ادباردو سرگرمیاں

امجد حیدرآبادی شخصیت اور فنِ رباعی

 ادراہ ادب اسلامی ہند اپنے قیام سے ہی صالح ادب کے فروغ کیلئے مسلسل جدوجہد کرتی آرہی ہے۔ادارہ ادب اسلامی گزشتہ نصف صدی سے ادب میں  توازن کو بروئے کار لانے،  فنی آداب اور تہذیبی اقدار کے درمیان مکمل ارتباط قائم کرنے کیلئے ملک کے تعمیری رجحانات رکھنے والے تمام اہل قلم کو متحرک کر رہی ہے۔اس کڑی کے طور پر ادارہ ادب اسلامی ہند تلنگانہ نے ریاستی سطح پر ایک سمینار’’امجد حیدرآبادی شخصیت اور فن رباعی ‘‘،ادبی اجلاس و مشاعرہ کا ظہیرآباد کے اسلامک سنٹر پر اہتمام عمل میں  لایا۔

 ادارہ ادب اسلامی ہند تلنگانہ و اڈیشہ کی جانب سے اسلامی سنٹر ظہیر آباد میں  ایک روزہ سمینار ’’امجد حیدرآبادی شخصیت اور فن رباعی ‘‘کا انعقاد29جنوری 2017ء بروز اتوار صبح 11بجے دن عمل میں  آیا۔ معین الدین کی تلاوت قرآن سے اس بامقصد سمینار کا آغاز ہوا۔افتتاحی کلمات میں  ڈاکٹر نوید عبدالجلیل صدر ادارہ ادب اسلامی ظہیرآباد نے ادارہ ادب اسلامی کے مقاصد کو بیان کیا اور سمینار کے انعقاد کے مقصد پر روشنی ڈالی۔پہلے مقالہ نگار وسیم احمدظہیرآبادنے ’’میں  امجد حیدرآبادی ہوں  ‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔انہوں  نے بطور امجد حیدرآبادی کے اپنے احوال زندگی، ادبی خدمات و رباعیات کو پیش کیا اور امجدکی رباعی سے اپنا تعارف پیش کیا۔

 سید احمد حسین ہوں  امجد ہوں                     حسان الہند، ثانی سرمد ہوں

     کیا پوچھتے ہو حسب و نسب کو مرے           میں  بندہ لم یلد ولم یولد ہوں

  وسیم احمد نے کہاکہ امجد حیدرآبادی نے اسلامی قدروں  کے اظہار کو اپنی شاعری کا ذریعہ بنایا۔ان کا رب العزت پر مضبوط توکل تھا۔طغیانی کے المناک واقعہ کے باوجود وہ اللہ کی رحمت سے وہ مایوس نہیں  تھے اور اس بات کا درس بھی لوگوں  کو اپنے رباعیا ت کے حوالے سے دیتے رہے۔اس سمینار میں  دوسرا مقالہ ڈاکٹر عارف انکسار حیدرآباد نے ’’اردو رباعی کی ترقی میں  امجد حیدرآبادی کا حصہ ‘‘ کے عنوان سے پڑھا۔ انہوں  نے کہا کہ امجد حیدر آبادی اپنے اندر سمندر سے گوہر نکال لانے کا ہنر رکھتے تھے۔ رباعی میں  کسی اور شاعر کو اس طرح شہرت حاصل نہیں  ہوئی جس طرح کے امجد کو حاصل ہوئی، امجد کا شمار ہندوستان کی ان نابغۂ شخصیات میں  ہوتا ہے جن کو زمانہ صدیوں  میں  پیدا کرتا ہے،ان کی شاعری میں  قرآن و حدیث،اخلاق و آداب کی خوب ترجمانی ملتی ہے۔ امجد نے شاعری اور اپنے اعلی اوصاف کے ذریعہ اردو شاعری کے سرمایہ کو مالا مال کردیا۔

