ادبافسانہ

  کش مکش 

 میں  اسکے بارے میں  کچھ بھی نہیں  جانتا کہ وہ کون ہے؟ اور کہاں  رہتی ہے اور نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔ بہر حال میں  اتنا ضرور جانتا ہوں  کہ وہ ایک شریف لڑکی ہے اور کشور کو دل و جان سے پیار کرتی ہے۔

 اس سے میری پہلی ملاقات پٹنہ بس اسٹینڈ پر ہوئی تھی اس روزمیں اپنے سیٹ پربیٹھا بس کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھاکہ وہ بس میں  داخل ہوئی اس وقت وہ عجب سی لباس میں  ملبوس تھی شاید اسی وجہ کر وہاں  بیٹھے تمام لوگوں  کی نگاہیں  اس پر مرکوز ہوگئیں  اسکے ساتھ ایک بچہ بھی تھا اس بچہ کی عمر تقریباً 4-5 سال کی ہوگی بس میں  سوار ہو کر وہ کچھ دیر ادھر ادھر تکتی رہی اور چند لمحے کے بعد وہ میرے قریب آکر روک گئی اور مجھ سے پوچھا ’’کیا آپ رانچی جائینگے‘‘ میں  نے سوچا کہ شاید وہ بھی رانچی جانے والی ہو اور وہ میرے بغل والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔

 چند لمحے چپ رہنے کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہوئی اور باتیں  کرنے لگی اس درمیان وہ میرے بارے میں  سب کچھ جان چکی تھی کہ میں رانچی پبلک اسکول میں  پڑھاتا ہوں اورمیری رہائش اسکول کے کیمپس میں  ہی ہے بس کے روانگی کے چندمنٹ قبل اس نے مجھے بتایا کہ وہ یہی سے اپنے شہر دربھنگہ لوٹ جائیگی پھر اس نے مجھ سے گزارش کی کہ میں  کشور کا داخلہ اپنے اسکول میں  کروادوں  اور مجھے کشور کے داخلہ کالیٹرا وروہ تمام کاغذات جوداخلے کے لئے ضروری ہوتے ہیں میرے حوالے کر کے وہ بس سے اتر اپنے گھر کے لئے روانہ ہو گئی اور میں  سوچتا رہ گیا کہ اس کا کشور سے کیا تعلق ہے؟

 اس وقت مجھے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ شادی شدہ عورت ہے یا دوشیزہ لڑکی، کبھی میں  سوچتا کہ وہ اس کی بہن ہے وہ بہت حسین تھی حسینوں  میں  ایک، اس کا لباس بالکل سادہ تھا اسکے لباس سے تو ایسامحسوس ہو رہا تھا جیسے کہ وہ بیوہ عورت ہو لیکن سنجیدگی سے غور کیا جائے تو آج کے دور میں ا س طرح کے لباس فیشن میں  شمار ہوتے ہیں  اسکے بات چیت کرنے کا طریقہ بہت ہی پیارا تھا وہ باتیں  کرنے میں  بہت تیز تھی۔ جب تک وہ بس میں  بیٹھی رہی تمام لوگوں  کو نگاہیں  اس پر مرکوز تھیں  اس وقت مجھے ایک ڈر بھی ستا رہا تھا کہ کہیں  وہ مجھے جھانسا دے کر نکل نہ جائے اور جب وہ کشور کی ذمہ داریاں  مجھ پر سوپنے لگی تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اب میں  اسکے جال میں  پھنس گیا ہوں  لیکن میں نے اسکول کا ٹیچر ہونے کے وجہ کر اور اسکے کاغذات دیکھنے کے بعد انکار نہ کر سکا۔

 میں  صبح سویرے رانچی پہنچ کر بس اسٹینڈ سے سیدھے اسکول گیا میرا دوست رمیش مجھے اس حالت میں  دیکھ کر چونک گیا اور بولا’’صبح سویرے تم ادھر کیوں  آئے، کیا گھر نہیں  گئے‘‘؟ میں  نے اپنا دکھڑا سناتے ہوئے رمیش کو بتایا کہ ایک لڑکی نے اس کشور کے داخلہ کی ذمہ داری مجھے سونپ کر پٹنہ ہی میں  بس سے اترکر واپس اپنے گھر دربھنگہ لوٹ گئی۔

’’ارے یار!تم بھی عجب ہو، تم ہر جگہ آنکھ لڑانے لگتے ہواور چند ہی لمحے میں  اسکے لئے سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہو ۔بتائو وہ کیسی تھی کیاتم نے اسکا اتہہ پتہ لیایا نہیں ‘‘

