غزل

ایک فی البدیہہ غزل مسلسل: نذرِ صوفی غلام مصطفی تبسم

احمد علی برقی اعظمی

وہ ہیں آج بالائے بام اللہ اللہ

مئے عشق کا لے کے جام اللہ اللہ

مجھے کردیا خود سے بیخود انھوں نے

نگاہوں سے دے کر پیام اللہ اللہ

یہ میرے لئے مژدۂ جانفزا ہے

ملیں گے وہ اب صبح و شام اللہ اللہ

نہ ہوگا تمہیں تشنہ کامی کا شکوہ

وہ دے کر گئے یہ پیام اللہ اللہ

رہیں اپنے وعدے پہ ثابت قدم وہ

رہے ان کا لطفِ دوام اللہ اللہ

جو سنتے نہ تھے میری عرض تمنا

وہ لیتے ہیں اب میرا نام  اللہ اللہ

مرے خانۂ دل میں ہیں جلوہ فرما

جو ہیں مثلِ ماہِ تمام اللہ اللہ

تھا اب تک گرفتار زلفوں میں جن کی

وہ ہیں اب مرے زیر دام اللہ اللہ

کہاں میں کہاں اُن کی برقیؔ نوازی

وہ کرتے ہیں مجھ کو سلام اللہ اللہ

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close