غزل

بعد میں بات میری سی کیجے

پہلے میری برابری کیجے 

شاداب رضا صدیقی

بعد میں بات میری سی کیجے

پہلے میری برابری کیجے

ہم بُرے ہیں ! تباہ کر دینگے

آپ اچھوں سے دوستی کیجے

میں یہ اعلان عام کرتا ہوں

عشق مت کیجے! دلگی کیجے

ویسے سنئے ہر ایک کی باتیں

پر جو دل کو لگے سہی کیجے

آپ پر داغ ہی تو ہیں نہ ہم

اپنے داغوں میں کچھ کمی کیجے

آج یا کل جدا تو ہونا ہے

کیوں نہ یہ کام آج ہی کیجے

آپ کے بعد میں کدھر جاؤں

آپ ہی میری رہبری کیجے

آپ بدنام ہونا چاہتے ہیں ؟؟

آئیے ہم سے دوستی کیجے

دوسروں کو بھی بےوفا کہہ کر

دردِ شاداب میں کمی کیجے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close