تیسرا مقالہ ڈاکٹر عزیز سہیل محبوب نگرنے ’’امجد کی شاعری میں  قرآن و حدیث ‘‘ کے عنوان سے پڑھا اور کہا کہ امجد حیدر آبادی نے اپنے کلام کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا بہت ہی خوب کام انجام دیا ہے۔امجد کو رباعی پر دسترس حاصل تھی وہ رباعی کے مقبول عام شاعر تھے ان کی رباعیات قرآن و حدیث کی ترجمانی کرتی ہے ان کا قرآن وحدیث سے گہرا تعلق تھا جس کا نتیجہ ہے کہ ان کی شاعری اسلامی تعلیمات اور اسلامی فکر سے مملو ہے۔امجد کی زبان عام فہم ہے، ان کی فکرپختہ ہے ان کے کلام میں  اخلاقی میلانات پائے جاتے ہیں۔ ضروت اس بات کی ہے کہ عصر حاضر میں  نسل نو کے سامنے اسلامی فکر کے نمائندہ شعراء کے کلام کو پیش کیا جائے جس کے زیر اثر اسلامی ادب پروان چڑھے اور تعمیر ادب فروغ پائے۔انہوں  نے قرآن و حدیث کے حوالوں  کے ذریعے امجد کے رباعیات کو پیش کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیرعادل آباد نے ’’امجد حیدرآبادی اور تصوف‘‘ کے عنوان پر مقالہ پڑھا اور کہا کہ اردوشاعری کے صوفی منش شعراء میں  امجد حیدرآبادی کا شمار ہوتا ہے،قرآن و حدیث ان کی شاعری کا محور تھا، تصوف میں  ان کو کمال حاصل تھا،توحید و آخرت، معرفت کو انہوں  نے اپنی شاعری کے ذریعے پیش کیا۔

ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد حیدرآباد’’امجد حیدرآبادی کی شاعری کی عصری معنویت‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا اور کہا کہ اہل دکن نے اپنے اسلاف کی صحیح طور پر قدردانی نہ کی۔ ڈاکٹر حمید اللہ اور امجد حیدرآبادی نے حیدرآباد کی قدیم دینی درس گاہ جامعہ نظامیہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔اردو ادب میں  دکن کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ امجد حیدرآبادی نے اپنے رباعیات کی بنا عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ امجد کا شمار ان شعراء میں  ہوتا ہے جن کے کلام کی عصر حاضر میں  معنویت ابھی باقی ہے۔ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے امجد سے متعلق کہا تھا کہ پچھلے دو صدیوں  میں  وہ ایک محترم شاعر پیدا ہوا تھا، جس کو شاعری میں  کمال درجہ کا ملکہ حاصل تھا امجد کی شاعری کا اعتراف ساری اردو دنیا نے کیا ہے‘۔امجد نے اپنی شاعری کے ذریعے نئی نسلوں  کے ذہنوں  کی آبیاری کی ہے۔ ڈاکٹر فاروق شکیل حیدرآباد نے’’امجد حیدرآبادی اور اخلاقیات‘‘کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اور کہا کہ عبادات کا گہرا تعلق شریعت سے ہوتا ہے۔ جن کے سب سے اچھے اخلاق ہوں ان کا مرتبہ بلند ہوتا ہے امجد کا مرتبہ بھی اردو شاعری میں  بہت زیادہ بلند ہے۔ وہ علم و عمل کے سچے پیکر تھے۔ غروروتکبر سے پرے تھے، توحید کا بیان کی اکثر رباعیات میں  نظر آتا ہے، دولت آنے کے بعد انسانیت لوگوں  میں  ختم ہوجاتی ہے اس متعلق امجد کی رباعیات پیش کی۔او ر مزید کہا کہ امجد نے شاعری کے میدان میں  کمال درجہ کی مہارت کے ساتھ اپنا نام بنایا ہے وہیں  انہوں  نے اچھی نثر لکھ کر بھی اردو ادب کے سرمایہ کوبھر دیا تھا۔

