غزل

اندھیروں سے الجھنے کی کوئی تدبیر کرنا ہے

ذو الفقار نقوی

اندھیروں سے الجھنے کی کوئی تدبیر کرنا ہے

کوئی روزن کسی دیوار میں تسخیر کرنا ہے

۔

ذرا دیکھوں تو دم کتنا ہے اس باد مخالف میں

سر دشت بلا اک گھر نیا تعمیر کرنا ہے

۔

نکل آیا ہے جو بیداد راہوں پر دل بے خود

کوئی ناوک فگن آئے اسے نخچیر کرنا ہے

۔

سر دشت جنوں جو بے خودی کے پھول کھلتے ہیں

انہیں روشن دماغوں کے لئے اکسیر کرنا ہے

۔

مکان لا مکانی کا سفر میرا نہیں رکتا

تمہاری یاد کو اب پاؤں کی زنجیر کرنا ہے

مزید دکھائیں

ذوالفقار نقوی

ذوالفقارنقوی  دس جون 1965 کو ریاست جموں و کشمیر ، ضلع پونچھ کے گاؤں گورسائی میں پیدا ہوئے۔ ذوالفقارنقوی نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں حاصل کرنے کے بعد جموں یونیورسٹی سے گریجویشن کی، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم، اے کی ڈگری انگریزی ادب میں حاصل کی، کلکتہ سے بی۔ آئی ۔اے۔ایم۔ ایس کی ڈگری اور پھر جموں سے بی۔ ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔1995 تا 1999 آل انڈیا ریڈیو پونچھ سے منسلک رہے جہاں بطور اناؤنسر اپنی خدمات سراجام دے رہے تھے کہ محکمہ تعلیم میں بطورانگلش لیکچرار آپکی تقرری ہو گئی۔ انہیں انگریزی ادب میں شیکسپئر کے مطالعہ نے متاثر کیا۔ آپ نےانگریزی نظمیں لکھیں لیکن ارد گرد کے ماحول نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اور وہ صرف چند اداروں تک ہی محدود رہیں۔آپکو اردو ادب میراث میں ملا ہے اسکے ساتھ ساتھ گھر کا دینی ماحول اورعلماء حضرات سے مسلسل رابطے نے انہیں اردو ہی کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنانے پر مجبور کیا۔ ذوالفقارنقوی کو شاعری کا شوق بچپن سے ہی دامن گیر تھا۔ شاید 1990 میں پہلی مکمل غزل کہی۔ آپ نے نعت و سلام اور منقبت کہے نیز واقعہ کربلا کے حوالے سے جو قلمی واردات سر زد ہوتی رہیں انہیں ’’زاد سفر‘‘ کی صورت میں عباس بک ایجنسی لکھنئو نے 2011 میں شائع کیا ہے۔آپکی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’اجالوں کا سفر‘‘ اردو فاؤنڈیشن ممبئی نے 2012 میں شائع کیا ہے۔ آپکا کلام پاکستان اور ہندوستان کے متعدد ادبی جریدوں میں شائع ہوتا رہتا ہے۔

متعلقہ

Close