غزل

آئینہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے

پارسا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

عبدالکریم شاد

آئینہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے

پارسا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

ان سے ملنے سے پہلے تھے اچھے بھلے

ہم یہ کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

جانے کیسے نگاہوں کی دستک ہوئی

قلب وا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

ایک دو بار ہی کی ملاقات میں

ہم نوا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

سانحے جن کی آنکھوں سے گزرے نہ تھے

سانحہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے

جب چراغوں نے دیکھا ہواؤں کا رخ

سب ہوا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

وہ جو سائے کی صورت بیاباں میں تھے

آبلہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے

جھاگ کی طرح کتنے ابھرتے رہے

سب فنا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

مسئلے حل کریں گے یہ تھا حوصلہ

مسئلہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے

راستے سے جو بھٹکے ہوئے تھے وہی

رہ نما ہو گئے دیکھتے دیکھتے

خوب سے خوب تر تھا سنورنا جنہیں

برہنہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے

ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے شاد! ہم

ناخدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close