غزل

امیرِ شہر کا پیشہ بہت پرانا ہے

ابھی جو دیتے ہیں نعرہ بہت پرانا ہے

مجاہد ہادؔی ایلولوی

 امیرِ شہر کا پیشہ بہت پرانا ہے
ابھی جو دیتے ہیں نعرہ بہت پرانا ہے

ہمارے کانوں کو کچھ اور سننا ہے تم سے
کہ اچھے دن کا یہ وعدہ بہت پرانا ہے

کیا ایک دوجے پہ مرنے کا, جان دینے کی
کہ پیار کا یہ طریقہ بہت پرانا ہے

کہوں تو کیسے کہوں بے وفا سے میں یہ بات
کہ دل سے دل کا یہ رشتہ بہت پرانا ہے

وہ راہِ عشق میں یوں کہکے تنہا چھوڑ گئے
تمہارے جسم پہ کُرتہ بہت پرانا ہے

ہمیشہ ساتھ میں ہوتے ہیں اس سے ظاہر ہے
"قلم کا حرف سے رشتہ بہت پرانا ہے”

تلاش میں ہیں یہ آنکھیں نئے مناظر کی
ہے آنکھ میں جو نظارہ بہت پرانا ہے

میں کیا سناؤں تمہیں داستاں وہ جنت کی
مرے وجود کا قصہ بہت پرانا ہے

بنالو تم بھی کہیں اک نیا مکاں ہادؔی
یہ شہرِ یار کا کوچہ بہت پرانا ہے

مزید دکھائیں

مجاہد ہادؔی ایلولوی

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پزیر شعر و سخن کا نیا ابھرتا ستارہ جناب مجاہد ہادؔی ایلولوی صاحب کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات سے ہیں, آپ پیشے سے عالمِ دین ہیں آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ایلول میں حاصل کی اس کے بعد مزید عربی اردو اور فارسی کی تعلیم کے حصول کے لئے اپنے علاقہ کا معروف ادارہ ( جامعہ اسلامیہ امداد العلوم وڈالی) کا رخ کیا اور وہی سے 2016 میں سند فضیلت حاصل کی اور اس کے بعد سے اب تک احمدآباد کے قریب شہر بوٹاد میں مقیم ہیں آپ کا تعلیق گجرات کے ضلع سابرکانٹھا کے ایک علمی خاندان سے ہیں آپ کے والد محترم کا اسمِ گرامی عمر ابن محمد پشوا ہیں وہ بھی پیشے سے عالمِ دین ہیں, آپ افق شعر و سخن کا ایک چمکتا ستارہ ہیں اور نئی نسل کے فعال ترین شعراء میں سے ایک ہیں

متعلقہ

Close