غزل

اس کی نصرت پہ بھروسہ کیجئے

غیر کو ڈر کر نہ دیکھا کیجئے

جمالؔ کاکوی

اس کی نصرت پہ بھروسہ کیجئے

غیر کو ڈر کر نہ دیکھا کیجئے

چلنے والوں کے لئے سو راستے

بڑھتے قدموں کو نہ روکا کیجئے

جس جگہ انسانیت مفقود ہو

ایسی مجلس سے کنارا کیجئے

دشمنوں سے جنگ کے میدان میں

جنگ کی حالت میں دھوکا کیجئے

آنچ نہ آئے کسی مظلوم پر

بھاگنے والوں سے بھاگا کیجئے

آخری دم تک بندھی امید ہے

موت سے پہلے نہ ہارا کیجئے

زندگی جیسی جہنم ہو میاں

آپ جنت کی تمنا کیجئے

اے جمالؔ جنگ کے میدان میں

سر جھکا کر ، سر اٹھا یاکیجئے

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close