ڈاکٹر محسن جلگانوی نے ’’امجدحیدرآبادی کی تقدیسی شاعری‘‘  پر اپنا مقالہ پڑھا اور کہا کہ امجد حیدرآبادی کے خاندان کاتعلق اخلاقیات اور معرفت سے گہرارہا ہے،امجد کے کلام میں  جگہ جگہ قرآن و حدیث کا بیان اور فکر آخرت کا تصور جا بجا نظر آتا ہے،انہوں  متصوفانہ شاعری کی ہے، اخلاقی تعلیمات، فلسفیانہ تصورات سے امجد نے عام آدمی کے ذہنوں  کو پختہ تربنایا ہے انہوں  نے عوام الناس کے دلوں  میں  خدا کے تصور کو مضبوط کیا ہے۔ ان کی تخلیقات میں  تصوف کا عکس نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری حادثات اور سانحات کی ترجمانی کرتی ہے وہ روحانی اور تصوف کی راہ پر گامزن تھے۔تزکیہ نفس کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔اس سمینار کی صدارت جناب مضطر مجاز ماہر اقبالیات ومدیر آئینہ ادب روزنامہ منصف حیدرآباد نے فرمائی۔ انہوں  نے اپنے صدارتی خطاب میں  کہاکہ امجد حیدرآبادی کے کلام میں  کیفیت اور اثرموجود ہے۔ امجد نے اردو شاعری کی مختلف اصناف میں  طبع آزمائی کی لیکن رباعیات میں  ان کاکوئی ہمسر ہے نہ کوئی ثانی۔اس فن میں  وہ "امام الفن”ہے۔ ان کی رباعیات کا ماخذ قرآن اور حدیث ہے ان کی رباعیات میں  عرفان وشق، فلسفہ اور اخلاق نظرآتے ہیں ۔  امجد حیدرآباد کی خدمات اردو رباعیات کے حوالے سے ناقابل فرموش ہے حیدرآباد میں  بھی ان کی شخصیت اور خدمات پر کام ہوا ہے اور مختلف رسائل میں  ان پر خصوصی گوشہ شائع کئے گئے تھے۔ اسلامی حوالے سے بھی ان پر مزید کام کی ضرورت ہے۔  عصر حاضر میں  امجد کی شاعری کو نئی نسل میں  عام کرنا بہت ضروری ہے۔امجد حیدر آباد نے اپنی شاعری میں  صالح اقدار کو بیان کیا ہے وہ ایک تعمیر ادب اور صالح ادب کے نقیب ہیں ۔ انہوں  نے تمام مقالہ نگاروں  کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس سمینار کے حوالے سے امجد کی زندگی کے بہت سے گوشے روشن ہوئے ہیں۔ وسیم احمدظہیرآباد نے سمینار کی نظامت حسن خوبی سے انجام دی۔

اس سمینار میں مسعود جاوید ہاشمی، منیب احمد خان صاحب، محسن خان ریسرچ اسکالر، محمد علی دانش جڑچرلہ، مقصود احمدشامل تھے۔ ڈاکٹر محسن جلگانوی نے دو پہر میں  منعقدہ ادبی اجلاس کی صدارت فرمائی۔ جس میں  منظور وقار گلبرگہ،ڈاکٹر عارف انکسارحیدرآباد،وسیم احمدظہیر آباد،ڈاکٹر عبدالقدیرعادل آباد، شفیع الدین ایڈوکیٹ ظہیر آبادنے افسانے اور انشائیے پڑھے۔رات 9بجے عظیم الشان مشاعرہ کا آغاز ہوا جس کی صدارت جناب حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی تلنگانہ نے کی۔اس مشاعرہ میں  رحیم قمرنظام آباد،بدر الدین بدرعادل آباد،انور احمد انورنرمل، رفیق جگر، قیوم یاور تانڈور،جامی وجودی محبوب نگر، لیف آرزو کوہیر،فیاض علی سکندر،ڈاکٹر نوید عبدالجلیل، سیف الدین غوری،ظہیرآباد،ڈاکٹر عافر انکسار،شاہد عدیلی،طاہر گلشن آبادی،مسعود جاوید ہاشمی، ڈاکٹر فاروق شکیل،محسن جلگانوی حیدرآباد نے کلام سنایا۔ سید ریاض تنہا صدر ادارہ ادب اسلامی ہند تلنگانہ نے مشاعرے کی خوبصورت نظامت فرمائی۔اس سمینار ومشاعرہ میں  کثیر تعداد میں  لوگ شریک تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close