امام  خمینی کی فارسی غزل کا منظوم اردو ترجمہ

0

احمد علی برقی اعظمی

راز کا اپنے میں اک راز گشا چاہتا ہوں

مجھ کو جو درد ہے میں اس کی دوا چاہتا ہوں

طور دیکھا نہیں خواہش بھی نہیں ہے اس کی

دل میں جو طور ہے اس میں تری جا چاہتا ہوں

ہو سکا صوفی صافی نہ اگر در رہِ عشق

اپنے میں پیرِ طریقت سے صفا چاہتا ہوں

دوست نے مجھ سے وفا کا نہ کیا گرچہ سلوک

وہ ستمگر ہے اگر اس سے جفا چاہتا ہوں

دلبرِ حسن ہٹا دے رخِ زیبا سے نقاب

ظلمتِ شب میں ، میں اک راہنما چاہتا ہوں

خود میں کھویا ہے جو آجائے وہ خود سے باہر

عشق میں خود کو میں اب خود سے رہا چہاتا ہوں

مجھ سے پوشیدہ ہے تو جان میں رہ کر میری

دل میں میں اپنے تجھے جلوہ نما چاہتا ہوں

دفترِ عشق کو اب بند بھی کردے درویش

غرق ہوں اس لئے اک عقدہ کشا چاہتا ہوں

فارسی غزل حضرت امام خمینی

رازی است مرا، رازگشایی خواهم

دردی است به جانم و دوایی خواهم

گر طور ندیدم و نخواهم دیدن

در طورِ دل از تو جای پایی خواهم

گر صوفی صافی نشدم در ره عشق

از همت پیر ره صفایی خواهم

گر دوست وفایی نکند بر درویش

با جان و دلم از او جفایی خواهم

بردار حجاب از رخ، ای دلبر حُسن

در ظلمت شب راهنمایی خواهم

از خویش برون شو ای فرو رفته به خود

من عاشقِ از خویش رهایی خواهم

در جان منیّ و می نیابم رخ تو

در کنزِ عیان، کنزِ خفایی خواهم

این دفتر عشق را ببند ای درویش

من غرقم و دست ناخدایی خواهم

تبصرے