غزل

اپنے بھی غیروں کے جیسے غیر بھی اپنے لگتے ہیں

افتخار راغبؔ

  اپنے بھی غیروں کے جیسے غیر بھی اپنے لگتے ہیں

تیرے دکھ کو قید کروں تو لفظ تڑپنے لگتے ہیں

 اچھے دن کے خواب نہیں یہ پھر بھی جانے کیوں اکثر

کنکر کے جیسے آنکھوں پر وصل کے سپنے لگے ہیں

 غیر شعوری طور پہ جانے یوں ہی کیا ہو جاتا ہے

گم صم ہو کر تیرے نام کی مالا جپنے لگتے ہیں

 آنکھوں میں بارش کا موسم دل میں بلا کی زرخیزی

آپ ہی تیرے درد کے پودے دل میں پنپنے لگتے ہیں

ممکن ہو تو ڈوب کے اک دن دیکھ مری آنکھوں میں تو
کتنے حسین مری آنکھوں میں تیرے سپنے لگتے ہیں

 رنجیدہ کیا ہونا راغبؔ کیا رکھنا رنجش اُن سے

تپنے دو جو ہم کو ہنستا دیکھ کے تپنے لگتے ہیں

مزید دکھائیں

افتخار راغب

تخلیقِ کارِ کلامِ دل پذیر، علمبردارِ توازنِ لفظ و معنی ، بدرِ آسمانِ شعر و سخنِ قطر اور افتخارِ بزمِ اردو قطر جناب افتخار راغبؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ پیشے سے سول انجنئیر ہیں اور 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد مارچ 1999 سے قطر میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ آپ کے چار شعری مجموعۂ کلام، ’لفظوں میں احساس‘ ، ’خیال چہرہ‘ ، ’غزل درخت‘ اور 'یعنی تو' منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ غزلوں کا پانچواں مجموعہ اور مزاحیہ شاعری کا پہلا مجموعہ زیرِ ترتیب ہیں۔ آپ کی شاعری کی اینڈرائڈ ایپ بھی بن چکی ہے جسے Google Play Store میں Iftekhar Raghib - Urdu Poetry لکھ کر تلاش کرکے انسٹال کیا جا سکتا ہے اس میں چاروں مجموعہ غزلیات دیدہ زیب انداز میں موجود ہیں. افتخار راغبؔ کا شمار قطر کے فعال ترین ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم بزمِ اردو قطر کے 2010 سے جنرل سکریٹری ہیں اور دیگر ادبی تنظیموں میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ آپ اپنے پختہ کلام کے حوالے سے پوری اردو دنیا میں نئی نسل کے شعراء میں منفرد شناخت رکھتے ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close