غزل

احسانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

نادانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

سحر محمود

احسانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

نادانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

 دفن ہیں کتنے ارماں میرے  سینے میں

ارمانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

بیگانے بھی سب اپنے بن جاتے ہیں

بیگانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

ناداں ہیں وہ لوگ جو ایسا سوچتے ہیں

مہمانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

انساں کو حیوانوں کا، اور حیواں کو

انسانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

مشکل وقت میں جو شانے کام آتے ہیں

ان شانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

جو بھی ہیں ماتحت کسی کے ان کو سحر

فرمانوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close