17 ستمبر: یومِ تکریم ِزوجہ

ڈاکٹر سلیم خان

کلیم صاحب نہایت کم گو انسان تھے اوران کی بیگم صائمہ  بے تکان بولتی تھیں۔  کلیم صاحب  کو اس کے باتونی ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تھا مگر چاہتے تھے کہ وہ درست زبان بولے اس لیے ایک دن سمجھاتے ہوئے بولے  بیگم کتنا بولتی بزرگوں نے کہا ہے ۰۰۰۰۰۰

بیگم درمیان میں  جملہ کاٹ کر بولیں  آپ زیادہ بزرگ نہ بناکریں اس سے میری عمر بڑھ جاتی ہے۔

میری وجہ سے آپ کی عمر میں اضافہ ؟ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ؟

(ہنس کر) آپ کی شریک حیات  جو ہوں ؟ آپ کے ساتھ بڑھتی گھٹتی رہتی ہوں۔  ہاں تو آپ کیا کہہ رہے تھے بزرگوں نے کیا کہا ہے؟

چھوڑو ! بزرگوں سے اس قدر بیزاری کااظہار کرنےکے بعد اب جاننے میں کیا رکھا ہے؟ ویسے بھی تم  کہاں مانوگی؟؟

یہ آپ کو کیسے پتہ کہ نہیں مانوں گی ؟ آپ کو کشف ہونے لگا ہے کیا؟

جی نہیں تجربہ بھی تو کوئی چیز ہے۔

(کڑک کر) اب تو آپ کو غلط ثابت کرنے کے لیے بزرگوں کی غلط سلط بات  بھی مان لوں گی۔

تم نے تو سنے بغیر ہی  ان کو غلط ٹھہرا دیا۔  اس لیے اب بھول ہی  جاو تو بہتر ہے۔

ہاں اب سمجھی کہ آپ خود وہ بات بھول گئے اور مجھے ٹہلا رہےہیں  خیر وہ  نہ سہی تو کسی اور بزرگ کی کوئی اور بات  کہہ دو۔ کیا فرق پڑتا ہے؟

کلیم صاحب واقعی وہ بات بھول گئے تھے لیکن بیگم نے مسئلہ حل کردیا تو بولے  ’’پہلے تولو اور پھر بولو‘‘۔

میں نے آپ کو نصیحت کرنے کے لیے نہیں کہا۔  میں  جاننا چاہتی ہوں کہ بزرگ نے کیا کہا  ؟

بزرگ کی ارشاد یہی ہے کہ انسان اپنی زبان کھولنے سے قبل غور کرے۔ یہ نہیں کہ قینچی کی طرح جب من میں آئے  گاجر مولی کی مانند کاٹتا چلا جائے۔

لگتا ہے آپ اس بزرگ کے بڑے پکےّ مرید ہیں  اس لیے بولنے سے پہلے اتنا سوچتے ہو کہ سوچتے ہی رہ جاتے ہو  زبان کھولنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔

تو اس میں کیا حرج ہے ؟

نہ بابا نہ یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔  میں بھی آپ کی مانند سوچنے اور پڑھنے لگی تو یہ گھر قبرستان بن جائیگا۔

جی ہاں بیگم بے شک آپ  کا بولنا  مجھےجتنا  پریشان کرتا ہے، خاموشی بھی اسی قدر  ستاتی ہے۔ میری حالت تو غالب کے اس شعر کی مصداق ہوگئی ہے ؎

نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے   

کیا بنے بات جہاں بات، بنائے نہ بنے

بیگم ناراض ہوکر بولیں اب زیادہ بات نہ بنائیے میں جانتی ہوں آپ کو میری کوئی ادا  اچھی نہیں لگتی۔  نہ میرا بولنا آپ کے من بھاتا ہے اور میری خاموشی آپ کو پسند آتی ہے۔ اب میں کیا کروں تو کیا کروں ؟  بولوں یا چپ رہوں  ؟ ؟ میری سمجھ میں نہیں آتا۔

