غزل

آفت جب بھی ہم پر آتی ہے

محمد توحید الوانکانیری

 آفت جب بھی ہم پر آتی ہے

جھوم کر  وہ خوشیاں مناتی ہے

۔

اس نے تو بنا لیا غیر کو اپنا یار

ہم با وفا کو بے وفائی ستاتی ہے

۔

گلیوں مے میری جب وہ آتی جاتی ہے

قلب و جگر مے وہی چھاجاتی ہے

۔

پیار کا ہمارے اتنا بھی پاس نہ کیا

ہوکے مخالف نظریں جھکا لیتی ہے

۔

راہوں مے جب بھی وہ ٹکراتی ہے

نا ہنستی ہے نا ہی آنکھ ملاتی ہے

۔

خوں سے جس دل پے لکھا تھا ہم نام

اس نام کو وہ بے رحمی سیلے مٹاتی ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close