 ’’نہیں  یار !کچھ بھی نہیں ! وہ صرف کشور اور اسکے داخلے کے کاغذات مجھے تھما کر چلی گئی کمال تو یہ ہے کہ وہ میرے بارے میں  سب کچھ جان گئی ہے لیکن اس نے اپنا نام تک بھی نہیں  بتایا‘‘

 ’’تم ٹھہرے نہا بدھو!نکالو اسکے کاغذات اور دیکھو اس میں  کیا لکھا ہے ‘‘

 ’’ارے  اس پر کشور کی تفصیل اور گارجین کی جگہ مسز سنہا لکھا ہوا ہے یہ بھی عجب معمہ ہے ‘‘

 ہملوگوں  نے اسکول کا رجسٹر نکالا اور تب مجھے جان میں  جان آئی کہ اس نے مجھے دھوکا نہیں  دیا ہے ہفتہ روز بعد اسکا ایک خط آیا جس میں  اس نے کشور کی تمام ذمہ داریاں  مجھ پر سوپنے کا ذکر کیاتھا اور مجھے اسکا مقامی نگراں  مقرر کردیا تھا اس نے اس خط میں  اسکے اخراجات کے لئے روپیہ بھی میرے پتہ پر ہی بھیجنے کا ذکر کیا تھا

اس طرح چند ماہ گزر گئے اسکے خطوط اور کشور کے اخراجات آتے رہے اتفاق سے کچھ دنوں  بعد مجھے دربھنگہ جانے کا موقع ملا وہاں  پہنچ کر میں  نے اس سے ملاقات کرنے کی کوشش کی اور پتہ کے مطابق اسکے گھر تک پہنچ گیا لیکن وہاں مسز سنہا کا نیم پلیٹ اور دروازہ پرتالا لٹک رہا تھا میں  نے پاس پڑوس کے لوگوں  سے اسکے بارے میں  پوچھ تاچھ کی تو معلوم ہوا کہ وہ یہاں  ہفتہ میں  ایک دو بار آتی ہے لیکن کسی نے اسکے گھر اور ٹھکا نے کا پتہ نہیں  بتایا۔انلوگوں  سے صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ اس نے اس مکان کا تقریباً چار سالوں  سے کرایہ پر لے رکھا ہے اور اسی طرح کبھی کبھاریہاں  آتی ہے انلوگوں  نے یہ بھی بتایا کہ وہ یہاں  ہمیشہ تنہا ہی آتی ہے کوئی اسکے ساتھ نہیں  ہوتا اور میں  اس سے ملاقات کے بغیر لوٹ آیا۔

 ہفتے، مہینے اور سال گزر گیا لیکن اس سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی وہ رانچی آئی بلکہ اسکے بارے میں  مجھے کچھ بھی معلوم نہیں  ہو سکا حالانکہ اس درمیان اسکے کئی خطوط آئے لیکن اس خطوط سے ان دونوں  کے رشتہ کا اظہار نہ ہو سکا مجھے یہ تمیز کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ اس کا کشور سے کیا رشتہ ہے؟ کبھی کبھی تو وہ اس طرح لکھتی تھی کہ اسکی ماں  کوئی اور نہیں وہی لڑکی ہے لیکن چند جملوں  کے بعد میرے دل میں  امید کی ایک کرن ابھر آتی کہ وہ ماں  نہیں  صرف ایک بہن کا فرض ادا کر رہی ہے اسکے خطوط میں  بلا کی کشش تھی اور یہی وجہ تھی کہ میں  اسے دل ہی دل میں  چاہنے لگا تھا اسکی ہر ادا مجھے بار بار ستا رہی تھی اور سچ پوچھئے تووہ اس طرح میرے کافی قریب آچکی تھی اسکے بات کرنے کاانداز نرالا تھا، دوپٹہ سے سر اور سینہ کو چھپانے کی ادا اسکی خوبصورتی میں  اور بھی نکھار لا دیتی تھی۔

 میں  نے بارہا سوچا کہ اپنے خطوط میں  اپنی چاہت کے بارے میں  ذکر کردوں  لیکن میرا دل یہ سوچ کر اداس ہو جاتا کہ وہ مجھ سے کہیں  ناراض نہ ہو جائے اور میں  اسے دوبارہ دیکھ بھی نہ سکوں  کئی بار میں  نے اسکے گھر جاکر ملنے کا بھی پروگرام بنایا۔ آخر کار میں  اس سے ملنے کے لیے دوبارہ دربھنگہ روانہ ہو گیا میرا ارادہ تھا کہ اگر اس سے ملاقات ہو گئی تو میں  اسکے گھر تک ضرور جائونگا اور اپنی چاہت کا اظہار کر دونگا اور میں  اس کی تلاش میں  نکل پڑا سچ کہیے تو میں  اس کا دیوانہ بن چکا تھا۔

