غزل

ایک فی البدیہہ موضوعاتی طرحی غزل

احمد علی برقی اعظمی

جب بھی لکھنا ہو تمہیں صرف حقیقت لکھنا
تم ریاکاری کو ہرگز نہ عبادت لکھنا

اے مورخ رہے ملحوظ قلم کی حُرمت
میرے حالات کو افسانۂ عبرت لکھنا

جس سے وہ صفحۂ تاریخ کی زینت بن جائے
ہو بہو جیسی ہو جس کی وہی صورت لکھنا

ناگہاں موت قیامت سے نہیں کم ہوتی
تم فسادات کو آثارِ قیامت لکھنا

آج ہیں نذرِ فسادات جہاں بھی مظلوم
تم اسے اہلِ حکومت کی شرارت لکھنا

امن کے نام پہ جو جنگ کو دیتے ہیں ہوا
اُن کے اطوار کو شیطان کی خصلت لکھنا

جیسے پہلے تھے نہ ویسے رہے برقی اخبار
آج سب بھول گئے حرفِ صداقت لکھنا

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close