غزل

اپنی تقدیر سے آگے نہیں جاتا کوئی

رب کی تحریر سے آگے نہیں جاتا کوئی

جمیل ارشد خان

(کھام گانوی ناگپور)

اپنی تقدیر سے آگے نہیں جاتا کوئی

رب کی تحریر سے آگے نہیں جاتا کوئی

بڑھتا جاتا ہے یہاں دیکھنے والوں کا ہجوم

تیری تصویر سے آگے نہیں جاتا کوئی

پا بزنجیر اصولوں نے کیا ہے مجھ کو

اور زنجیر سے آگے نہیں جاتا کوئی

سب یہاں غازئ گفتار ہیں شاید کیونکہ

فنِّ تقریر سے آگے نہیں جاتا کوئی

نصرتِ رب سے ہی ممکن ہے ترقّی ورنہ

صرف تدبیر سے آگے نہیں جاتا کوئی

ہیں شناور تو کئ بحرِ سخن میں ارشد

غالب و میر سے آگے نہیں جاتا کوئی

مزید دکھائیں

5 تبصرے

  1. جمیل ارشد خان ۔۔۔۔علا قءیه برار کے ابھرتے هوءے شاعر هیں ۔بهت عمده کلام هے ۔پوری غزل میں روانی موجود هے صرف ایک مقام پر زبان ذرا سی اٹکتی هے ۔۔سب یهاں غازیء گفتار هیں شاید کیونکه۔میں جو شاید کیونکه هے یهاں ۔۔۔۔باقی اشعار میں رونی هی روانی هے ۔ان کی دیگر غزلیں بھی بهتریں هیں جو مختلف رساءیل میں شاءیع هوی هیں ۔۔

    1. بہت شکریہ جناب وصی براری صاحب۔ اس مصرع میں شاید کے بعد کومہ ہے ۔
      پسندیدگی کے لیے بہت بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close