غزل

ایک اک نغمہ مرے دل کی صدا لگتا ہے

با وفا لگتا ہے نہ شخص برا لگتا ہے
جانے کیا بات ہے پر سب سے جدا لگتا ہے

تب سے پتھر بنے بیٹھا ہے صنم خانے کا
ہم نے اک بار کہا تھا تو خدا لگتا ہے

دیکھتا رہتا ہے چپ چاپ ستاروں کی طرف
جانے کیوں خود سے بھی وہ اتنا خفا لگتا ہے

پاسباں بن کے ہی لْوٹا ہے زمانہ اکثر
راہزن ہے کہ ہمیں راہنما لگتا ہے

حسرتِ دل کی جو سوچو تو ہنسی آئے گی
چھوٹی باتوں پہ نہ جاؤ کہ برا لگتا ہے

میری آغوش میں پلتے ہیں ہزاروں نغمے
ایک اک نغمہ مِرے دل کی صدا لگتا ہے

نشترِ غم ہے کہ مٹتا ہی نہیں دل سے نثارؔ
بھولنے جائیں تو اتنا ہی ہرا لگتا ہے

مزید دکھائیں

احمد نثار

نام سید نثار احمد، قلمی نام احمد نثار۔ جائے پیدائش شہر مدنپلی ضلع چتور آندھرا پردیش۔ درس و تدریس سے رضاکار موظف۔ اردو ادب، شاعری، تحقیق، ٹرائننگ اہم دلچسپیاں۔ انگریزی، ہندی تیلگو اور اردو زبانوں میں مہارت۔ کمیونکیشن اسکلز ایکسپرٹ۔ شعری مجموعہ روحِ کائنات، کہکشانِ عقیدت (نعتیہ مجموعہ) سکوتِ شام (زیرِ ترتیب)، تصنیف مواصلاتی مہارات برائے بی یو یم یس طلباء (Communication Skills for BUMS Students) ۔ ویکی پیڈین و ویکی میڈین۔ فی الحال رہائش پونے/ممبئی، مہاراشٹر۔

متعلقہ

Close