غزل

اتنی رنجش اتنا کینہ

ہم نے دیکھا سب کا سینہ

عبدالکریم شاد

غم کھانا اور آنسو پینا

ہم نے سیکھ لیا ہے جینا

ہم نے دیکھا سب کا سینہ

"اتنی رنجش اتنا کینہ”

بات شرافت کی کرتا ہے

ایک سے بڑھ کر ایک کمینا

دیکھ کے میری چشم بے خوف

آتا ہے قاتل کو پسینہ

عشق کی منزل سہل نہیں ہے

کوہ گراں ہے زینہ زینہ

کوئی یونس آ بیٹھا ہے

لرزاں ہے جو دل کا سفینہ

آئینہ ثابت کرتا ہے

کون ہے اندھا کون ہے بینا

مجھ پر کس کا حق تھا ایسا

مجھ کو مجھ سے کس نے چھینا

شغل یہی ہے دیوانوں کا

اپنا گریباں پھاڑ کے سینا

دائیں ہاتھ میں پکڑی تسبیح

تھاما بائیں ہاتھ سے مینا

شاد! شریفوں کی عادت ہے

دھوکے کھانا غصہ پینا

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close