے خلوت میں ہی تو تھا
ارے چچا خلوت ایک محلہ کا نام ہے پتا نہی آپ کیا سمجھے
اصل میں زیادہ اردو میکو بھی نئی آتی میں انگلش میڈیم کا ہون
بائیک پر چچا کو اسنے اردو مسکن چھوڑدیا
اس وقت وہاں مشاعرہ چل رہا تھا
مشاعرہ میں موجود شعراء کو چچا جانتے نہی تھے سب نئے دور کے شعراء تھے
پھر ناظمِ مشاعرہ نے اعلان کیا کہ آج کے اسی ہمہ رنگی مشاعرہ کا آغاز جناب شوکت علی درد صاحب کی حمدِ باری تع سے ہوگا
شوکت علی درد صاحب نے حمد پیش کی
پھر رؤف خیر کی نعتِ شریف تھی
اسکے بعد کہا گیا کہ بلبیر سنگھ غزل پیش کرینگے
چچا مشاعرہ سن رہے تھے
بازو بیٹھے صاحب سے کہا کہ میں بھی سنانا چاہتا ہوں کچھ
ان صاحب نے کہا اس مشاعرہ کے ناظم وہ عینک میں جو صاحب ہین ان سے اجازت لیلیجئے ظفر فاروقی ہے انکا نام
وہ اٹھے ان کے پاس گئے ظفرفاورقی نے عجیب نظروں سے انھیں دیکھا اور انکی بزرگی کا خیال کرتے یوئے انکا نام پوچھا
کہنے لگے مرزا غالب
ہائین وہ چونک گئے
مرزا غالب
آپکا اصلی نام بتائیے
اسد اللہ خان
سب غالب کہتے ہین
انھوں نے سوچا ضعیفی کی وجہ

سے تھوڑا ہٹ گئے انو
چلو جانے دو

مشاعرہ کی کارروائی آگے بڑھتی رہی
سردار اثر
شاہد عدیلی
رفیع الدین رفیع
پھر اعلان ہوا کہ نعتِ شریف پیش کرینگے جگجیون لال استھانہ
چچا نے نام سنتے ہی کہا
لاحول ولاقوت
بازو بیٹھے شخص نے پوچھا
چچا کیا ہوا نعت پڑھریں لاحول بولنے کی کیا ضرورت ہے
بولے نہی بیٹے ہمارے دور میں ہم باوضو ہوکر نعت پڑھتے یا کہتے تھے
لیکن یہ تو کوئی غیر مسلم سے نعت کہلوارہے ہین
اچھا سننے دیوچچا آپکا دور گیا
اب ہندو مسلم سب بھائیاں ہے یان پہ
خیر اللہ اللہ کرکے چچا کا نام پکارا گیا انھوں نے اپنی غزل پیش کی

بعد مخاطبت انھوں نے کہا
دو شعر ملاحظہ ہوں
بس کہ دشوار ہے ہرکام کا آسان ہونا آدمی کو بھی میسر نہی انساں ہونا

سارے شعراء کے چہرے فق یوگئے
یہ کیا!!!!!!!
لےگئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہواور آپ صد رنگ گلستاں ہونا

شعراء سوچ میں تھے
کہ کسی منچلے نے پیچھے سے فقرہ کسا
چلے گئے تھے تو پھر آئے کیکو
محفل قہقہوں سے لالہ زار ہوئی
تبھی صدرِ مشاعرہ جنابـ ڈاکٹر فاروق شکیل صاحب نے کہا یہ اشعار تو مرزا غالب کے ہیں !!
اسد اللہ خان صاحب
"جی جی میرے ہی ہیں”
انکے جواب سے کئی لوگ زیرِ لب مسکرانے لگے جنمیں صدر و ناظمِ مشاعرہ بھی تھے
ایک غزل کے چند اشعار پیش کررہا ہون
ارشاد
ارشاد   ارشاد
کی صداؤں مین
پیچھے سے آواز آئی پھیکو چچا غزل ذرا اچھی رہنا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پہ جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتاـ……

…..پیچھے لگتا ہے غالب فوبیا ہوگیا انکو غالب کے شعراں ڈالریں پورے
ناظمِ مشاعرہ نے مائیک سنبھالا اور کیا کہ ہم تمام سامین سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ بزرگ شخصیت اسد اللہ صاحب کا احترام کرین اور خاموشی سے سماعت فرمائین اگرچیکہ وہ مرزا غالب ہی کی غزل سنا رہے ہیں
مجموعہ خاموش ہوگیا
تری نازکی سے جانا کہبندھا تھا عہدِ بود
کبھی تو نہ توڑسکتا اگر استوار ہوتا
واہ واہ واہ
کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیمِ کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا
رنگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہویہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ گسل ہےپہ کہاں بچیں کہ دل سے
غمِ عشق گر نہ ہوتاغمِ روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہےشبِ غم بری بلا یے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایکبار ہوتا

ہوئے مرکےہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں وچار ہوتا
واہ واہ واہہت خوب
سب نے انھیں خوش کردیا
ناظمِ مشاعرہ نےصدر کو مدعو کیا
پھر مشاعرہ اختتام کو پینچا
بعد میں سب نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا میں زندہ یوگیا تو اسی سرزمین پر پہنچا
اور شراب چوٹ گئی بہت دن ہوئے چائے کی طلب محسوس ہوئی تو کسی ہوٹل پہنچا
وہاں کسی اخبار میں مشاعرہ کی خبر پڑھی ایک صاحب سے پوچھا اردو مسکن کدھر ہے
انھوں نے جواب دیا چارمینار کے قریب کاں تو بھی ہے پکا نہی معلوم چارمینار کن پوچھ لو
پھر میں کسی طرح پوچھتا پوچھاتا یہان تک پہنچا
ایک صاحب نے آہستہ سے کہا مجھےلگتا ہے انوں سرک گئے سو ہے گھر والے کون ہے کہاں رہتے کچھ بھی نہی معلوم
انوں زندہ ہوکے آئے کتے کیا صحیح کے مرزا غالب ہے
انکو یرہ گڈہ پہنچا دینگے
چچا آپکے گھر والے کاں ہین
کہنے لگے مجھے نہی معلوم میں خود ایک عرصہ بعد زندہ ہوا ہوں
زندہ!!!!!!
حیرت سے ہاں بھئی اسد اللہ خاں غالب ہوں میں دہلی میں رہا کرتا تھا اب یہاں کیسے مجھے نھی نہی معلوم
یہ نہی یوسکتا آپ یاد کرٰیئے آپکے گھر والے کاں رہتے
آہستہ سے گویا ہوئے
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہی مجھے
سب لوگوں نے آپس میں طئے کیا کہ اب انھیں سیدھا مجید خان کے مینٹل ہاسپٹل چھوڑ آئیں
اور ایک گروہ نے انھیں وہاں لیجاکر چھوڑ دیا وہ لاکھ منع کرتے رہے مگر کسی نے انکی ایک نا مانی
اسطرح چچا غالب آئے بھی اور گئے بھی



⋆ شیما نظیر

شیما نظیر
محترمہ سیدہ شیما نظیر کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ آپ جماعت اسلامی کی مقامی سطح پر خواتین ونگ کی ناظمہ ہیں۔ علم و ادب سے گہری وابستگی ہے۔ ان کے اصلاحی افسانے ملک کے موقر جریدوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