ارے تم سمجھنے سمجھانے کے چکر میں کیوں پڑ گئیں ؟ یہ صحت کے لیے مضر ہے اس لیے دماغ پر زور ڈالنے کے بجائے اس کا خیال کیے بغیر  کہ کون کیا سوچتا ہے؟جو دل میں آئے بے تکان  بولتی  رہو۔ ۔

کون کیا سوچتا ہے یہ سوچیں میرے دشمن  لیکن آپ کیا سوچتے ہیں یہ تو مجھے سوچنا ہی پڑے گا۔ میں  آپ کی شریک حیات جو ہوں۔

ہاں میں جانتا کہ تم میری رفیقِ حیات ہو اور میں بھی ۰۰۰۰۰۰۰۰۰

آپ میرے رفیق نہیں بلکہ فریق ِ حیات ہیں۔

(چونک کر)یہ فریق ِحیات کیا ہوتا ہے؟

کیا آپ رفیق اور فریق کے درمیان فرق نہیں جانتے ؟ اتنا بھی نہیں معلوم تو کیوں دن بھر ان کتابوں کے اندر ڈوبے  رہتے ہیں ؟

اچھا ! کتابیں نہ پڑھوں  تو کیا باورچی خانے میں آپ کا ہاتھ بٹاوں ؟

اس کی ضرورت نہیں۔  میں اس معاملے میں خود کفیل ہوں اور نہیں چاہتی کہ آپ وہاں پہنچ کر میرا کام  بد مزہ کریں۔

پکوان کا بدمزہ ہونا تو جانتا ہوں لیکن کام کا ۰۰۰۰۰۰۰

بیگم بگڑ گئیں۔  آپ نے میرے پکوان کو بدمزہ کہا  میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔  یہ بنت حوا کی توہین ہے۔  میں اس ظلم کے خلاف احتجاج کروں گی  اور روتے ہوئے باورچی خانے کی جانب لپکیں۔  کلیم صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔  وہ فوراً پلنگ کے نیچے دبک گئے۔ بیلن کے ساتھ بیگم نے واپس آکر دیکھا تو شوہر نامدار غائب تھے۔ انہیں یقین تھا کہ لنگی اور بنیان میں تو وہ ملک الموت کے ساتھ بھی نہیں جائیں گے اس لیے آواز لگائی۔ کیوں ؟ کہاں ؟؟ چھپے بیٹھے ہیں  باہر نکلو؟؟؟ کم ازکم میری عینک ہی دے دو تاکہ میں  بتی جلا کر آپ کو  تلاش کرسکوں۔

کلیم صاحب نے سوچا اس احمق کو دیکھو مجھ سے عینک مانگ رہی ہے۔  وہ بولے بیگم یہ نہیں ہوسکتا۔

کیوں نہیں ہوسکتا ؟یہی ہوگا اور ابھی ہوگا ؟؟ آپ تو جانتے ہیں کہ میں اپنی سلطنت یعنی اس چہار دیواری کے اندر ’نہ‘ سننے کی قائل نہیں ہوں۔

جی ہاں بیگم میں جانتا ہوں۔  کلیم صاحب پلنگ کی اوٹ سے بولے آپ  کی  عینک میں نے  عظیم تر مصالح پیش نظر چھپادی  ہے۔

یہ عظیم صاحب  کون ہیں ؟ میں نے تو اس  مسالے کا نام بھی نہیں سنا۔  بازار میں نیا نیا آیا ہے کیا؟

کلیم صاحب کا جی چاہا کہ بیگم کے ہاتھ سے بیلن لے خود اپنا سر پیٹ لیں لیکن پھر سوچا اس کا تو ثواب بھی نہیں ملے گا۔  اس سے تو بہتر ہے کہ بیوی سے پٹ جائیں۔  بیگم کو  خوشی ملے گی اوروہ اپنی فریق حیات کو خوش کرنے  کے اجرعظیم سے نوازے جائیں گے۔ یہ سوچ کر کلیم صاحب نے ازخود بتی جلادی اور عینک بیگم کو تھما نے کے بعد  ان کے آگے سرجھکا کر کھڑے ہوگئے۔

