غزل

آئینہ پوری طرح صاف کرو

عبدالکریم شاد

آئینہ پوری طرح صاف کرو

خامیوں کا بھی اعتراف کرو

ایک دنیا کا انکشاف کرو

اپنے دل کا کبھی طواف کرو

جیسے عادت میں ہو گیا شامل

ہر مقابل سے اختلاف کرو

جن کو مفلس نبھا نہیں سکتا

ایسی رسموں سے انحراف کرو

یہ ہے پہلا سبق سیاست کا

"جو کہو اس کے بر خلاف کرو”

مسکرانے سے چھت گرے نہ گرے

غم کی دیوار میں شگاف کرو

ہائے دل توڑ کر وہ کہتے ہیں

جو ہوا سو ہوا معاف کرو

سیکھ لو واو فا الف کرنا

شاد! پھر عین شین قاف کرو

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close