غزل

امیروں میں ریاکاری بہت ہے

غریبوں میں وفاداری بہت ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

امیروں میں ریاکاری بہت ہے
غریبوں میں وفاداری بہت ہے

پڑھے لکھے کہے جاتے ہیں جو لوگ
انہیں میں آج بے کاری بہت ہے

یہ تخت و تاج تم کو ہو مبارک
دلوں پر ہم کو سرداری بہت ہے

امیرِ شہر کے ہر اک عمل میں
حقیقت کم, اداکاری بہت ہے

ہمیں اس طرح اچھے دن ملے ہیں
کہ اب پہلے سے ناداری بہت ہے

نگاہوں سے فقط گھایل کیا ہے
مگر وہ چوٹ بھی کاری بہت ہے

جبیں سائی نہیں کرتے ہیں ہر جا
"فقیری میں بھی خود داری بہت ہے”

بہا کر خون کہتا ہے وہ ہادؔی
کہ تم سے مجھ کو غم خواری بہت ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close