غزل

آنے والا کل کا تصور دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے

راجیش ریڈی

آنے والا کل کا تصور دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے
صبح کا آنا اب راتوں کی نیند اڑا کر رکھ دیتا ہے
ملنے کو سب سے ملتا ہے لیکن، وہ ملنے سے پہلے
اپنے دل کی الماری میں خود کو چھپا کر رکھ دیتا ہے
کبھی کبھی تو عکس مرا ہی گونگا کر جاتا ہے مجھ کو
کبھی کبھی تو آئینہ تصویر بنا کر رکھ دیتا ہے
موت کے ہاتھوں مرنے والے مرتے ہی گم ہو جاتے ہیں
وہ زندہ رہتے ہیں جن کو عشق مٹا کر رکھ دیتا ہے
اب اس دل کی نادانی کا کوئی کہاں تک رونا روئے
خوشیوں کے بازار میں اپنے غم کو سجا کر رکھ دیتا ہے
ہم نے تو آنسو بھی پئے ہیں قطرہ قطرہ سوچ سمجھ کر
کل کے لیے تھوڑی سی جیسے رند بچا کر رکھ دیتا ہے
ہم نے اپنی خوشیوں کو کچھ ایسے چھپایا ہے دنیا سے
جیسے بچہ پیسوں کو مٹی میں چھپا کر رکھ دیتا ہے
روز سمیٹا کرتے ہیں ہم، روز بکھر جاتی ہیں چیزیں
یہ ناداں دل روز ہمارا کام بڑھا کر رکھ دیتا ہے
کبھی کبھی کچھ اور ہی بننے کی خواہش کرتی ہے مٹی
لیکن کوزہ گر اس کو کچھ اور بنا کر رکھ دیتا ہے
جب امید کی ایک کرن بھی نظر نہیں آتی اس دل کو
کوئی تو ہے جو اندھیارے میں دیپ جلا کر رکھ دیتا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close