غزل

اگرچہ قد میں وہ اونچا بہت ہے

مقصود عالم رفعتؔ

اگرچہ قد میں وہ اونچا بہت ہے

مگر گردار کا چھوٹا بہت ہے

لہو انسان کا سستا بہت ہے

مگر پانی یہاں مہنگا بہت ہے

زمانے میں میاں رسوا بہت ہے

وہی جو آدمی سچا بہت ہے

اسی کو سروری ملتی ہے صاحب

یہاں جو آدمی جھوٹا بہت ہے

ٹھکانہ مل ہی جائیگا مجھے بھی

بڑی اے دوست یہ دنیا بہت ہے

تو جاؤ چند سانسیں تم خریدو

تمہارے پاس تو پیسہ بہت ہے

ہرا رہنے دو میرے زخم دل کو

مجھے یہ درد دل پیارا بہت ہے

سکون قلب ہے راہ وفا میں

مگر دشوار یہ رستہ بہت ہے

لگا ہے غم بھلانے میں یقینا

بظاہر یوں تو وہ ہنستا بہت ہے

ہے جاں سے پیارا استقلال رفعت

ہمارے واسطے تھوڑا بہت ہے

مزید دکھائیں

مقصود عالم رفعتؔ

مقصود عالم رفعت کا تعلق پنڈول، مدھوبنی، بہار سے ہے۔ آپ اردو سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اور ایک سرکاری اسکول میں مدرس ہیں۔ آپ نے شاعری کا آغاز 2014 سے کیا تھا اور پہلا شعری مجموعہ ’کربلائے زیست‘ زیر طباعت ہے۔

متعلقہ

Close