غزل

اس دل کی باتوں میں آ کر افسوس یہ ہم کیا کر بیٹھے

جو چیز نہ ملنے والی تھی ہم اس کی تمنا کر بیٹھے

اختر مسلمی

اس دل کی باتوں میں آ کر افسوس یہ ہم کیا کر بیٹھے

جو چیز نہ ملنے والی تھی ہم اس کی تمنا کر بیٹھے

معلوم تھا پہلے ہی سے ہمیں پھر بھی یہ تمنا کر بیٹھے

تھی جس سے نہ کچھ امیدِ وفا ہم اس پہ بھروسا کر بیٹھے

کہتے ہیں جسے جذبِ دل کی تاثیر اسی کا نام ہے کیا

نفرت تھی جنھیں اب مجھ سے وہ خود ملنے کی تمنا کر بیٹھے

وہ روٹھے ہوئے تھے جب ہم سے ہم روٹھ گئے تھے دنیا سے

پاتے ہی انھیں کیا جانیے کیوں پھر خواہشِ دنیا کر بیٹھے

ہے ذوقِ طلب دل میں جو ترے کچھ اس کو بلند اتنا کردے

تو جس کی تمنا کرتا ہے وہ تیری تمنا کر بیٹھے

کس طرح کی باتیں کرتے ہو، کیا تم بھی ہوئے ہو دیوانے

خود بات بگاڑی اور اخترؔ تقدیر کا شکوا کر بیٹھے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close