غزل

اپنی تاریخ نہیں خود سے مٹانے والا

احمد علی برقیؔ اعظمی

اپنی تاریخ نہیں خود سے مٹانے والا

میں نہیں عظمتِ رفتہ کو بھلانے والا

۔

گردشِ وقت سے رہتا نہیں ہرگز غافل

اپنے اسلاف کی قدروں کو بچانے والا

۔

میں ہوں وہ صید مرے اپنے تھے جس کے صیاد

دوسرا کوئی نہ تھا جال بچھانے والا

۔

نالۂ نیم شبی سے ہے مرے اب نالاں

مجھ پہ تیرِ نگہہِ ناز چلانے والا

۔

منتشر کردیا شیرازۂ ہستی جس نے

خانۂ دل تھا وہی میرا سجانے والا

۔

وعدۂ حشر سے کچھ کم نہیں اس کا وعدہ

منتظر جس کا ہوں آیا نہیں آنے والا

۔

زہر سے ہوگیا اک روز وہ اس کے ہی ہلاک

سانپ کو روز تھا جو دودھ پِلانے والا

۔

آج رقاصۂ دوراں یہ نچاتی ہے اسے

انگیوں پر تھا جو برقیؔ کو نچانے والا

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close