غزل

بیاباں سے مجھے شہرت ملی ہے

مری وحشت کو بھی عزت ملی ہے

جمال کاکویؔ

بیاباں سے مجھے شہرت ملی ہے

مری وحشت کو بھی عزت ملی ہے

کیا ہے میں نے جو صحرا نوردی

ہمارے کام کی اجرت ملی ہے

پریشاں خواب صحرے کامسافر

نگاہ شوق کو حیرت ملی ہے

فراق یار میں رونا عبادت

بہایااشق توراحت ملی ہے

تجھے کھویا نہیں ہے پا کے میں نے

بہار جاویداں قسمت ملی ہے

مقدر کے لکھے کو کون ٹالے

نگاہ یار میں چاہت ملی ہے

رخ جاناں کو دیکھے آنکھ بھر کے

کسی مشتاق کو مہلت ملی ہے؟

کسی کے عشق پہ پردا پڑا ہے

کسی کے آنکھ میں غیرت ملی ہے

نگاہ یار نے گھاٸیل کیا ہے

دل مجروح میں الفت ملی ہے

ترا غم ہے زمانے کا نہیں ہے

ترے غم میں بڑی برکت ملی ہے

میں آٸینہ بنا کر یکھتا ہوں

تری قدرت سےجو حکمت ملی ہے

تجھے بھی آٸینے میں دیکھتا ہوں

تری بخشی ہوٸ قدرت ملی ہے

سند لینا ہے مجھ کو زندگی سے

مجھے جینے کی جو مدت ملی ہے

جو ڈر جاتازمانہ مار دیتا

عطا رب کی جواں ہمت ملی ہے

کبھی ملتی تھی ان سے رہنماٸ

زبان شیخ سے حجت ملی ہے

میں واپس لوٹ کر گھر آگیا ہوں

وطن میرا مری جنت ملی ہے

فرشتے جن سبھی حیرت زدہ ہیں

زمیں کی خاک کو عظمت ملی ہے

جمال زخم کھانا مسکرانہ

دل صد چاک کو ندرت ملی ہے

مزید دکھائیں

جمال کاکویؔ

کاکو ہائوں پٹنہ

متعلقہ

Close