غزل

بڑی بات ہے!

عائشہ عروج

آب زم زم تو پیتے سبہی لوگ ہیں

حوض کوثر سے پینا بڑی بات ہے

یوں تو گھر یہاں مکاں سب بناتے ھی ہیں

اس جھاں میں بنانا بڑی بات ہے

سبہی لوگ رکھتے ہیں پیسہ وقار

نرم لہجہ بھی رکھنا بڑی بات ہے

یوں تو قرآن پڑھتے سبھی لوگ ہیں

سینوں میں اپنے بسانا بڑی بات ہے

سبھی سر کو جھکاتےہیں رب کےحضور

سرکواپنے کٹانا بڑی بات ہے

دن خوشی اور غم کے ہیں سب کو نصیب

غم کو اپنے چھپانا بڑی بات ہے

ہاتھ ملاتے یہاں تو سبھی لوگ ہیں

دل سے دل کو ملانا بڑی بات ہے

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close