غزل

اس سے تسلیم بس یونہی سی ہے

عرفان وحید

اس سے تسلیم بس یونہی سی ہے

برف احساس کی جمی سی ہے

چلیے، احباب کو تو جان گئے

یہ مصیبت تو عارضی سی ہے

کچھ تو چارہ گری کرے کوئی

آج کچھ درد میں کمی سی ہے

آج چپکے سے کس کی یاد آئی

دل کے آنگن میں چاندنی سی ہے

کس نے ترک وفا کیا پہلے؟

یہ شکایت بھی باہمی سی ہے

حسرتو، اب تو ہو چلو خاموش

نبض بیمار کی تھمی سی ہے

عمر گزری جسے بیاں کرتے

وہ کتھا اب بھی ان کہی سی ہے

مزید دکھائیں

عرفان وحید

عرفان وحید کا تعلق پنجاب کے شہر مالیر کوٹلہ سے ہے۔ آپ پیشے سے انجینیر ہیں۔ عرفان نے اردو اور انگریزی میں قریباً ۲۰ کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ آپ انگریزی ماہنامے 'دی کمپینیئن' اور انگریزی پورٹل 'ہیڈلائنز انڈیا' کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close