غزل

بڑھتا جاتا ہے دردِ جگر کیا کروں

ہر دوا  ہو رہی بے اثر کیا کروں

سرفراز حسین فراز

( پیپل سانہ مرادآباد یو پی)

بڑھتا  جاتا ہے  دردِ  جگر  کیا کروں

ہر  دوا  ہو  ر ہی  بے اثر  کیا  کروں

میں نگاہوں کواپنی اؔدھر کیا کروں

دیکھتاہی نہیں وہ اِدھر  کیا کروں

حال  دل  کا سناٶں اسے کس طرح

بات  کرتا  ہے وہ مختصر کیا کروں

بن  تمھارے  اداسی ہے ہر سو صنم

اجڑا- اجڑا  ہے دل کا نگر کیا کروں

بےوفائی نہیں ہوتی مجھسےکبھی

میں نےسیکھا نہیں یہ ہنرکیاکروں

جس کی خاطر تڑپتا ہے دیوانہ دل

اسکی ملتی نہیں اب خبرکیاکروں

ہرقدم پر ضرورت ہے تیر ی مجھے

تنہا کٹتا  نہیں ا ب سفر کیا کروں

بوجھ مہنگائی کا بڑھ گیااس قدر

ٹوٹی جاتی ہےمیری کمر کیا کروں

عشق ہوجائےنہ ان سےمجھکوفراز

انکی جانب ہی جائےنظرکیا کروں

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close