ادباردو سرگرمیاں

ایک آن لائن مشاعرے کی روداد

دیارِ میر وہاٹس ایپ پر ایک باوقار ادبی گروپ ہے۔ اس پر ادبی موضوعات پر مذاکروں / مباحثوں کے علاوہ شاعری اور ادبی تخلیقات کے لیے ہر ماہ آن لائن طرحی و غیر طرحی مشاعرے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس گروپ کے روح رواں کولکاتہ کے معروف شاعر احمد کمال حشمی صاحب ہیں۔ پیش خدمت ہے اس مؤقر گروپ کے حالیہ مشاعرے کی روداد جو 3 اور 4 فروری 2018 کو منعقد کیا گیاتھا۔ دیارِ میر کے اس پچیسویں ماہانہ آن لائن مشاعرے کی صدارت مابعد جدیدیت کے حوالے سے معروف شاعرخورشید طلب صاحب نے فرمائی اور نظامت کے فرائض جہانگیر نایاب نے انجام دیے جن کا تعلق بہار کے کشن گنج سے ہے۔

مذکورہ مشاعرے کے لیے مصارعِ طرح حسبِ ذیل تھے:

؏ ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے (عرفان صدیقی)

؏ کس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ (محمد علوی)

؏ ہمیشہ سے دنیا ادھوری پڑی ہے (غلام مرتضیٰ راہی)

 اس آن لائن مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرائے کرام کے نام اس طرح ہیں:

 

[one_half]

جناب خورشید طلب (صدرمشاعرہ)

جناب احمد کمال حشمی (منتظم)

جناب شہباز مظلوم پردیسی

جناب اصغر شمیم

جناب یاور حسین

جناب حشمت علی حشمت

جناب شمیم انجم وارثی

جناب مرشد عالم ندوی

جناب فہیم جوگا پوری

جناب نثار دیناج پوری

جناب مبارک علی مبارکی

جناب عرفان وحید

جناب شمشاد علی منظری

جناب جہانگیر نایاب

[/one_half][one_half_last]

جناب اطہر مرزا

جناب جاوید مجیدی

محترمہ فوزیہ رباب

محترمہ رخشاں ہاشمی
محترمہ فرزانہ پروین

جناب بلال قاصر

جناب مسرت حسین عازم

جناب عظیم انصاری

جناب قمر الدین قمر

جناب سمیع الفت

جناب اقبال آصف

جناب نہال جالب

جناب اشرف یعقوبی

جناب نسیم فائق

جناب ڈاکٹر خالد مبشر

جناب مستحسن عزم

[/one_half_last]

(وقت مقررہ سے چند منٹ پہلے ہی تمام شرکاء آن لائن ہوجاتے ہیں اور مشاعرے کی کارروائی کا آغاز ہوتا ہے۔)

ناظمِ مشاعرہ (جناب جہانگیر نایاب): صدرِ مشاعرہ کی اجازت سے اب میں مشاعرے کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے اتردیناجپور، مغربی بنگال کے جواں سال شاعر جناب نثار دیناجپوری صاحب کو دعوتِ کلام دیتا ہوں کہ وہ اپنی طرحی غزل سے مشاعرے کا آغاز کریں۔ جناب نثار دیناجپوری

نثار دیناج پوری

توکبھی بھی نہ عارضی کچھ سوچ
سوچنا ہے تو دائمی کچھ سوچ
مرنے سے پہلے تو کبھی کچھ سوچ
’’کس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ‘‘
زاویہ غوروفکر کا تو بدل
چاہتی کیا ہے یہ صدی کچھ سوچ
غم کی آمد کا رونا کیا رونا
رہ گئی ہے کہاں خوشی کچھ سوچ
سچ ہے، مینڈک ہے اک کنویں کا وہ
جو نہیں رکھتا عالمی کچھ سوچ
شاعری تجھ پہ کوئی فرض نہیں
کرنی ہی ہے تو ان کہی کچھ سوچ
کیوں ہے ہرسو کسادبازاری
کیوں نہیں جاتی مفلسی کچھ سوچ
کیا بھروسہ ہے زندگی کا نثار
کس نے کل دیکھا آج ہی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: آئیے ایک بار پھر اتر دیناجپور مغربی بنگال کے اسلام پور شہر سے تعلق رکھنے والے خوش فکر شاعر جناب شہباز مظلوم پردیسی صاحب کو آواز دیتے ہیں کہ وہ اپنی طرحی غزل سے ہمیں نوازیں ۔ جناب شہباز مظلوم پردیسی

شہباز مظلوم پردیسی

محبت نے بخشی عجب یہ گھڑی ہے
کہ آنکھوں میں ساون کی آئی جھڑی ہے
اجل کہہ رہی ہے چلو ساتھ میرے
مگر زندگی اپنی ضد پر اڑی ہے
تھی ملت ہماری جہاں صدیوں پہلے
اسی موڑ پر یہ ابھی تک کھڑی ہے
ہے کیا چیز دنیا جھکے گا گگن بھی
کہ سچی محبت میں طاقت بڑی ہے
تجھے گر تکبر ہے محلوں پہ اپنے
مری شان و شوکت مری جھونپڑی ہے
چلو بلبلو، باندھو سر سے کفن اب
چمن کو لہو کی ضرورت پڑی ہے
بتا کیوں ہے مظلومؔ غمگین اتنا
نظر کس حسینہ سے تیری لڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ:اور اب وادیٔ کشمیر کا رخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے خوبصورت لب و لہجے کے شاعر جناب بلال قاصر صاحب کو دعوتِ سخن دیتا ہوں کہ وہ اپنی خوبصورت غزل سے ہمیں نوازیں۔ جناب بلال قاصر

بلال قاصر

رب کی کرنی ہے بندگی کچھ سوچ
سب کو مرنا بھی ہے کبھی کچھ سوچ
کیوں بھٹکنے کا شوق ہے تجھ کو
’’کس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ‘‘
غم کے شعلوں سے واسطہ رکھنا
پاس رہتی نہیں خوشی کچھ سوچ
اتنا ڈرنا بھی کیا ہے مرنے سے
مار دیتی ہے زندگی کچھ سوچ
رب کو قاصر نہ کر کبھی ناراض
کس سے رکھنی ہے دوستی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: اور اب امیڈکر نگر، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے متحرک نوجوان شاعر جناب شمشاد علی منظری صاحب سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے کلام سے نوازیں۔ جناب شمشاد علی منظری

