غزل

 آئے ہمیں نہ اشکوں کو نایاب دیکھنا

پامال یوں ہی کرتے ہیں، غربت یہی تو ہے

احمد نثار

میری کتابِ زیست کے ابواب دیکھنا

کتنے ہوئے ہیں چور مِرے خواب دیکھنا

پاگل، جنون، آگ، تماشہ، شکستِ دل

کیا کیا ملے ہیں عشق کو القاب دیکھنا

پوری کتاب چیخ کے کہتی ہے داستاں

دشوار ہوگیا تمہیں اک باب دیکھنا

اپنی خطائے الفتِ دل کے ثبوت پر

کیا کیا ستم اٹھاتے ہیں ارباب دیکھنا

پامال یوں ہی کرتے ہیں، غربت یہی تو ہے

آئے ہمیں نہ اشکوں کو نایاب دیکھنا

ہنستا ہوا وہ خوبرو چہرہ نگاہ میں

جیسے کسی گلاب میں مہتاب دیکھنا

خشک آنکھ میں نمی کی مثال ایسی ہے نثارؔ

جیسے سرابِ دشت میں ہے آب دیکھنا

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close