غزل

انا کی قید سے نکلوں، وفا کو عام کروں 

گلے وہ بڑھ کے لگائیں تو احترام کروں 

جمیل اخترشفیق

انا کی قید سے نکلوں، وفا کو عام کروں

گلے وہ بڑھ کے لگائیں تو احترام کروں

میں جان بوجھ کےاُس شخص سےنہیں ملتا

وہ چاہتا ہے کہ میں ہی اُسے سلام کروں

سنا ہے آپ بڑے اِس کے، اُس کے عادی ہیں

حضور حکم اگر ہو تو انتظام کروں؟

بچھی ہوئی ہیں نگاہیں طواف کرنے کو

تمہارے واسطے کیا کیا میں اہتمام کروں؟

ضرور اس میں کوئی راز ہوگا پوشدہ

وہ چاہتا ہے کہانی کا اختتام کروں

مجھے ہے اُن سے محبت تو اس کا کیا مطلب؟

وہ جیساچاہتے ہیں میں بھی ویسا کام کروں؟

غرور اتنا ہے اُس میں کہ کہہ رہا ہے شفیق

نظر جھکا کے تُو رکھنا اگر کلام کروں

مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

متعلقہ

Close