غزل

اب چھوڑ بھی دے تلخیِ حالات کا رونا

جب اُس کی حمایت ہے تو کس بات کا رونا

افتخار راغبؔ

اب چھوڑ بھی دے تلخیِ حالات کا رونا

جب اُس کی حمایت ہے تو کس بات کا رونا

اب بھی ہے وہی تیرے تغافل کی کہانی

اب بھی ہے وہی شدّتِ جذبات کا رونا

 ڈر ہے کہ بکھر جائے نہ آنکھوں میں سفیدی

اچھا نہیں اتنا بھی روایات کا رونا

 دیکھو بھی کہ ہے کون مرے مدِ مقابل

کیا جشن کسی فتح کا، کیا مات کا رونا

یعنی ہے وہی دل وہی دلبر وہی عادت

یعنی ہے سلامت وہی دن رات کا رونا

ہو جائے جو راضی وہ کسی طرح بھی مجھ سے

ماضی کا کوئی غم ہو نہ خدشات کا رونا

ہوگی کبھی تخفیف محبت میں نہ راغبؔ

ہوگا نہ کبھی ختم شکایات کا رونا

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

متعلقہ

Close