میں  وہیں  پہنچا جہاں  سے ایک بار لوٹ چکا تھا اور ایک چائے دوکان میں  بیٹھ کر اسکے بارے میں  پوچھ تاچھ کرنے لگا اتنے میں  میرے کانوں  میں  آواز آئی’’ ارے یار سامنے والی لڑکی کا ایک نیا یار آیا ہے وہ بھی عجب چیز ہے ہر روز ایک نئے کو پھانس کر لاتی ہے اور انہیں  بیوقوف بناجاتی ہے مرد بھی عجب حیوان ہوتا ہے وہ یہ بھی نہیں  دیکھتا کہ اسکی حرکت کتنی بری ہے کچھ سال پہلے اس نے ایک بچہ بھی جنم دیا تھا مگر پتہ نہیں  وہ اسے کہاں  پھینک آئی اور خود گودام کی گائے کی طرح گھومتی پھرتی ہے‘‘ اتنا سننے کے بعد مجھے رمیش کی باتیں  سچ لگنے لگی کہ دنیا کی سبھی لڑکیاں  آوارہ اور بے وفا ہوتی ہیں ۔ میں  نے اس سے ملنے کا پروگرام ترک کر دیااورہوٹل سے اٹھ کر چلنے والا تھا کہ اسے دیکھ کر میرا قدم روک ساگیااورنہ چاہ کر بھی میرا دل اس سے ملنے کے لیے بیقرار ہواٹھا۔ کچھ دیر میں  ادھر ادھر تکتا رہااور۔۔۔۔ اور میرا قدم اسکی جانب بڑھنے لگا شاید اس وقت میں  یہ سوچ رہا تھا کہ یہ گمراہ کن افواہیں  ہو سکتی ہوں  اور وہ رمیش نہیں …

 وہ تالا کھول کر اندر داخل ہی ہونے والی تھی کہ میں  نے اس آواز دی پہلے تو مجھے دیکھ کر وہ چونک گئی چند ہی لمحوں  بعد اس نے خیریت پوچھا اورمجھے اندرآ نے کو کہا تھوڑے دیر بعد اس نے مجھے اپنے گھر چلنے کی دعوت دی میں  سوچ کر ہی آیا تھا کہ اس سے تنہائی میں  ملونگا شاید اسی لیے میری خواہش پوری ہو گئی۔

 میں  اسکے ساتھ کئی روز رہا اوراس درمیان میں  اسکی نقل و حرکت کا جائزہ لیتا رہا۔ اس گھر میں  وہ بالکل تنہا رہتی تھی اس نے میرے ٹھہرنے اور آرام کے لیے ایک کمرہ میں  انتظام کر دیا تھا جب میں  نے اسے بتایا کہ کشور اسکول میں  سب سے بہتر اور ذہین لڑکا ہے تو یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی لیکن اس نے خوشی کا اظہار نہیں  کیا بلکہ صرف اتنا کہہ کروہ چپ ہو گئی’ہونہار باپ کا ہونہار بیٹا ہے‘ اس سے قبل خط کے زریعہ وہ مجھے تاکید کر چکی تھی کہ میں  کشور سے اسکے بارے میں  کچھ نہیں  بتاؤں لیکن اب میری خواہش تھی کہ وہ کشور کو دیکھنے کے بہانے رانچی میرے ساتھ چلے تاکہ میں  اس سے موقع نکال کر اپنی چاہت کا اظہار کر دو لیکن وہ رانچی جانے کے لیے قطعی تیار نہ ہوئی آخر کار مجھے یوں  ہی نراش لوٹنا پڑا۔

 جب میں  رانچی پہنچا تو اسکول میں  بچوں  کا Result نکل چکا تھا اور کشور اسکول کے تمام لڑکوں  میں  امتیاز حاصل کر چکا تھا۔ اس طرح اس لڑکی کی بات سچ ثابت ہو گئی کہ ’ہونہار باپ کا ہونہار بیٹا ہے‘ ہونہار بیٹا تو مل گیا تھامگر اب مجھے ہونہار باپ اور ماں  کی تلاش ہوگئی تھی، کبھی کبھی میں  سوچتا تھا کہ اگر وہ ماں  ہوتی تو اتنے دنوں  تک وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو یوں  ہی اس حال میں  نہیں  چھوڑ دیتی۔ دریں  اثنا اسکول میں  سالانہ فنکشن کی تیاریاں  تقریباً مکمل ہو گئیں  اس فنکشن میں  شرکت کے سبھی بچوں  کے والدین اور گارجین کو مدعو کیا جا چکا تھا جب میں  نے رمیش کو اسکے بارے میں  بتایا تو وہ اس سے ملنے کے لیے بیقرار ہو گیااور بولا ’’مجھے تو ایسی ہی لڑکی کی ضرورت ہے جو اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیا ہو‘‘ اور وہ اس سے ملنے کے لیے بضد ہو گیا آخر کا مجھے اسکے ضد کے سامنے جھکنا پڑا اور میں  رمیش کے ساتھ اسکے گھر دربھنگہ کے لیے روانہ ہوگیا۔