بیگم ہنس کر بولیں اب اور شرمندہ نہ کریں۔  جائیں یہ بیلن باورچی خانے میں اس کی اپنی جگہ رکھ کر آئیں۔  اِدھر اُدھر نہ پھینک دینا ورنہ ۰۰۰۰۰

کلیم صاحب واپس آتے بولے سمجھ گیا ورنہ کیا ہوگا۔  اب بولو اور کوئی خدمت ؟

لیکن یہ کیا آپ نے اپنی عینک مجھے کیوں دے دی؟

کلیم صاحب سے غلطی توہوگئی تھی۔  انہوں نے نبھاتے ہوئے کہا عربی میں عین کے معنیٰ آنکھ ہوتا ہے’ ک‘ کے اضافہ سے وہ تمہاری ہوجاتا ہے۔

 بیگم بولی آپ کاف لگائیں یا   لام آپ کی عینک آپ کی رہے گی اور میرا چشمہ میرا ہی رہے گا۔

عربی قوائد سے نابلد انسان یہ کیسے سمجھ سکتاہے؟  خیر کوئی بات نہیں آپ کی یا میری  عینک کیا فرق پڑتا ہے آپ میری شریک حیات جوہیں ؟

فرق کیوں نہیں پڑتا ؟ آپ کو دور کا منظر نظر نہیں آتا اس لیے آپکی  عینک دوراندیش ہےاور مجھے قریب کی چیزیں نظر نہیں آتیں اس لیے میں نے چشمہ بنوایا ہے۔ ویسے   میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ میرے ہوتے آپ دوردراز کسے ڈھونڈتے پھرتے ہیں ؟

اری بیگم یہ بھی تو سوچو کہ  میں قریب ہوتا ہوں تب بھی تمہیں نظر نہیں آتا۔  مجھے دیکھنے کے لیے بھی تمہیں عینک کی ضرورت پڑتی ہے۔

یہ کس نے کہہ دیا کہ آپ مجھے نظر نہیں آتے؟

تب پھر ہر مرتبہ میرے خلاف  بیلن اٹھانے سے قبل تم چشمہ کیوں لگا لیتی ہو؟

وہ ایسا ہے آپ نظر تو آتے ہیں صاف نظر نہیں آتے۔   میں نہیں چاہتی کہ بیلن نشانہ چوک کرکسی ایسی ویسی جگہ  چوٹ  پہنچا دے  کہ مشکل ہوجائے۔

کلیم صاحب کو اپنی بیگم پر پیار آگیا وہ بولے بیگم مجھے آج بیلن کی لذت کا احساس ہوگیا۔

بیگم مسکرا کر بولیں شادی کے 25 سال  بعد!!!  خیر دیر آید درست آید۔  اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔

بیگم صاحبہ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ  آپ نے دونوں محاورے بے موقع استعمال کیے ہیں۔

میرے لیے تو محاورہ بھی بیلن کی طرح ہے۔  میں اس کوموقع بے موقع استعمال کرنا خوب جانتی ہوں۔

جی ہاں میں آپ کے اس بنیادی حق کا معترف  ہوں۔

کیا کہا معترض  ہوں ؟ آپ کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے؟ آپ کو یہ حق کس نے دیا؟

بیگم اعتراض کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ کس نے اسے سلب کیا؟

اتنا بھی نہیں جانتے۔  لگتا ہے آپ نے پڑھے بغیر ہی نکاح نامے پر دستخط ثبت کردیا تھا یا ۲۵ سال قبل جو پڑھا تھا اسے بھول گئے؟

کیا مطلب  میں نہیں سمجھا ؟

مطلب یہ کہ اس کے اندر جلی حرفوں میں لکھا ہے کہ آپ میری کسی بات پر اعتراض نہیں کرسکتے۔