شمشاد علی منظری

یہ تو خواہش ہی نہیں ہے مری عزت کی جائے
ہاں جو حق بات کہوں اس کی حمایت کی جائے
اپنے لوگوں سے محبت کو جتانے کے لیے
کیا ضروری ہے کہ اغیار سے نفرت کی جائے
سالہا سال تھے سلطان ہمارے اجداد
ہم بتائیں گے تھیں کیسے حکومت کی جائے
جن سے ملتا ہے محبت کا اجالا ہم کو
آئیے ایسے چراغوں کی حفاظت کی جائے
اپنے اس ملک میں جب خوں کی ندی بہتی ہو
رہنما تب بھی یہ چاہیں گے سیاست کی جائے
بے نیازی ہے اگر سود و زیاں سے ہم کو
پھر کہاں کوئی ضرورت ہے کہ بیعت کی جائے
جس کو دیکھو وہی آمادۂ نفرت ہے یہاں
دورِ حاضر میں بھلا کس سے محبت کی جائے
جب نکالا ہی گیا اک بار ہمیں جنت سے
کیا ضرورت ہے کہ پھر خواہشِ جنت کی جائے
ہم نے مانا کہ مسائل ہیں ہزاروں شمشاد
پھر بھی اچھا نہیں لگتا ہے کہ ہجرت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: مشاعرے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں ایک اور خوش فکر شاعر جناب جاوید مجیدی صاحب کو آپ سب کے روبرو پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنی طرحی غزل سے ہمیں نوازیں۔ جناب جاوید مجیدی

جاوید مجیدی

مصیبت پریشانی کی اک کڑی ہے
یہ دنیا ہمارے ہی پیچہے پڑی ہے
بھلا کون اپنی کہانی سنے گا
کہانی ہماری بہت ہی بڑی ہے
حقیقت سے اس کا نہیں ربط کوئی
ضرور اس فسانے میں کچھ گڑبڑی ہے
سنبھل کر یہاں پر قدم اپنے رکھنا
یہاں سے وہاں تک سیاست جڑی ہے
جلا کر وہ رکھ دیگا اک پل میں سب کچھ
یہ دنیا تو اس کے لیے پھلجھڑی ہے
نئی جیسی رکھا ہے اس کو بھی ہم نے
جو گھر میں ہمارے پرانی گھڑی ہے
قیامت سے پہلے مکمل نہ ہوگی
ہمیشہ سے دنیا ادھوری پڑی ہے
تمہیں خوف جاویدؔ مرنے کا کیوں ہو
کہ جبکہ یہاں موت سر پہ کھڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ: مؤ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے مشہور نوجوان شاعر جناب نہال جالب صاحب کو زحمتِ کلام دیتے ہوئے ان سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے کلام سے مشاعرے کو آگے بڑھائیں۔ جناب نہال جالب

نہال جالب

زندگی ہے کہ خودکشی کچھ سوچ
کب جدا ہوگی مفلسی کچھ سوچ
جو بھی ہونا ہے ہوکے رہنا ہے
چھوڑ تو کل کی آج کی کچھ سوچ
ایک جاں اور ہیں ہزاروں غم
ہو رہی ہے یہ زیادتی، کچھ سوچ
کیوں تعلق میں یہ دراڑ آئی!
کچھ نہ کچھ ہے کہیں کمی، کچھ سوچ
شاعری پیٹ بھر نہیں سکتی
اس کے بارے میں تو کبھی کچھ سوچ
اس سے پہلے کہ جاں چلی جائے
اے مرے یار وصل کی کچھ سوچ
عشق اتنا نہ کر ستم مجھ پر
کیا قیامت ہے حسن بھی کچھ سوچ
غیر سے ان کی دل لگی جالبؔ
دوستی ہے کہ دشمنی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: آئیے دیارِ میر کے ایک فعال ممبر اور خوش فکر شاعر جناب اطہر مرزا صاحب سے روبرو ہوکر ان کے کلام سے محظوظ ہوتے ہیں۔ جناب اطہر مرزا

اطہر مرزا اطہرؔ مرشدآبادی

اگــرچہ ابھی آزمائش کـڑی ہے
ہوئی خیر سے سر تو راحت بڑی ہے
مری آستیں میں رہو شوق سے تم
دبی میری مٹھی میں بھی اک جڑی ہے
قناعت نے دی ہے مجھے کامرانی
نفس سے کبھی جب لڑائی لڑی ہے
اسے کب عنایات دنیا کی حاجت
نگاہِ کرم تیری جس پر پڑی ہے
عجب ہے حسینوں کی شعلہ مزاجی
ابھی اک دھـماکہ ابھی پھلجھڑی ہے
نجابت بزرگوں کی ہوتی ہے رسوا
مگر فکرِ اسلاف کس کو پڑی ہے
مری رہ گزر کر دے آسان یارب!
ہر اک گام پر اک مصیبت کھڑی ہے
بڑے ناز سے کر رہے ہیں وہ باتیں
سنبھلنا اے اطہرؔ کہ نازک گھڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ: ایک بار پھر مغربی بنگال کا رخ کرتے ہوئے میں نوجوان زودگو شاعر جن کی غزلیں تواتر سے دیارِ میر میں پڑھنے کو ملتی ہیں میری مراد جناب اصغر شمیم صاحب سے ہے کہ وہ اپنے کلام سے ہمیں محظوظ کرائیں۔ جناب اصغر شمیم

اصغر شمیم

مجھے جو ملی رات کتنی بڑی ہے
ترے سامنے صبح آ کر کھڑی ہے
جلانے بھی دیتی نہیں اک دیا تک
نہ جانے ہوا کیوں یہ ضد پر اڑی ہے
بہت قیمتی شے سمجھتا تھا جس کو
وہ دنیا تو قدموں کے نیچے پڑی ہے
نہیں دیکھتا ہے وہ میری طرف اب
نظر اس کی جانے کہاں پر گڑی ہے
کہاں ڈھونڈتے ہو مجھے دریا دریا
مری ناؤ ساحل پہ آ کر کھڑی ہے
ستاروں کی برسات ہونے لگی اب
جو بچوں کے ہاتھوں میں اک پھلجھڑی ہے
ہم اک دوسرے کو سنبھالے ہوئے ہیں
مصیبت کی اصغرؔ جب آئی گھڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ: اب ناظمِ مشاعرہ یعنی خاکسار جہانگیرنایاب کا کلام ملاحظہ کریں

جہانگیر نایاب

رہ کے چپ اور نہ ظالم کی حمایت کی جائے
اب یہی راہ بچی ہے کہ بغاوت کی جائے
کہہ رہی ہے مِری مٹھی سے پھسلتی ہوئی ریت
کچھ اگر قرض چکانا ہے تو عجلت کی جائے
کوستے رہنا اندھیروں کو نہیں حل کوئی
روشنی کی چلو پیدا کوئی صورت کی جائے
ہر سزا آپ کی منظور مجھے ہے لیکن
کیاخطامجھ سے ہوئی اس کی وضاحت کی جائے
دل پریشاں ہے تجھے بارِ دگر دیکھنے کو
بام پر آنے کی پھر سے ذرا زحمت کی جائے
چاہیے شیخ کو ہر چیز فراواں لیکن
ہم کو تلقین کہ تھوڑے پہ قناعت کی جائے
پھر برے وقت میں سب چھوڑ گئے ساتھ مِرا
اور یہ بات نہیں ایسی کہ حیرت کی جائے
سارے رشتے ہی محبت کو ترستے رہ جائیں
خود سے نایابؔ نہ اتنی بھی محبت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: اب میں رانی گنج سے تعلق رکھنے والے کنہہ مشق شاعر جناب حشمت علی حشمت صاحب سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنے کلام سے مشاعرے کو بلندی عطا کریں ۔ جناب حشمت علی حشمت

حشمت علی حشمت

پیار شدت سے نہ جم کر کبھی نفرت کی جائے
لت بری ہو کہ بھلی حسبِ ضرورت کی جائے
دوستی، مہر، وفا آج ہیں بازاری شے
کیوں عبث ان کے لیے کوئی حماقت کی جائے
اب یہی شیوۂ انسان ہوا جاتا ہے
حق کی راہوں میں کھڑی کیسے مصیبت کی جائے
شیشۂ دل تو کبھی ٹوٹ کے جڑتا ہی نہیں
دھات کی شے تو نہیں ہے کہ مرمت کی جائے
وہ اشاروں سے بلاتے ہیں سرِ بزم ہمیں
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
خاک آئے گا محبت کی علالت میں مزہ
اتنی فرصت نہیں ان کو کہ عیادت کی جائے
اس قدر آگ بگولہ ہیں وہ حشمتؔ، ان سے
اب تو اصرار کیا جائے نہ مِنّت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: ایک بار پھر مغربی بنگال کا رخ کرتے ہوئے جگتدل سے تعلق رکھنے والے پرگو اور خوش فکر شاعر جناب سمیع الفت صاحب کو آپ کے حوالے کرتا ہوں جو دیارِ میر کے فعال رکن بھی ہیں ۔ جناب سمیع الفت

سمیع الفت

چمن میں یہ کیسی ہوا چل پڑی ہے
لرزنے لگی ایک اک پنکھڑی ہے
حسیں لگ رہا ہے مجھے سارا منظر
نظر اک حسینہ سے جب سے لڑی ہے
غنیمت ہے راحت اگر ہو میسر
مگر دھوپ عصیاں کی سر پہ کڑی ہے
صنم میرے میری نگاہوں میں چھپ جا
نظر بد زمانے کی تجھ پہ گڑی ہے
محبت کی خوشبو نہ آئے گی ہرگز
ستمگر تمہاری زباں ہی سڑی ہے
چلو اب سمیعؔ مل کے کر دیں مکمل
’’ہمیشہ سے دنیاادھوری پڑی ہے‘‘

ناظمِ مشاعرہ: اب میں دیارِ میر کے بے حد فعال رکن خوبصورت لب و لہجے کے پختہ کار شاعر جناب عظیم انصاری صاحب کو دعوتِ کلام دیتا ہوں کہ اپنے معیاری کلام سے ہمیں نوازیں۔ جناب عظیم انصاری

عظیم انصاری

سنا تھا کہ یہ میرے دل سے بڑی ہے
جو دیکھا تو مٹھی میں دنیا پڑی ہے
قضا کیا اسے بخش دیتی ہے جاناں
سدا جنگ جس نے بقا کی لڑی ہے
کریں گے کبھی پیار شدت سے ہم کو
یہ نفرت اسی سلسلے کی کڑی ہے
مکمل جو ھوتی تو جنت نہ ھوتی؟
’’ہمیشہ سے دنیا ادھوری پڑی ہے‘‘
کئی مسئلے حل ہوئے گفتگو سے
انا کیسے مانے گی؟ ضد پر اڑی ہے
خودی بھی مجھے تاکتی ہے پلٹ کر
ضرورت بھی دامن پسارے کھڑی ہے
سلگتی ہوئی سی عظیمؔ اپنی دنیا
سمجھتا ہے دل کتنی مشکل گھڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ: آئیے مشاعرے کو آگے بڑھاتے ہوئے نسائی ادب کے حوالے سے منفرد شناخت رکھنے والی معروف شاعرہ جن کا مجموعئہ کلام ” آنکھوں کے اس پار” منظرِ عام پر آچکا ہے میری مراد محترمہ فوزیہ رباب صاحبہ سے ہے ۔ان سے التماس ہے کہ اپنی خوبصورت شاعری سے مشاعرے کا لطف دوبالا کریں۔ محترمہ فوزیہ رباب

فوزیہ رباب

بڑھتی جاتی ہے بے کلی کچھ سوچ
ہو گئی کیسی زندگی کچھ سوچ
چہرہ اتنا اداس کیوں کر ہے
کھو گئی کیوں شگفتگی کچھ سوچ
اس قدر نعمتوں کے بدلے میں
اتنی تھوڑی سی بندگی؟ کچھ سوچ
اے مرے جلد باز ٹھیر ذرا
آ یہاں بیٹھ دو گھڑی کچھ سوچ
جیل میں قید میرے سارے سکھ
ہو گئے دکھ سبھی بری کچھ سوچ
کیا یہی بات تھی ترے دل میں؟
کون کرتا ہے مخبری؟ کچھ سوچ
مل بھی جائیں یہاں تو حاصل کیا
زندگی تو ہے عارضی کچھ سوچ
میں کہاں تک تجھے مناؤں گی
ٹوٹ جاؤں نہ میں کبھی کچھ سوچ
میرے گھر میں نہیں ہے تو جب سے
کیوں ہے آباد بے گھری! کچھ سوچ
بن سنور کر بھی پھیکا پھیکا ہے
کتنی دل کش تھی سادگی کچھ سوچ
کچھ یقیناً سراغ پا لے گا
سوچ لے چاہے سرسری، کچھ سوچ
شوق سے ساتھ چھوڑ دے لیکن
کیسے گزرے گی زندگی کچھ سوچ
عشق کہتا ہے سوچنا کیسا
زور دیتی ہے آگہی کچھ سوچ
اس طرح سے نہ کر نظر انداز
شاعری ہے ربابؔ کی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: اب میں کولکاتہ کے برزگ اور معتبر شاعر جناب اشرف یعقوبی صاحب کو بے حد عزت و احترام کے ساتھ گزارش کرتا ہوں کہ اپنی طرحی غزل سے مشاعرے کو وقار بخشیں  جناب اشرف یعقوبی۔

اشــــــرفؔ یعقوبی

فائدہ جس میں نہ ہو ایسی تجارت کی جاۓ
دوستو آؤ غریبوں سے محبت کی جاۓ
اس طرح کیوں نہ روایت سے بغاوت کی جاۓ
محفلِ حسن میں پیدا کوئی جدت کی جاۓ
حادثے شہر میں آوارہ پھرا کرتے ہیں
زندگانی کی بہر طور حفاظت کی جاۓ
ان سے خاموش محبت کی ضمانت لی ہے
غیر ممکن ہے امانت میں خیانت کی جاۓ
ایسا دستور بناؤ کہ مرے ہم وطنو
مرنے والوں کی نہ لاشوں پہ سیاست کی جاۓ
گھورتی رہتی ہیں ان کوجو ہوس کی آنکھیں
بچیوں کی بھی ان آنکھوں سے حفاظت کی جاۓ
مقتدی بن کے رہیں حضرت اشرفؔ کب تک
آئیں اشعار میں لفظوں کی امامت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: اب میں کشن گنج بہار سے تعلق رکھنے والے ممبئی میں مقیم جدید لب و لہجے کے شاعر و فلمی نغمہ نگار جناب مستحسن عزم صاحب کو دعوتِ سخن دیتا ہوں کہ وہ اپنی طرحی غزل سے نوازیں۔ جناب مستحسن عزم

مستحسن عزم

ذہن کچھ سوچ آگہی کچھ سوچ
کس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ
تیرے سائے تلے جو ظلمت ہے
اس کے بارے میں روشنی کچھ سوچ
جب مکدر ہوئی فضائے ذہن
کیسے آئے گی تازگی کچھ سوچ
دل کہیں بے حسی کا گھر تو نہیں
کیوں ہوا درد اجنبی، کچھ سوچ
شاخِ گل ہے کہ اب لچکتی نہیں
اے وقارِ کبوتری کچھ سوچ
میں مکمل نہیں ہوا اب تک
فنِ کوزہ گری مری کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: اور اب آج کے مشاعرے کے مقطع کے طور پر بڑے فخر اور عزت و احترام کے ساتھ میں ایک ایسے شاعر کو آپ کے روبرو کررہا ہوں جو ڈیڑھ درجن مجموعے کے خالق کے ہیں غزل و نظم کے ساتھ ساتھ رباعی کے بھی باکمال شاعر ہیں رعیات کا ایک ضخیم مجموعہ بھی شائع ہوکر مقبول ہو چکا ہے میری مراد معروف و مستند شاعر جناب شمیم انجم وارثی صاحب سے ہے میں ان سے التماس کرتا ہوں کہ اپنی غزل سے ہمیں نوازیں۔ جناب شمیم انجم وارثی

شمیم انجم وارثی

کام ایسا بھی کوئی کرنے کی حکمت کی جائے
سرد تپتے ہوئے سورج کی تمازت کی جائے
آیتِ تشنہ لبی سینۂ صحرائی پر
آبِ دریا کی سیاہی سے عبارت کی جائے
اس کی آنکھیں ہیں کہ قرآن کے دو پارے ہیں
با وضو ہوکے نگاہوں سے تلاوت کی جائے
اے خیالِ رخِ جاناں مرے ہمراہ تو چل
جسم سے روح کی طے ساری مسافت کی جائے
مسجدِ جسمِ تقدس کی روایت ہے یہی
خود ہی دی جائے اذاں اپنی امامت کی جائے
دل وہ مانگے ہے سدا دستِ طلب پھیلا کر
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
ہم فقیروں کا تو دستور فقیری ہے شمیم
ساعتِ فاقہ کشی پر ہی قناعت کی جائے

(اس کے بعد صدر مشاعرہ کی اجازت سے مشاعرے کی کارروائی اگلے شب کے لیے ملتوی کردی گئی)

دوسری نشست
(4 فروری 2018، رات 9:30 بجے)

ناظمِ مشاعرہ: صدرِ مشاعرہ سے اجازت کے ساتھ آج کے مشاعرے کی شروعات مٹیابرج کولکاتہ میں مقیم خوبصورت لب و لہجے کے شاعر جناب قمر الدین قمر صاحب سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اہنے طرحی کلام سے نوازیں۔ جناب قمرالدین قمر

قمر الدین قمر

زمینِ جگر پر غموں کی جھڑی ہے
بہت سخت یہ امتحاں کی گھڑی ہے
سبھی اپنے اپنے خیالوں میں گم ہیں
ہر اک کو یہاں صرف اپنی پڑی ہے
مری شہرتیں اس کو کھلتیں ہیں ہر دم
میری نیک نامی نظر میں گڑی ہے
شبِ غم کی باتیں یوں اس نے سنائیں
ہوا مضطرب دل، نظر رو پڑی ہے
مری شیریں باتیں بھی ہیں تلخ لگتیں
کدورت کی کائی جو دل میں پڑی ہے
وہ جس بزم میں جائے محشر بپا ہو
کہ جیسے بدن سے قیامت جڑی ہے
کہاں سے ہوں صبحوں کی کرنیں میسر
ابھی شام دروازہ گھیرے کھڑی ہے
ادھر ہے قمرؔ آئینوں کی نمائش
ادھر بارشِ سنگ ضد پر اڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ: کولکاتہ رخ کرتے ہوئے دیارِ میر کے فعال اور ہردلعزیز رکن مستد و معروف شاعر جناب مرشد عالم ندوی صاحب کو آپ سب کے حوالے کررہا ہوں آئیے اب ان کے کلام سے لطف اندوز ہوں۔ جناب مرشد عالم ندوی

مرشد عالم ندوی

قلبِ مضطر کو ابھی اور نصیحت کی جائے
اس بتِ وعدہ شکن سے نہ محبت کی جائے
دل نے رسوا کیا ہشیاروں کو باغی ہو کر
کیا مزا آئے اگر دل سے بغاوت کی جائے
راہزن راہبرِ قوم بنا پھرتا ہے
ہے ضروری کہ ذرا پیش حقیقت کی جائے
سوچ رکھا تھا نہ بولیں گے کبھی بھی ان سے
بات ان سے مگر اب وقتِ ضرورت کی جائے
ناخدائی کو میسر ہو خدائی گویا
ڈوبتے ڈوبتے کہتا ہے اطاعت کی جائے
مذہبِ عشق کے مشہور ولی ہیں ہم لوگ
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
شوق گڑھ لیتا ہے معبود نئے، مرشدؔ روز
سخت حیران ہوں کس کس کی عبادت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: مشاعرے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب میں مونگیر سے تعلق رکھنے والی نئی نسل کی خوش فکر شاعرہ محترمہ رخشاں ہاشمی صاحبہ کو میں دعوتِ سخن دیتا ہوں کہ وہ اپنے کلام سے نوازیں۔ محترمہ رخشاں ہاشمی

رخشاں ہاشمی

مجھ سے کہتی ہے آگہی کچھ سوچ
وقت ضائع نہ کر ابھی کچھ سوچ
اِس سے پہلے کہ موت آجائے
’’کِس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ‘‘
میری ہر سوچ میں بسا ہے تو
تو بھی میرے لیے کبھی کچھ سوچ
مجھ سے اب صبر ہی نہیں ہوتا
جان! کچھ سوچ واقعی، کچھ سوچ
کیا تجھے یاد آرہا ہے کچھ؟
دیکھ تاروں کی روشنی کچھ سوچ
شعر کہنے میں لطف آتا ہے
بات لگتی ہے جب نئی، کچھ سوچ
لوگ چونک اٹھیں کوئی ایسا خیال
سوچنا ہے تو دور کی کچھ سوچ
ظلمتوں میں ہی روشنی ہے کہیں
گم کہاں ہے وہ روشنی کچھ سوچ
تیرے کردار پر اٹھا ہے سوال
سوچ اب رخشاںؔ ہاشمی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: مشاعرے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں محترمہ فرزانہ پروین صاحبہ کو دعوتِ سخن دے رہا ہوں جو پہلی بار دیاِ میر کے مشاعرے میں شرکت کررہی ہیں ان سے گزارش ہے کہ اپنا کلام عنایت فرمائیں۔ محترمہ فرزانہ پروین

فـــرزانہ پــــروین

کی عطا کس نے ہر خوشی کچھ سوچ
کرنی ہے کس کی بندگی کچھ سوچ
کس لیے آئے تھے جہاں میں ہم
کس طرف چل دی زندگی کچھ سوچ
تجھ سے منسوب ہیں مرے اشعار
کی ترے نام شاعری کچھ سوچ
کل بھلا کس نے دیکھ رکھا ہے
ہے اگر سوچنا، ابھی کچھ سوچ
ترک یاری کے بعد پھر مڑ کر
کیوں نظر ڈالی سرسری کچھ سوچ
میرے دل میں چھپا ہے کتنا درد
لب پہ ہے کھوکھلی ہنسی کچھ سوچ
موت برحق ہے آئے گی لیکن
’’کس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ‘‘

ناظمِ مشاعرہ: آئیے اب دہلی کا رخ کرتے ہوئے نئی نسل کے ایک پختہ کار و ہونہارشاعر، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے اسکالر، مشہور ویب سائٹ مضامین ڈاٹ کام کے بانی، جناب عرفان وحید سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی خوبصورت شاعری سے مشاعرے کو بلندی بخشیں۔ جناب عرفان وحید

عرفان وحید

کیا عبث کوہ و بیاباں کی مسافت کی جائے
شہر ہی دشت ہے اب شہر میں وحشت کی جائے
قریۂ ذات میں تا چند سکونت کی جائے
خود شناسی کا تقاضا ہے کہ ہجرت کی جائے
پہلے کر بیٹھیں اکارت دلِ نالاں کی کمائی
پھر اسی کارِ ندامت پہ ندامت کی جائے
معجزے اور بھی ہیں دستِ قلندر میں کئی
رمِ آہو بھی کرامت ہے کہ حیرت کی جائے؟
ہم نہ سرمد ہیں، نہ منصور، نہ سقراط کوئی
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
متن کی کنہ نہیں ہے کوئی کھلنے والی
حاشیے ہی کی کوئی رمز عبارت کی جائے
پھر کیا جائے سفر سات سوالوں والا
اور زندہ کوئی بِسری سی روایت کی جائے
سروں سے ان کے ہٹادے جو ملامت کا غبار
پھر عطا ہمسفروں کو وہ بشارت کی جائے
غم مرا غم ہے تو عـــرفانؔ ہو دل جوئی بھی
دل مرا دل ہے تو ملنے کی بھی صورت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: دہلی سے کولکاتہ کا سفر طے کرتے ہوئے اب میں ایک اہم شاعر و دیارِ میر کے فعال اور چہیتے رکن جن کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں بھی پرلطف اور دلچسپ ہوتی ہیں میری مراد جناب مبارک علی مبارکی صاحب سے ہے میں ان سے التماس کرتا ہوں کہ وہ اپنے کلام سے ہمیں نوازیں۔ جناب مبارک علی مبارکی

مبارک علی مبارکی

کون کہتا ہے کسی سے نہ محبت کی جائے
پر ضروری تو نہیں عشق کی شہرت کی جائے
جامِ الفت نہ سہی زہر کا پیالہ ہی سہی
ساقیا پیاسے پر اِتنی تو عنایت کی جائے
کر دیا ہم کو خدا سے قریں دکھ دے دے کر
یہ عنایت ہے صنم کی، نہ شکایت کی جائے
پھر سے پھوٹے گا کوئی چشمۂ آبِ زم زم
آبلہ پائی کی تھوڑی سی جو ہمّت کی جائے
تِنکے پھر جوڑینگے جو برق نشیمن پہ گِری
یہ تو ممکن ہی نہیں پھر کوئی ہجرت کی جائے
داغ عصیاں کے چھپانے کے لیے دنیا سے
آؤ مل بیٹھ کے ابلیس پہ لعنت کی جائے
ظلم سہتے رہے اور صبر بھی کر کے دیکھا
کر لیا ضبط بہت آؤ بغاوت کی جائے
جانتے خوب ہیں اے شیخ حقیقت تیری
پر یہ شیوہ نہیں رِندوں کا کہ غیبت کی جائے
خوبصورت تو ہے ایمان شکن بھی ہے مگر
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
ان کو چاہا جو مبارکؔ تو مِلے رنج و الم
اِس لیے سوچا ہے اب خود سے محبّت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: ایک بار پھر دہلی کا رخ کرتے ہوئے جامیہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے اردو کے استاد و نئی نسل کے باوقار ناقد اور اہم شاعر جنہیں نظم و غزل پہ یکساں قدرت حاصل ہے میری مراد ڈاکٹر خالد مبشر صاحب سے ہے میری ان سے التماس ہے کہ وہ اپنے کلام سے نوازیں۔ جناب ڈاکٹر خالد مبشر

ڈاکٹرخالد مبشر

خواہ شورش کہ سنسنی کچھ سوچ
کیسے ٹوٹے یہ خامشی کچھ سوچ
تجھ میں سب کچھ ہے ان کہی کچھ سوچ
اے دلِ زار گفتنی کچھ سوچ
باؤلے ایسی موہنی کچھ سوچ
وہ بھی ہو جائے باؤلی کچھ سوچ
درد کے ساتھ دل لگی کچھ سوچ
زخم آلود شاعری کچھ سوچ
اور بڑھ جائے آگہی کچھ سوچ
یعنی اب اور میکشی کچھ سوچ
دامنِ کوہ چھوڑ، صحرا چھوڑ
اک نیا طرزِ عاشقی کچھ سوچ
حسن جھک جائے عشق کے آگے
اب کے ایسی قلندری کچھ سوچ
سوچتا کون ہے کسی کے لیے
سوچنا ہے تو آپ ہی کچھ سوچ
چاہے دل ہی جلانا پڑ جائے
ہو بہر حال روشنی کچھ سوچ
جب بھی دیکھے وہ تجھ کو اے خالدؔ
تیری چاہت ہو دیدنی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: ایک بار پھر کو لکاتا کا سفر کرتے ہوئے ایک ایسے زود گواور برجستہ گو شاعر کے حضور پیش ہوتے ہیں جو نعت اور نظم کے حوالے سے اپنی خاص شناحت رکھتے ہیں ماہیہ اور غزلیں بھی عمدہ کہتے ہیں میری مراد منفرد لب و لہجہ کے مستند شاعر جناب نسیم فائق صاحب سے ہے میری ان سے گزارش ہے کہ اپنی طرحی غزل سے نوازیں۔ جناب نسیم فائق

نسیم فائق

سوکھنے والی ہے ندی کچھ سوچ
کل کے بارے میں پیشگی کچھ سوچ
خرچ کرتا ہے تو دھیان کہاں
میرے بارے میں سرسری کچھ سوچ
فال نامے سے زندگی کو نکال
دیکھتا کیا ہے جنتری کچھ سوچ
یہ سمندر اگر نہیں ہوتا
جاکے ملتی کہاں ندی کچھ سوچ
ہر گھڑی جاپ خود پسندی کی
تجھ کو کر دے نہ سادھوی کچھ سوچ
منتشر ہوکے تجربہ تو ہوا
متحد ہو کے یا اخی کچھ سوچ
ہنس پڑا جب حباب سے یہ کہا
’’کس لیے ہے یہ زندگی کچھ سوچ‘‘
میں نے سوچا کہ سوچ لوں گا کل
اس نے فائقؔ کہا ابھی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: کولکاتہ سے پٹنہ بہار کا سفر کرتے ہوئے ایک مستند و خوش فکر شاعر کی دربار میں حضری دیتے ہیں جن کی صدارت میں دیارِ میر کا مشاعرہ پہلے منعقد ہوچکا ہے میری مراد جناب یاور حسین صاحب سے ہے میں ان سے التماس کرتا ہوں کہ اپنی غزل سے نوازیں ۔ جناب یاور حسین

یاور حسین

دور کر اب یہ بے دلی، کچھ سوچ
صبح ہونے کو ہے نئی، کچھ سوچ
چاندنی چاروں اور پھیلی ہوئی
اور یہ رات شبنمی، کچھ سوچ
کچھ تو ہوتی ہے چند لمحوں کی
اور ہوتی ہے دائمی کچھ سوچ
بن کے ناسور اب کھٹکتی ہے
دل میں میرے دبی دبی کچھ سوچ
ہے خرد سے جنوں کی نو چھ کی
بڑھ نہ جائے یہ دشمنی، کچھ سوچ
تیرے ہوتے ہوئے یہ خالی پن
تیرے ہونے پہ یہ کمی! کچھ سوچ
جانے کیوں مجھ کو خاردار لگی
آج پھولوں سے بھی سجی کچھ سوچ
کھول کوئی گرہ تو ہستی کی
"کس لیے ہے یہ زندگی، کچھ سوچ
دیکھ اک سجدہ زیرِ خنجرِ ظلم
دیکھ معراج بندگی، کچھ سوچ
ہیں فقیرانہ سوچ والے کچھ
اور رکھتے ہیں نقرئی کچھ سوچ
اور پھیلا نگاہ کی وسعت
یاورِؔ تشنہ دور کی کچھ سوچ

ناظمِ مشاعرہ: آئیے ایک بار پھر بہار لوٹتے ہیں اور ایک ایسے شاعر سے روبرو ہوتے ہیں فن پعروض جن کی مضبوط گرفت ہے اور استادانہ صلاحیت کے مالک بھی ہیں میری مراد خوبصورت لب و لہجے کے مستند شاعر محترم فہیم جوگا پوری صاحب سے ہے میں ان سے التماس کرتا ہوں کہ اپنی خوبصورت غزل سے مشاعرے کے حسن میں اضافہ کریں۔ جناب فہیم جوگاپوری

فہیم جوگا پوری

اہل کو چھوڑ کے نا اہل کی بیعت کی جائے
اتنی ارزاں تو نہ دستارِ فضیلت کی جائے
تیرے جاتے ہی اداسی لگی کہنے مجھ سے
کیوں نہ اس گھر کے سنگھاسن پہ حکومت کی جائے
اجنبی شہر میں شکوے تو بہت ہیں لیکن
کوئی چہرہ ہو شناسا تو شکایت کی جائے
چشم و دل، ذہن و خیالات اسی کے ہیں اسیر
ساحرِ وقت سے کس کس کی حفاظت کی جائے
اہلِ مسند سے مگر کون یہ فریاد کرے
ہم فقیروں پہ کبھی چشمِ عنایت کی جائے
شاعری ساحری ہو جائے تو حیرت کیسی
روحِ فن ڈال کے جب کوئی کرامت کی جائے
ایسے دو راہے پہ ہے منزلِ ایمان کہ اب
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
بوڑھے ماں باپ کے چہرے کو پڑھو ایسے فہیمؔ
جیسے قرآنِ مقدس کی تلاوت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: آئیے مغربی بنگال سےتعلق رکھنے والے معروف و مستند شاعر جو اپنی عمدہ شاعری کے حوالے سے خاص طور سے پہچانے جاتے ہیں دیار میر کے سینئر رکن بھی ہیں میری مراد جناب مسرت حسین عازم صاحب سے ہے میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی طرحی غزل سے نوازیں۔ جناب مسرت حسین عازم

مسرت حسین عازمِ

پھر سےتشکیل نئی ایک ریاست کی جائے
قیس و فرہاد کی منسوخ حکومت کی جائے
عشق زادوں کو چلو ایک نصیحت کی جائے
زندہ رہنا ہے تو پھر ترکِ محبت کی جائے
غم سے آراستہ اس دل کی عمارت کی جائے
عشق حالانکہ حماقت ہے حماقت کی جائے
رو رعایت نہ کوئی ان سے مروت کی جائے
دل لیا ہے تو پھر اس دل کی حفاظت کی جائے
یوں تعلق تو پرانا بھی ہے گہرا بھی ہے
آج آؤ چلیں میثاقِ محبت کی جائے
جان بھی پیاری ہے ایمان بھی ہم کو ہے عزیز
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
شعریت بھی ہو تخیل کی فراوانی بھی
چہ کہ منقول فقط کوئی روایت کی جائے
التجا اب نہ گزارش نہیں عرض و معروض
اس کی محفل ہی نہیں شہر سے ہجرت کی جائے
اس کے قدموں تلے رکھ دی ہے خدا نے جنّت
اس کے چہرے کی شب و روز تلاوت کی جائے
سر اٹھائے تو کٹانے کا تہیّہ بھی کرے
بعد پھر اس کے کسی شہ سے بغاوت کی جائے
حاکمِ وقت کیا جائے اسے شہر بدر
قابلِ زیست مرے شہر کی صورت کی جائے
بس کہ دل داری کا رکھ لیجیے عازمؔ جی بھرم
کب یہ کہتا ہوں کرم حدِ نہایت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: مشاعرے کو آگے بڑھاتے ہوئے بیجاپور کرناٹکہ سے تعلق رکھنے والے معروف و بزرگ شاعر جناب اقبال آصف صاحب کو دعوتِ کلام دیتا ہوں کہ وہ اپنے کلام سے مشاعرے کو آگے بڑھائیں ۔ جناب اقبال آصف

اقبال آصف

یہ کیا زندگی ہے، یہ کیسی گھڑی ہے
کہ ہر پل یہ سانسوں میں الجھی پڑی ہے
عجب خامشی سے کرن روشنی کی
مرے در پہ کیا جانے، کب سے کھڑی ہے
بہت صاف، سادہ ہے پوشاک میری
یہ لعل وجواہر نہ زر سے جڑی ہے
نہ ہو پائی پوری کسی سے ابھی تک
’’ہمیشہ سے دنیا ادھوری پڑی ہے‘‘
بھلاؤں تو کیسے، بھلاؤں میں آخر
تری بات سینے میں ایسی گڑی ہے
بغیر از مرے خوں، مہکتی نہ ہرگز
یہ پھولوں کی رنگین سی جو مڑی ہے
ہوا میں کبوتر نہ پانی میں مچھلی
فضا اب کے ساری کی ساری سڑی ہے
مجھے بخش، جینے دے اے شاعری اب
مری جان لینے پہ کیوں تو اڑی ہے
سنبھل، احتیاطاً زباں کھول اپنی
کہ آصفؔ نہایت یہ نازک گھڑی ہے

ناظمِ مشاعرہ: اور اب ہم مشاعرہ کے مقطع کے قریب پہنچ رہے ہیں ایسے میں میں بہت ہی احترام کے ساتھ دیارِ میر کے روحِ رواں اور ایڈمن پچیس کامیاب آن لائن مشاعرے کے منتظم مغربی بنگال کے صفِ اول کے غزل گو اور اردو کے معروف و مشہور اور مسند شاعر ماہرِ عروض عالیجناب احمد کمال حشمی صاحب کو دعوتِ کلام دے رہا ہوں کہ اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرے کو عروج بخشیں ۔ عالیجناب احمد کمال حشمی

احمد کمال حشمی

یہ حماقت ہی سہی، پر یہ حماقت کی جائے
بیوفا ہے بھی تو کیا، اس سے محبت کی جائے
دل کے جذبات پہ قابو میں نہیں رکھ سکتا
ناپ کر،تول کے مجھ سے نہ محبت کی جائے
جس کو پڑھنا ہو پڑھے گا وہ ذرا فرصت سے
کم کتابِ غمِ دل کی نہ ضخامت کی جائے
اس نے دل توڑا تو ناکام یہ کوشش ہے مری
اس کھلونے کی کسی طرح مرمت کی جائے
دل کسی طور بھی راضی نہیں ہوتا اس پر
بھولنے کی اسے کچھ اور ہی حکمت کی جائے
زندگی اتنی معمر ہے کہ جی چاہتا ہے
کبھی بچوں کی طرح اس سے شرارت کی جائے
کوئی ناکردہ گناہی کی سزا ہے تو ملے
اب کسی طرح کی مجھ سے نہ رعایت کی جائے
سحرِ صوت اور صدا سے کبھی نکلیں باہر
خامشی میری کسی روز سماعت کی جائے
عقل راضی ہے مگر دل نہیں راضی ہے کماؔل
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘

ناظمِ مشاعرہ: اور اب میں جس شاعر کو بڑے عزت و احترام کے ساتھ آپ کے روبرو کر رہا ہوں جن کی شاعری اور غزل گوئی کا پوری اردو دنیا معترف ہے اور لوہا مانتی ہے، جن کے اندر بے پناہ تخلیقی قوت ہے، اپنے منفرد لہجہ و اسلوب سے جانے جاتے ہیں، مابعد جدیدیت کے اہم شاعر کے طور پر پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں مگر نام و نمود سے کوسوں دور انہماک سے تخلیقِ ادب میں مشغول ہیں قلندرانہ صفات کے حامل وہ شاعر کوئی اور نہیں بلکہ خود صدرِ مشاعرہ عالی جناب خورشید طلب صاحب ہیں ۔ میری ان سے التجا ہے کہ اپنی بے مثال شاعری سے آج کے مشاعرے کو مزید کامیابی سے ہمکنار کریں۔ عالی جناب خورشید طلب صاحب۔

خورشید طلب

پیدا توصیفِ رخِ یار میں جدّت کی جائے
آفریں آنکھیں کہیں، ہونٹوں سے حیرت کی جائے
کم کسی طور غمِ ہجر کی شدت کی جائے
مل نہیں سکتے تو تصویر عنایت کی جائے
پہلے شیخو کی طرح سچی محبت کی جائے
اور تب اکبرِ اعظم سے بغاوت کی جائے
جس کی تعبیر تصّور میں بھی ناممکن ہو
کیوں بھلا ایسے کسی خواب کی حسرت کی جائے
سارے دیوانے اکٹھے ہوں کریں فیصلہ اب
اس خرابے میں رہا جائے کہ ہجرت کی جائے
اتنا گہرا بھی نہیں اس سے تعلق میرا
دل سے ناراض ہوا جائے شکایت کی جائے
تیرے الفاظ جگاتے نہیں جادو مرے دوست
اس تعلق سے ابھی اور ریاضت کی جائے
شہر کو اس نے بیاباں سے ملا رکھّا ہے
آؤ دیوانو اسی بات پہ وحشت کی جائے
مورچہ کھولے ہوئے ہیں جو اندھیروں کے خلاف
ان چراغوں کی ہواؤں سے حفاظت کی جائے
کیا پتہ کون سی نیکی کہاں آجائے کام
چل کسی مرتے ہوئے پیڑ کی خدمت کی جائے
میرے کانوں کو تو سرگوشی کی عادت ہے جناب
کس طرح شور سے سیراب طبیعت کی جائے
اس تذبذب نے کہیں کا نہیں رکھا ہم کو
’’ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے‘‘
کام اور وقت کا رشتہ بڑا نازک ہے میاں
سو کسی کام میں تاخیر نہ عجلت کی جائے
مل گیا ہو جو لطیفوں سے قصیدوں سے فراغ
حاکمِ شہر مری چیخ سماعت کی جائے
گھر اگر واقعی گھر چاہیے خورشیدؔ طلب
بام ودر کی نہیں رشتوں کی مرمت کی جائے

ناظمِ مشاعرہ: احباب کچھ دیر رکیں۔ صدرِ مشاعرہ صدارتی خطبہ پیش کریں گے۔

خورشید طلب (صدرِ مشاعرہ): کسی بھی مشاعرہ کی صدارت خواہ وہ آن لائن ہو یا پھر آف لائن کسی بھی شاعر کے لیے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی تاّمل نہیں کہ میں اس اعزاز کا کسی بھی اعتبار سے مستحق نہیں۔ یہ صرف احمد کمال حشمی صاحب کی محبت اور خلوص ہی ہے جو مجھے بار بار مسند صدارت پر بٹھا دیتے ہیں، اور انکی محبت کے آگے مجھے سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔

وہاٹس ایپ اور فیس بک پر بے شمار سو کالڈ ادبی گروپس اس وقت فعال ہیں اور اپنی اپنی سطح پر زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کا کام کر رہے ہیں مگر زیادہ تر گروپ میں سنجیدگی کا فقدان ہے،

اور ادب کے نام پر رطب و یابس کا انبار لگایا جارہا ہے۔

غیر معتبر اور مبتدی شعراء کو، جنہیں عروض کی عین سے بھی واقفیت نہیں، انہیں اساتذہ کا درجہ دیا جارہا ہے اور ایک نسل کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ اگر انہیں کوئی روکتا ٹوکتا ہے انکی قلعی کھولتا ہے تو ان کے حواری اسے باہر کا راستہ دکھادیتے ہیں۔

مگر میری نگاہ میں دیار میر اس وقت ایک ایسا ادبی گروپ ہے جہاں اہل علم اور اہل دانش کا ایک بہت بڑا حلقہ موجود ہے، جہاں نہ صرف یہ کہ گروپ کے ممبران اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں بلکہ ان تخلیقات پر تجزیاتی تبصرے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ کبھی زبان، کبھی عروضی مسائل فن کی باریکیوں کے تعلق سے مذاکرے قائم کیے جاتے ہیں، جہاں چھوٹوں کو شفقت ملتی ہے تو بڑوں کو احترام، کسی کی اصلاح بھی اس طرح کی جاتی ہے اس میں اس قلم کار کی تحقیر کا دور دور تک شائبہ تک نہیں ہوتا۔

ایسے ایسے کلام یہاں پیش کیے جاتے ہیں کہ ان کے مطالعے سے گزرنے کے بعد مجھے اپنا کلام پیش کرنے کے لیے ہمت جٹانی پڑتی ہے۔

کسی بھی گروپ کا معیار قائم رکھنے کے لیے اس گروپ کے ایڈمن کی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہےاور اس معاملے میں گروپ ایڈمن احمد کمال حشمی صاحب بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے ہر مکتب فکر کے قلم کاروں کو گروپ میں شامل کیا اور ایک ڈسپلن بحال رکھا ہے۔

آج کے مشاعرے کی کامیابی کے لیے تمام شرکاء جنہوں نے کل اور آج اپنے کلام پیش کیے دیگر احباب جو مشاعرے میں کلام کے ساتھ تو شریک نہیں ہوئے مگر ایک قاری کی

حیثیت سے اخیرتک ہمہ تن گوش رہے، سب کی غزلیں پڑھیں انہیں دادو تحسین سے نوازتے رہے،

اس مشاعرے کے ناظم برادرم جہانگیر نایاب جنہوں نے پہلے کی طرح نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام تک پہنچایا اور اخیر میں اس گروپ کے روح رواں ایڈمن احمد کمال حشمی صاحب کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

بہت شکریہ۔ محبت کے لیے بھی، اور صدارت کے لیے بھی۔

شب بخیر۔ اللہ حافظ۔
(اور اسی کے ساتھ مشاعرہ اختتام پذیر ہوا ۔)

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. واہ !
    کمال کی روداد ہے _
    بہت بہت شکریہ اور بہت بہت مبارکباد !

متعلقہ

Back to top button
Close