غزل

ایک زمین کئی شاعر: جگر مراد آبادی اور احمد علی برقی اعظمی

جگر مرادآبادی

اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
تو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گزرے

جو تیرے عارض و گیسو کے درمیاں گزرے
کبھی کبھی وہی لمحے بلائے جاں گزرے

مجھے یہ وہم رہا مدتوں کہ جرأت شوق
کہیں نہ خاطر معصوم پر گراں گزرے

ہر اک مقام محبت بہت ہی دل کش تھا
مگر ہم اہل محبت کشاں کشاں گزرے

جنوں کے سخت مراحل بھی تیری یاد کے ساتھ
حسیں حسیں نظر آئے جواں جواں گزرے

مری نظر سے تری جستجو کے صدقے میں
یہ اک جہاں ہی نہیں سینکڑوں جہاں گزرے

ہجوم جلوہ میں پرواز شوق کیا کہنا
کہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے

خطا معاف زمانے سے بد گماں ہو کر
تری وفا پہ بھی کیا کیا ہمیں گماں گزرے

مجھے تھا شکوۂ ہجراں کہ یہ ہوا محسوس
مرے قریب سے ہو کر وہ نا گہاں گزرے

رہ وفا میں اک ایسا مقام بھی آیا
کہ ہم خود اپنی طرف سے بھی بد گماں گزرے

خلوص جس میں ہو شامل وہ دور عشق و ہوس
نہ رائیگاں کبھی گزرا نہ رائیگاں گزرے

اسی کو کہتے ہیں جنت اسی کو دوزخ بھی
وہ زندگی جو حسینوں کے درمیاں گزرے

بہت حسین مناظر بھی حسن فطرت کے
نہ جانے آج طبیعت پہ کیوں گراں گزرے

وہ جن کے سائے سے بھی بجلیاں لرزتی تھیں
مری نظر سے کچھ ایسے بھی آشیاں گزرے

مرا تو فرض چمن بندی جہاں ہے فقط
مری بلا سے بہار آئے یا خزاں گزرے

کہاں کا حسن کہ خود عشق کو خبر نہ ہوئی
رہ طلب میں کچھ ایسے بھی امتحاں گزرے

بھری بہار میں تاراجی چمن مت پوچھ
خدا کرے نہ پھر آنکھوں سے وہ سماں گزرے

کوئی نہ دیکھ سکا جن کو وہ دلوں کے سوا
معاملات کچھ ایسے بھی درمیاں گزرے

کبھی کبھی تو اسی ایک مشت خاک کے گرد
طواف کرتے ہوئے ہفت آسماں گزرے

بہت حسین سہی صحبتیں گلوں کی مگر
وہ زندگی ہے جو کانٹوں کے درمیاں گزرے

ابھی سے تجھ کو بہت ناگوار ہیں ہمدم
وہ حادثات جو اب تک رواں دواں گزرے

جنہیں کہ دیدۂ شاعر ہی دیکھ سکتا ہے
وہ انقلاب ترے سامنے کہاں گزرے

بہت عزیز ہے مجھ کو انہیں کیا یاد جگرؔ
وہ حادثات محبت جو نا گہاں گزرے

غزل: نذرِ جگر مراد آبادی

ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی

’’اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گذرے‘‘
تو میری شامِ طرب اور پھر کہاں گذرے

کروں تو کس سے کروں گفتگوئے راز و نیاز
دیارشوق سے اُن کا جو کارواں گذرے

جلو میں اپنے لئے شوخئ بہارِ چمن
وہ گلعذار جب آئے تو گلفشاں گذرے

شمیمِ زلف سے اُن کی فضا تھی عطر بدوش
مشامِ جاں تھی معطر جہاں جہاں گذرے

خمارِ خواب سے بیدار ہو گئیں آنکھیں
وہ میرے کوچۂ دل سے جو ناگہاں گذرے

خرامِ ناز تھا غارتگرِ سکوں اُن کا
جو اُن کی راہ سے گذرے وہ نیم جاں گذرے

غزل سرائی میں ہے پیروِ جگر برقی
نہ اِس کا طرز کسی کو کبھی گراں گذرے

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close