ہاں ہاں تو میں نے ایسی گستاخی کرنے کی جرأت ہی کب کی؟

ابھی ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ ۰۰۰۰۰۰۰

اری بھاگوان میں نے کہا معترف ہوں یعنی میرا  سرتسلیم ِخم ہے۔ کاش کہ  کوئی آنکھ کی  طرح کان کے لیے  بھی عینک  بناتا تاکہ جو کہا جارہا ہے وہی سناجاتا۔

آپ بھی خوب ہیں۔ چشمہ ویسے تو آنکھ کے لیے ہوتا ہے لیکن اسے ناک اور کان کے حساب سے ہی  بنایا جاتا ہے۔

(حیرت سے)  ناک اور کان کالحاظ  سمجھ میں نہیں آیا

اوہو اتنا بھی نہیں جانتے  اگر یہ دونوں  نہ ہوں  تو عینک ٹکے گی کیسے؟  گر جائیگی بیچاری۔

بیگم آپ چشمے کی نہیں اس کے فریم کی بات کررہی ہیں۔  عینک کی روح تو وہ شیشہ ہے جو آنکھ کے لحاظ سے منتخب کیا جاتا ہے۔  جب نمبر بدل جاتا ہے تو چشمہ بے کار ہوجاتا  ہے۔

وہ تو درست ہے لیکن اگر فریم نہ ہو تو عینک کس کام کی۔  انسان ہاتھ سے شیشہ سامنے رکھ کر کوئی کام تو نہیں کرسکتا ؟

جی ہاں  شیشے کو سنبھالنے کی حدتک  فریم ضروری  ہے

صرف سنبھالنے نہیں بلکہ سنوارنے کا کام بھی فریم ہی کرتی ہے۔ پرانی فریم میں آپ کی عمر دس سال زیادہ لگتی تھی اور نئی والی میں دس سال کم لگتی ہے

مجھے لگتا ہے یہ فریم کا کمال نہیں آپ کی آنکھوں کا قصور ہے۔

میری آنکھیں !میری آنکھوں کو کیا ہوگیا؟

آنکھوں کو نہیں چشمے کو ہو گیا ہوگا۔  میرا مطلب نمبر بدل ہوگیا ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کسی کی عمر اچانک دس سال کم ہوجائے؟

یہ میں نے کب کہا کہ عمرکم ہوگئی ہے۔ میں تو صرف لگنے کی بات کہہ رہی تھی۔ (مسکرا کر) اور آپ بھی تو یہ بات کہہ سکتے ہیں۔

میں کیوں کہوں ؟ مجھے ایسا کچھ نہیں لگتا۔

اییسی بھی کیا بےرخی ؟ کسی کو خوش کرنے کے لیے اگر انسان کوئی بے ضرر ساجھوٹ بول دے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

میں سمجھ گیا جیسا کہ تم نے ابھی ابھی کہہ دیا۔

جی ہاں آپ تو بالکل کوتوال کی طرح سوال کررہے ہو؟

بات دراصل یہ ہے کہ ایسا کرنے سے انسان کا اعتبار جاتا رہتا ہے۔

اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

انسان نظر سے گر جاتا ہے یوں سمجھ لو شیشے کا نمبر بدل جاتا ہے۔

اور اگر شیشے کا نمبر بدل جائے تو ؟

عینک بیکار  ہوجاتی ہے؟ اسے پھینک دیا جاتا ہے۔

بیگم بولیں مجھے نہیں لگتا !

