غزل

بڑھتی جاتی ہے بے کلی کچھ سوچ

فوزیہ ربابؔ

بڑھتی جاتی ہے بے کلی کچھ سوچ

ہو گئی کیسی زندگی کچھ سوچ

چہرہ اتنا اداس کیوں کر ہے

کھو گئی کیوں شگفتگی کچھ سوچ

اس قدر نعمتوں کے بدلے میں

اتنی تھوڑی سی بندگی؟ کچھ سوچ

اے مرے جلد باز ٹھیر ذرا

آ یہاں بیٹھ دو گھڑی کچھ سوچ

جیل میں قید میرے سارے سکھ

ہو گئے دکھ سبھی بری کچھ سوچ

کیا یہی بات تھی ترے دل میں؟

کون کرتا ہے مخبری؟ کچھ سوچ

مل بھی جائیں یہاں تو حاصل کیا

زندگی تو ہے عارضی کچھ سوچ

میں کہاں تک تجھے مناؤں گی

ٹوٹ جاؤں نہ میں کبھی کچھ سوچ

میرے گھر میں نہیں ہے تو جب سے

کیوں ہے آباد بے گھری! کچھ سوچ

بن سنور کر بھی پھیکا پھیکا ہے

کتنی دل کش تھی سادگی کچھ سوچ

کچھ یقیناً سراغ پا لے گا

سوچ لے چاہے سرسری، کچھ سوچ

 شوق سے ساتھ چھوڑ دے لیکن

کیسے گزرے گی زندگی کچھ سوچ

 عشق کہتا ہے سوچنا کیسا

زور دیتی ہے آگہی کچھ سوچ

 اس طرح سے نہ کر نظر انداز

شاعری ہے ربابؔ کی کچھ سوچ

مزید دکھائیں

فوزیہ ربابؔ

نسوانی جذبات و احساسات کی پُر تاثیر عکاسی کرنے والی اور شاعری و نثر نگاری میں یکساں درک رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی شہزادیِ سخن محترمہ فوزیہ ربابؔ کا تعلق ہندوستان کے صوبہ گجرات کے دار الحکومت احمد آباد کے ایک معروف علمی و دینی گھرانے سے ہے. بچن ہی سے آپ کو شعر و ادب کے مطالعے کا شوق رہا ہے. آپ نے گجرات یونیورسی ٹی سے ایم اے اور بی ایڈ کی ڈگڑی حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلجزم کی ڈگری بھی حاصل کی ہے. طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر گوئی کی طرف راغب ہیں. شادی کے بعد 2010 سے گوا میں مقیم ہیں اور وہیں سے عالمی ادب میں اپنی منفرد اور معتبر شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہیں. سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے مختلف ذرائع سے آپ کا کلام پوری اردو دنیا میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے. آپ متعدد ادبی تنظیموں اور رسالوں وغیرہ سے وابستہ ہیں. اتنی کم عمری ہی میں کئی ایوارڈ و اعزاز سے نوازی جا چکی ہیں نیز پاکستان میں بھی آپ کے اعزاز میں مشاعرہ منعقد ہوچکا ہے. ہندوستان کے متعدد معیاری عالمی و کل ہند مشاعروں میں با وقار و کامیاب شرکت کر چکی ہیں. آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ "آنکھوں کے اُس پار" اکتوبر 2017 میں عرشیہ پبلیکیشنز دہلی سے شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور دوسرا مجموعہ زیرِ ترتیب ہے. آپ کی شاعری کی انتہائی دیدہ زیب اینڈرائڈ ایپ بھی تیار ہو چکی ہے جسے Play Store میں Foziya Rabab Poetry سے تلاش کر کے موبائیل میں انسٹال کر کے پڑھا جا سکتا ہے. آپ کی غزلیں جہاں احساسات و جذبات و دلکشی سے لبریز ہوتی ہیں وہیں آپ کی نظموں میں بلا کی روانی کے ساتھ زبان و بیان کی چاشنی اپنی الگ دل ربائی کی خوشبو لٹاتی ہے جن کو پڑھ کر قاری افکار و تخیل کی حسیں وادی میں گم سا ہو جاتا ہے.

متعلقہ

Close