غزل

آنکھوں میں کیوں ہے یوں چمک شاید اُنھیں خبر نہیں

کیسی  تھی اُن کی اک جھلک شاید اُنھیں خبر نہیں

افتخار راغبؔ

 آنکھوں میں کیوں ہے یوں چمک شاید اُنھیں خبر نہیں

کیسی  تھی اُن کی اک جھلک شاید اُنھیں خبر نہیں

کیوں کھِل اُٹھی ہے زندگی، کب سے ہے یہ شگفتگی

کیوں روح تک گئی مہک شاید اُنھیں خبر نہیں

حیراں ہیں وہ کہ کیا ہوا، اب زخم کیوں ہیں بے مزہ

کیا کام کر گیا نمک شاید اُنھیں خبر نہیں

ہونٹوں پہ مسکراہٹیں، سینے میں اُن کی آہٹیں

اٹھتی ہے دل میں جو  کسک شاید اُنھیں خبر نہیں

کتنے درختِ دوستی زینت ہیں باغِ زیست کی

کس کی جڑیں ہیں روح تک شاید اُنھیں خبر نہیں

اب ہو سکوں کہ اضطراب آنکھوں میں اشک ہو کہ خواب

دونوں طرف ہیں مشترک شاید اُنھیں خبر نہیں

لہجے میں ایک سی دمک، ملتے ہیں سب سے بے دھڑک

راغبؔ ہی سے ہے کیوں جھجک شاید اُنھیں خبر نہیں

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Close