غزل

اللہ رہزنوں میں وہ رہبر اتار دے

احمد علی برقیؔ اعظمی

اللہ رہزنوں میں وہ رہبر اتار دے

سر پر ترے سوار ہے جو، ڈر اتار دے

آنکھوں میں مثلِ خار کھٹکتا ہے جس کی تو

ایسا نہ ہو وہ سینے میں خنجر اتار دے

پرواز کر سنبھل کے ذرا مُرغ خوش نوا

صیاد وقت تیرا نہ شہپر اتار دے

اپنا سمجھ رہا ہے جسے سرپرست تو

وہ زر پرست تیرا نہ یہ سر اتار دے

ہو خوشگوار تیرے لئے آنے والا سال

’’دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے‘‘

امن و اماں کی خیر منا اپنے ملک میں

جنگ آزما نہ نہ پھر کوئی لشکر اتار دے

برقیؔ نہ جانے پھر کوئی بے درد باغباں

شاخِ شجر سے اپنا گُلِ تَر اتار دے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Back to top button
Close