اچھا تو تمہیں کیا لگتا ہے۔

میں تو سمجھتی ہوں کہ چشمہ نہیں شیشہ بیکار ہو جاتا ہے۔

ہاں ہاں ایک ہی بات ہے شیشہ کیا اور چشمہ کیا؟

آپ ہی تو کہہ رہے تھے کہ  شیشے اور فریم کا اپنا اپنامنفرد وجود ہے۔

جی ہاں تو میں نے اس سے کب انکار کیا ؟

اگر ایسا ہے تو پرانی فریم میں نیا شیشہکیوں نہیں   لگ سکتا ؟

اور ہاں۔ اگر فریم بھی  ٹوٹ جائے تو شیشے کو کسی نئے فریم میں  لگایا جاسکتا ہے۔

بیگم بگڑ کر بولیں۔  یہ کیا  آپ نے توڑنے اور جوڑنے کی بحث چھیڑ دی۔

بیگم اگر برا نہ مانو توایک بات کہوں ؟

آج کے دن برا ماننے کی کیا بات ہے۔

اچھا اگر یاس ہے تو سنو  ہمارا تمہارا رشتہ  بھی شیشے اور فریم کا سا ہے ؟

کیا مطلب میں آپ کی  فریم ہوں ؟ اور آپ میرے شیشہ ہیں ؟

جی  نہیں میں اپنا شیشہ اورآپ  میری فریم  ہیں۔

لیکن ۰۰۰۰۰ ؟؟؟

یہی کہ میں آپ کا فریم ہوں اور آپ اپنا شیشہ  ہیں۔

اور ہم دونوں ؟

ہم دونوں ایک دوسرے کی عینک ہیں۔  ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔

آپ ہوں گے آدھے ادھورے۔  میں تو کامل ہوں۔

اگر ایسا ہے تو اپنی  عینک کو توڑ دو۔

میں آپ کی اس سوغات کو توڑ  نہیں سکتی لیکن اب  بس  بھی کرو یہ توڑ پھوڑ کا چکر   مجھے اچھا نہیں لگتا۔

بیگم یہ گفتگو  تو آپ ہی نے چھیڑی ہے ورنہ  میں نےتو سوچا بھی نہیں تھا۔

 آپ سوچتے کب ہیں ؟ بس دن رات  عینک لگا کر نہ جانے کیا کیا پڑھتے رہتے ہیں۔

اورتم دن رات عینک اتار کر نہ جانے کیا کیا بولتی رہتی ہو۔

جی ہاں لیکن وہ آپ کی کاف اور لام والی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔

میں کہہ رہا تھا  کہ عربی میں عین آنکھ کو کہتے ہیں اور اس کے آگے کاف لگا دینے سے وہ تمہاری آنکھ ہوجاتی ہے۔

ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس میں مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ تم کہہ رہی تھیں میری عینک کہاں ہے؟ اب بیک وقت ایک آنکھ میری اور تمہاری کیسے ہوسکتی ہے ؟

 کیوں  نہیں ہوسکتی۔  ایک آنکھ تو مجھے قدرت نے دی ہے اور جب اس کی روشنی کم ہوگئی تو آپ نے مجھے عینک دلا دی جو آپ کی دی ہوئی آنکھ ہے۔ چونکہ آپ نے  مجھےوہ  مصنوعی آنکھ دے دی ہے  اس لیے اب  وہ میری آنکھ ہو گئی  ہے۔  اس میں غلط کیا ہے؟

کلیم صاحب اس منطق کے آگے ڈھیر ہوگئے اور سر پکڑ کر بولے بیگم دراصل میری سمجھ غلط ہے ورنہ آپ کا کہا بالکل درست ہے۔

بیگم خوش ہوکر بولی آپ کتنے اچھے ہیں۔  ہر بارآپ بالآخرمیری ہر بات کی تائید کرہی دیتے  ہیں۔

یہ تو مجھے  اپنی عافیت کے لیے کرنا پڑتا ہے۔

(منہ بسور کر) مطلب میری ہر بات غلط ہوتی ہے۔

جی نہیں میں نے ایسا کب کہا۔  دنیا میں ایسا کون ہے جس کی ہر بات درست یا ہر بات غلط ہوتی ہو؟

آپ ہیں۔  آپ کی ہر بات غلط ہوتی ہے۔

یہ بھی کہ تم دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہو؟

نہیں اس ایک بات کو چھوڑ کر آپ میرے خلاف جو کچھ بولتے ہو وہ سب ۔  خیر یہ بتاو کہ عربی میں عینک کو کیا کہتے ہیں ؟

نظارہ کہتے ہیں۔

نظارہ ! یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ عینک بھی کہیں نظارہ ہوسکتی ہے۔

