غزل

اب کرو کوششیں دنیا کو جگانے کے لیے  

عمران عالم

اب کرو کوششیں دنیا کو جگانے کے لیے

تھک چکیں آنکھیں نئے خواب دکھانے کے لیے

۔

دخترِ یاس کی آنکھوں میں نظر آئے گا

"اشک پینے کے لیے ہیں کہ بہانے کے لیے "

۔

کتنی راہوں سے میں کترا کے گزر جاتا ہوں

خوب لگتی ہیں جو محفل کو لبھانے کے لیے

۔

اب انھیں کون سا تمغہ دوں محبت کے سوا

سرپھرے لوگ ہیں چنتے ہیں نشانے کے لیے

۔

اور بھی چاہیے عالم کو نوازش اس کی؟

روٹھنے والے بھی آتے ہیں منانے کے لیے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close