غزل

بتاؤ کیوں مُسکرا رہے ہو

تم آرہے ہو کہ جا رہے ہو

احمد علی برقیؔ اعظمی

تم آرہے ہو کہ جا رہے ہو
بتاؤکیوں مُسکرا رہے ہو

یہ کیسا جلوہ دکھا رہے ہو
نگاہ و دل میں سما رہے ہو

کرو گے کیا خاک خانۂ دل
نظر سے بجلی گرا رہے ہو

ملے گا کیا ایسا کرکے تم کو
کیوں مجھ کو ناحق ستا رہے ہو

ہے عارضی کر و فر تمہارا
یہ جشن جو تم منا رہے ہو

منائے گا خیر اپنی کب تک
جسے تم اب تک بچا رہے ہو

لہو پُکارے گا آستیں کا
جو قتل کرکے چھپارہے ہو

جہاں میں کردے گا تم کو رسوا
جو ظلم برقی پہ ڈھا رہے ہو

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close