کیوں اس میں کیا خرابی ہے۔

ارے بھئی نظارہ یا تو ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے۔

جی ہاں اردو میں تو یہی معنیٰ ہیں لیکن تم تو عربی پوچھ رہی تھیں۔

جی ہاں عربی میں بھی نظارہ تو نظارہ ہی ہے ! کیا وہ لوگ  کوئی نیا لفظ نہیں ایجاد کرسکتے تھے۔

کیوں ایجاد کرتے؟  نظر سے نظارہ بنالیا تو اس میں حرج کیا ہے۔

جی ہاں اب تو مجھے بھی ٹھیک لگا۔

وہ کیسے ؟کلیم صاحب نے حیرت سے پوچھا  ؟

جس کی نظر کمزور ہو اس کے لیے عینک میرا مطلب ہے نظارہ کے بغیر سارے مناظر بیکار ہیں۔  وہ بیچارہ ان کا نظارہ کرہی نہیں سکتا۔

کلیم صاحب پھر ایک بار بیگم کی دلیل سے بولڈ ہوگئے۔

بیگم ہمارا یہ پاکیزہ رشتہ  بھی نظر اور نظارے جیسا ہے۔  ہم ایک دوسرے کے لباس ہیں۔

بیگم خوش ہوکر بولی جی ہاں عینک کے شیشے اور فریم کی طرح  ایک دوجے کی  زینت کا سبب بنتے ہیں اورباہم ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔

واہ بیگم واہ۔  تم نے تو بڑی حکمت کی بات کہہ دی۔  میں تو کہتا ہوں کہ تمہیں اس موضوع پر کتاب لکھنی چاہیے۔

میں یہ حماقت نہیں کرسکتی۔ ۔

کیسی باتیں کرتی ہو بیگم۔  کیاکتاب لکھنا حماقت ہے ؟

اور نہیں تو کیا۔  میں کتنی  بھی اچھی  کتاب لکھ دوں آپ کو تو پسند آنے سے رہی۔

یہ تمہیں کیسے پتہ کہ مجھے پسند نہیں آئیگی ؟

میری تصنیف آپ کی کتاب سے بہتر نہیں ہوگی تو آپ کو کیسے پسند آئیگی ؟اس لیے یہ غلطی  مجھ سےہر گزسرزد نہیں ہوگی۔

اچھا تو تم کیا کروگی؟

میں اچھے اچھے پکوان بناوں گی جو آپ نہیں بناسکتے اور پیٹ کے راستے سے آپ کے دل پر راج کروں گی۔

کلیم صاحب نے کہا  صائمہ  ہو کر دن رات کھانے پینے کی سوچتی رہتی  ہے۔

نام میں کیا رکھا ہے آپ بھی تو کلیم ہونے کے باوجود  رات دن گم سم بیٹھے رہتے ہو۔

بیگم کی اس پھٹکار نے کلیم صاحب کو پھر ایک بار کتابوں کے تاریک غار کی جانب متوجہ کردیا وہ بولے بیگم ذرا دیکھو تو میری عینک کہاں ہے؟



⋆ سلیم خان

سلیم خان
ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

2 تبصرے

  1. بشکریہ : مضامین ڈاٹ کام
    ہے یہ طرزِ گفتگو بیحد حسیں
    کرتی ہے ہموار جو فکری زمیں
    مجھ کو یہ انشائیہ اچھا لگا
    داد دیں اس کی اگر ہو دلنشیں
    احمد علی برقی اعظمی

  2. نذیر احمد شیخ ساکی ناکہ ممبئی

    *سنجیدہ مضامین کے علاوہ مزاح کا یہ رخ بھی پسند آیا
    یہ مضمون پڑھنے کے بعد ذرا سے دیر کے لیے ذہن پرانے ریڈیو پروگرام ھوا محل کی طرف چلا گیا
    جس کا اپنا ایک انداز تھا
    بچپن میں کم عمری کے باوجود ھوا محل پابندی سے سنتے تھے
    بحرحال مزا آیا ڈاکٹر صاحب دعا ھے اشہب قلم سدا دوڑتا رھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے