غزل

آئینہ زندگی میں ہر عکس ہے جدا جدا

نزہت قاسمی

آئینہ زندگی میں ہر عکس ہے جدا جدا
کوئی بہت اداس تو کوئی ہے کھلا کھلا
۔
منزلیں نظر میں چاہت کی ہے عیاں عیاں

مشقتیں بھی جانب راہ ملتی ہے نہاں نہاں
۔
ناتواں اگر رنگین راہوں  میں ہے بہکا بہکا
حق پرست مشکلوں میں بھی ہےمہکا مہکا
۔
جنگل خواہشوں کا دنیا میں ہے بسا بسا
فنا کے سوا اور کچھ نہیں ہے  ذرہ ذرہ
۔
سرابی چمک سے ہر دم وہ ہے  بچا بچا
جس نظر میں یہ سراب ہے قطرہ قطرہ
۔
ہر طرز مومن کا  یہ کرتا ہے بیاں بیاں
خدمتِ خلق اورخالق کی چاہیےرضارضا
۔
نزہت اگر جو عمل کرے  ہے کھرا کھرا
کامیابی کاوہی اصل پائے ہے مزا مزا

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close