غزل

اس نے کبھی جی بھر کے یوں دیکھا بھی نہیں ہے

دعوے میں محبت کے وہ جھوٹا بھی نہیں ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

 اس نے کبھی جی بھر کے یوں دیکھا بھی نہیں ہے
دعوے میں محبت کے وہ جھوٹا بھی نہیں ہے

دل یاد محمد سے سنوارا بھی نہیں ہے
بن اس کے زمانے میں گزارا بھی نہیں ہے

مظلوم کی جو میں نے حمایت کی ہے اب تک
پایا نہیں کچھ اس میں تو کھویا بھی نہیں ہے

ماں باپ کی خدمت کبھی جو کرتے نہیں ہیں
عقبٰی ہی نہیں، ان کی تو دنیا بھی نہیں ہے

خاموشی سے اس دل کی مجھے لگتا ہے اب ڈر
روتا بھی نہیں جو کبھی ہنستا بھی نہیں ہے

وعدوں کے پرا کرنے کی کیا بات کرو ہو
جو پہلے تھا اب یارو وہ لہجہ بھی نہیں ہے

کرنا ہے تجھے ظلم تو یہ بات  بھی سن لے
جو ظلم نہیں کرتا وہ سہتا  بھی نہیں ہے

کیوں کر ہو بھروسہ مجھے حاکم کی زباں پر
کیا میرا بنے گا وہ جو اپنا بھی نہیں ہے

طوفانوں کے سینے کو بھی جو چیر دے ہادؔی
نظروں میں مری ایسا سفینہ بھی نہیں ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close