 اور ……اور وہ جب ہم لوگ وہاں  پہنچے تو ہو ہم لوگوں  کو دیکھ کروہ چونک گئی رمیش یک تکے اسے دیکھے جا رہا تھا۔ میں  نے سوچا کہ شاید رمیش اسکی خوبصورتی دیکھ اپنے آپ میں  گم ہو گیا ہے۔ وہ ہم لوگوں  کو کمرے کے اندر لے گئی اور صوفہ پر بیٹھنے کے لیے کہا مگر آج وہ پہلے کے برعکس بالکل خاموش تھی اور مجھے اس کی خاموشی کی وجہ سمجھ میں  نہیں  آرہی تھی میں  سوچ رہا تھا کہ آج وہ اتنا خاموش کیوں  ہے؟ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ دونوں  پہلے ہی نظر میں  ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے ہوں  اور میں  تماشائی بنا ان لوگوں  کو دیکھتا رہ جائوں ۔

   ’’کہیے آپ کا بیٹا کیسا ہے؟‘‘ وہ خاموشی کو توڑتے ہوئے رمیش سے مخاطب ہوئی، میں  یہ سن کر چونک گیا رمیش کا بیٹا! یہ ایسا سوال کیا کر رہی ہے۔؟ وہ بولے جا رہی تھی۔ ’’ہاں ! وہی لڑکا کشور جو آپکے اسکول کا ہونہار طالب علم ہے۔ آپ جواب کیوں  نہیں  دیتے ہیں ؟ میں  نے سنا تھا کہ اولاد بے وفا ہوتے ہیں  لیکن یہ غلط ہے بلکہ والدین بھی بے وفا ہوتے ہیں  اور وہ اپنے اولاد کو بے وفائی کی تعلیم دیتے ہیں  آپکو اسکی ماں  سے نفرت تھی مگر اپنے امانت اور اولاد سے تو کم از کم نفرت نہیں  ہونی چاہیے تھی۔ آپ اس کی ماں  کو نہیں ! توکم سے کم اس کی خبرتولیتے کہ وہ کس حال میں  ہے اور کیسا ہے۔ اس کی ماں  سے کیا  غلطی ہوئی تھی؟ یہی نہ کہ وہ تمام لوگوں  سے آزادی سے ملتی تھی لیکن بالکل پاک تھی۔ جیسے میں  آپ لوگوں  کے درمیان بیٹھی باتیں  کر رہی ہوں ۔ اور آپ ان گمراہ کن افواہوں  کی بنیاد پر اس سے نفرت کرنے لگے اورآپ نے اسے ہمیشہ کے لے چھوڑ دیا۔ شاید آپ اسے بھی ماننے سے انکار کردیں  گے کہ وہ آپکا بیٹا  ہے  اور اب بتائیں !اب آپ مجھ سے کیا لینے آئے ہیں  میں  تو آپ کی امانت بھی آپ کے پاس بھیج چکی ہوں  تاکہ وہ آپکے سائے میں  پلے بڑھے، جوان ہو اورآپ کی طرح ہی دنیا میں  وہ مشہور معروف ہو جائے اور اس پر اسکے بدنام ماں  کا سایہ تک نہ پڑے تاکہ سماج میں  اس کا سر شرم سے جھک نہ سکے ‘‘وہ بولتی جا رہی تھی اور خوب بولی اور رمیش چپ چاپ اس کی باتوں  کو سنتا رہا وہ ایسا معلوم پڑ رہا تھا کہ اسکے بدن میں  خون نہیں  پانی ہے اور اسکا بدن برف کی طرح جم گیا ہے۔

اور …… اور میں  جان چکا تھا کہ وہ کون ہے؟ …… اس کا کشور سے کیا رشتہ ہے؟ …… اور ہونہار بیٹے کا ہونہار باپ کون ہے؟…… اور سامنے دیوار پر لگی ان دونوں  کی دھندلی تصویریں  ہوا کی جھوکوں  سے اس طرح جھول رہی تھیں  جیسے دونوں  ملنے کے بے تاب اور بے قرار ہوں ۔

مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close