غزل

امن کا خواہاں ہوں میں، نفرت ہے مجھ کو جنگ سے

تجھ کو ملنا ہو اگر مجھ سے مِلا کر ڈھنگ سے

احمد علی برقی اعظمی

امن کا خواہاں ہوں میں نفرت ہے مجھ کو جنگ سے

تجھ کو ملنا ہو اگر مجھ سے مِلا کر ڈھنگ سے

دشمنی منہگی پڑے گی شرپسندوں سے تجھے

تیرا گھر شیشے کا ہو تو بچ کے رہنا سنگ سے

مِٹ نہ جائے تیرا یہ قومی تشخص ہوشیار

اپنا دل بہلائے گا کب تک رباب و چنگ سے

درمیاں ہے آج شرق و غرب کے جو کشمکش

دور کردے گی تجھے اپنے ترے فرہنگ سے

اپنے پروردہ سے کرنا ہے دغا جن کا شعار

خاتمہ کردیں نہ تیرا فطرتِ خرچَنگ سے

تجھ کو چلنا ہی پڑے گا ساتھ اپنے وقت کے

کچھ نہ ہوگا تجھ کو حاصل تیرے عُذرِ لَنگ سے

کررہی ہے اشکباری چشمِ نَم کچھ اس طرح

’’ قطرہ قطرہ ہو کے جیسے خون ٹپکے سنگ سے ‘‘

حُسنِ نیت سے مسخر کر دلِ نوعِ بشر

تیغِ ایماں رکھ سلامت نفرتوں کے زنگ سے

مان لے اب بھی یہ برقی اعظمی کا مشورہ

دور رہنا باہمی تفریقِ نسل و رنگ سے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close